امریکا ایران فضائی حملے: آٹھویں رات، کویت میں اڈے نشانہ
news

امریکا ایران فضائی حملے: آٹھویں رات، کویت میں اڈے نشانہ

Editorial TeamJul 19, 2026 · 7:53 AM6 min read
کویت کے حملے کے بعد ایران پر امریکی حملے آٹھویں رات میں داخل ہو گئے۔
Editorial Team
Editorial Team
سینٹکام کے مطابق آبنائے ہرمز کی سکیورٹی، ایران کا کویت میں امریکی تنصیبات پر جوابی کارروائی کا دعویٰ

امریکا نے اتوار کی ابتدائی ساعات میں ایران پر فضائی حملوں کا ایک اور سلسلہ شروع کیا، جو لگاتار آٹھویں رات کی کارروائی ہے۔ اسی دوران ایران نے کہا کہ اس نے جوابی اقدام کرتے ہوئے کویت میں دو اڈوں پر امریکی فوجی اثاثوں کو نشانہ بنایا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق نئے حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے لیے ایران کی دھمکی دینے کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا اور اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کو ایک ایسے حملے کے بعد سزا دینا تھا جس میں دو امریکی اہلکار ہلاک ہوئے۔

دونوں جانب سے بڑھتے ہوئے حملوں نے آبنائے ہرمز کے گرد سلامتی سے متعلق خدشات میں اضافہ کر دیا ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک نہایت اہم راستہ ہے۔ کشیدگی اب محض سمندری دباؤ کے مقامات تک محدود نہیں رہی، بلکہ ایسے حملوں تک پھیل رہی ہے جن کے اثرات شہری خدمات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ ایران نے واشنگٹن پر ایک عبوری معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ دونوں فریق نئی کارروائیوں کے لیے جوابی اقدام اور بازدارندگی کو جواز کے طور پر پیش کر رہے ہیں، جس سے خطے کے اُن ممالک کی بے یقینی بڑھ گئی ہے جہاں امریکی افواج موجود ہیں۔

تازہ حملوں کے سلسلے کے اہم واقعات

  • ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی حملوں میں صوبہ ہرمزگان کے علاقے سیریک کے قریب مقامی وقت کے مطابق رات 1:30 بجے (ہفتہ 22:00 گرین وچ)، جزیرہ قشم پر تقریباً 3:38 بجے (اتوار 00:08 گرین وچ) اور دوبارہ 6:10 بجے (02:40 گرین وچ)، جبکہ صوبہ خوزستان میں شادگان کے نزدیک 5:55 بجے (02:25 گرین وچ) ایک مقام کو نشانہ بنایا گیا۔
  • مہر اور تسنیم کے مطابق ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور رہائشی یا تجارتی بنیادی ڈھانچے کو نقصان نہیں پہنچا۔
  • سینٹکام نے کہا کہ کارروائی میں ایرانی فوج کے ساحلی نگرانی اور فضائی دفاع کے مراکز، بحری صلاحیتوں اور میزائل و ڈرون ذخیرہ گاہوں کو ہدف بنایا گیا۔
  • تسنیم کے مطابق ایران کی فوج نے کویت میں العدیری کیمپ میں ایک امریکی گولہ بارود ڈپو اور علی السالم بیس پر پیٹریاٹ ریڈار اور ایئر ریڈار کو نشانہ بنایا۔

کشیدگی کے پس منظر میں کیا ہے

یہ تازہ حملے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی فوج نے کہا تھا کہ وہ جمعہ کو اردن میں ایک امریکی اڈے پر ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کے جواب میں کارروائی کر رہی ہے۔ امریکی بیان کے مطابق ان حملوں میں دو امریکی اہلکار ہلاک ہوئے، ایک لاپتہ ہوا اور چار اہلکاروں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ رپورٹنگ میں نقل کیے گئے امریکی اعداد و شمار کے مطابق فروری میں تنازع شروع ہونے کے بعد 16 امریکی اہلکار ہلاک اور 430 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

ابتدا میں لڑائی کا محور آبنائے ہرمز کے گرد دباؤ اور جوابی دباؤ تھا، تاہم ایرانی حکام اور سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق مہم کا دائرہ وسیع ہوتا گیا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر اس سے پہلے خبردار کر چکے ہیں کہ اگر امریکی حملے جاری رہے تو “ناقابلِ فراموش سبق” دیا جائے گا، جبکہ تہران امریکی حکمتِ عملی پر تنقید کے ضمن میں شہری نوعیت کی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کو بھی زیادہ نمایاں کر رہا ہے۔

ماضی کے خلیجی بحران یہ بھی بتاتے ہیں کہ جہاز رانی کی سلامتی کے معاملات کس طرح کویت کو امریکا اور ایران کی وسیع تر کشمکش میں کھینچ سکتے ہیں۔ 1980 کی دہائی کی “ٹینکر وار” کے دوران امریکا نے “آپریشن ارنیسٹ وِل” کے تحت کویتی ٹینکروں کو امریکی پرچم کے تحت لایا اور انہیں حفاظتی اسکواٹ فراہم کیا۔ بعد ازاں جب یو ایس ایس سیموئیل بی رابرٹس ایک ایرانی بارودی سرنگ سے ٹکرایا تو صورتحال بڑھی اور امریکا نے ایرانی افواج اور پلیٹ فارمز کے خلاف “آپریشن پریئنگ مینٹس” شروع کیا۔

سرکاری مؤقف، نقصان کی اطلاعات اور تردیدیں

سینٹکام نے اپنے عوامی پیغام میں کہا کہ یہ حملے “آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنے کے لیے” کیے گئے۔ دوسری جانب ایران کی فوج نے جوابی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس نے یہ اقدام “دشمن کی بار بار کی جارحیت کے جواب میں” کیا۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق بونجی ڈی سیلینیشن پلانٹ تباہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں تقریباً 10 ہزار افراد کو پانی کی فراہمی منقطع ہو گئی، جبکہ جزیرہ قشم پر ایک ڈی سیلینیشن پلانٹ کو نقصان پہنچنے کی اطلاع دی گئی۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ امریکا عبوری معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور “اب ان پر عمل نہیں کر رہا۔”

تسنیم کے مطابق قم، اراک اور بہبہان میں دھماکوں سے متعلق دعووں کی بعد میں مقامی حکام نے تردید کر دی، اور اراک کے گورنر نے کہا کہ صورتحال “بالکل معمول کے مطابق” ہے اور کسی حملے یا دھماکے کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔

کویت کے محاذ سے متعلق ایک پہلے بیان میں سینٹکام نے کہا تھا کہ ایران نے کویت کی طرف ایک بیلسٹک میزائل داغا جسے روک لیا گیا، اور اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا۔ الگ رپورٹنگ میں کویتی حکام اور کویت پیٹرولیم کارپوریشن کے حوالے سے بتایا گیا کہ کویت میں حملوں سے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا، جن میں پانی صاف کرنے کا ایک پلانٹ اور ایک تیل کی تنصیب شامل ہے۔

موجودہ صورتحال اور آگے کیا دیکھنا ہے

ایرانی حکام کے مطابق گزشتہ تین ہفتوں کے دوران امریکی حملوں میں کم از کم 50 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ ہفتہ کی رات دیر گئے ایران کے بھارت میں سفارت خانے نے بتایا کہ جنوبی ایران میں بندر خمیر پر جمعرات کے حملے میں ہلاک ہونے والے سات افراد میں دو بچیاں سوگند دردمند اور فاطمہ زہرا اکبری بھی شامل تھیں۔

مزید اطلاعات کی توقع ہے کیونکہ دونوں فریق آپریشنل تفصیلات جاری کر رہے ہیں اور خطے کی حکومتیں سلامتی پر اثرات کا جائزہ لے رہی ہیں۔ دستیاب معلومات میں تازہ رات بھر کے حملوں سے متعلق میدانِ جنگ کے دعووں کی آزادانہ تصدیق اور نقصان و ہلاکتوں کی مکمل تفصیل میسر نہیں تھی۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!