پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ: اردن کے ایئر بیس پر حملہ
news

پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ: اردن کے ایئر بیس پر حملہ

Editorial TeamJul 13, 2026 · 5:07 AM5 min read
اے آئی سے تیار کردہ نمائندہ تصویر: رات کے وقت ایک فوجی ایئر بیس کے بیرونی حصے میں دور دھواں، رپورٹ شدہ حملے کے دعوؤں کے پس منظر میں۔
Editorial Team
Editorial Team
آئی آر جی سی کے مطابق میزائل و ڈرون کارروائی امریکی حملوں کے جواب میں؛ کویت اور بحرین میں اہداف کا بھی ذکر

ایران کے اسلامی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے پیر کی صبح دعویٰ کیا کہ اس نے اردن کے پرنس حسن ایئر بیس میں ایندھن کے ڈپو اور گولہ بارود ذخیرہ کرنے کی تنصیبات کو نشانہ بنایا، اور کہا کہ حملے کے نتیجے میں متعلقہ تنصیبات میں آگ لگ گئی۔ پاسدارانِ انقلاب نے اسے خطے میں امریکی فوجی ڈھانچے کے خلاف جوابی کارروائی قرار دیا۔

اس اعلان سے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ ظاہر ہوتا ہے اور یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ امریکی فوجی اثاثوں کی میزبانی کرنے والے یا ان سے منسلک متعدد ممالک میں ایک وسیع تر، مربوط مہم چلائی جا رہی ہے۔ آئی آر جی سی کے مطابق یہ کارروائی اُن اقدامات کے جواب میں کی گئی جنہیں اس نے ایرانی ساحلی اڈوں اور متعلقہ انفراسٹرکچر کے خلاف حالیہ امریکی جارحیت قرار دیا۔ اس تناظر میں ایران کا امریکا کو منہ توڑ جواب دینے کا منصوبہ بھی زیرِ بحث رہا ہے۔

اہم پیش رفت

  • آئی آر جی سی کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق اس کی ایرو اسپیس فورس نے اردن کے پرنس حسن ایئر بیس میں “اہم اہداف” کو نشانہ بنایا، اور دعویٰ کیا کہ یہ اڈہ امریکی افواج کے لیے ایک “اہم مرکز” ہے۔

  • آئی آر جی سی نے کہا کہ حملے سے ایندھن ذخیرہ کرنے کے علاقوں اور اسلحہ خانوں میں آگ بھڑک اٹھی، اور اسے مبینہ امریکی حملوں کے براہِ راست جواب میں کیا گیا۔

  • پاسدارانِ انقلاب نے اس کارروائی کو اُس وسیع تر ایرانی ردِعمل کے “پہلے مرحلے” کا حصہ قرار دیا جو اس کے بقول حالیہ امریکی جارحیت کے جواب میں ہے، جس میں ایرانی ساحلی اڈوں اور جنوب میں مواصلاتی ڈھانچے پر فضائی حملے بھی شامل تھے۔

  • آئی آر جی سی کے مطابق کارروائی میں بیلسٹک میزائل اور ڈرون استعمال کیے گئے، اور خبردار کیا گیا کہ امریکا کی مزید “مخالفانہ” کارروائیوں کا جواب “زیادہ سخت اور زیادہ ہمہ گیر” ردِعمل کی صورت میں دیا جائے گا۔

  • اسی بیان میں ایران نے کہا کہ بری فوج کے دستوں نے امریکا سے منسلک دیگر اہداف پر بھی ڈرون حملے کیے، جن میں کویت میں پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام، ایک اسلحہ ڈپو اور ایک ریڈار مقام، جبکہ بحرین میں مواصلاتی اور ریڈار تنصیبات شامل ہیں۔

  • آئی آر جی سی نے کہا کہ “جوابی کارروائیاں” جاری ہیں اور مزید تفصیلات بعد کے بیانات میں فراہم کی جائیں گی۔

  • بیان میں حملے کے بعد گردش کرنے والی سیٹلائٹ تصاویر کا حوالہ بھی دیا گیا اور کہا گیا کہ ان میں پرنس حسن کی تنصیب پر نمایاں نقصان اور غیر معمولی سرگرمی/خلل دکھائی دیتا ہے۔

پس منظر اور سیاق

اپنے بیان میں آئی آر جی سی نے ان مبینہ حملوں کو آبنائے ہرمز کے اندر اور اس کے گرد سلامتی سے متعلق ایک وسیع تر تنازع سے جوڑا، جو ایک اسٹریٹجک سمندری گزرگاہ ہے۔ آئی آر جی سی کے مطابق کشیدگی اس کے بعد بڑھی جب ایرانی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں، اس کے بقول، غیر قانونی جہازرانی کے ذریعے “بحران پیدا کرنے کی کوششوں” کو ناکام بنایا۔

آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا کہ ایک بحری کارروائی کے بعد، جس میں اس کے مطابق دو جہازوں کو روکا گیا جو اپنے نظام بند کرکے غیر قانونی طور پر نقل و حرکت کر رہے تھے، امریکا نے ایرانی ساحلی اڈوں پر حملے کیے۔ پاسدارانِ انقلاب نے اپنے مبینہ میزائل اور ڈرون حملوں کو اسی کا براہِ راست جواب قرار دیا۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے وسیع تر پس منظر پر اسرائیلی حملوں پر عالمی ردعمل میں بھی اشارے ملتے ہیں۔

تفصیلات اور شواہد

آئی آر جی سی کے بیان کے مطابق پرنس حسن ایئر بیس پر حملہ اس کی ایرو اسپیس فورس نے کیا اور اس میں ایندھن کے ٹینکوں اور گولہ بارود سے متعلق ذخیرہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔ آئی آر جی سی نے اس کارروائی کو “انتہائی درستگی” کا حامل قرار دیا اور کہا کہ اس میں بیلسٹک میزائل اور ڈرون استعمال کیے گئے۔

اپنے پیغام میں آئی آر جی سی نے نظریاتی اندازِ بیان اختیار کیا اور امریکا کے لیے سخت الفاظ استعمال کیے۔ وائس آف اردو آئی آر جی سی کے عملیاتی دعوے اسی طرح نقل کر رہی ہے جیسے بیان میں آئے ہیں؛ فراہم کردہ مواد میں آزادانہ تصدیق، جانی نقصان کی معلومات اور نقصانات کی وسعت سے متعلق جائزہ شامل نہیں تھا۔

آئی آر جی سی نے یہ بھی کہا کہ اسی وقت ایرانی بری فوج کی ڈرون کارروائیاں کویت اور بحرین میں اُن اہداف کے خلاف کی گئیں جنہیں اس نے امریکا سے منسلک قرار دیا، اور مقامات کی فہرست یوں دی گئی:

  • کویت میں: پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام، ایک اسلحہ ڈپو اور ایک ریڈار مقام۔

  • بحرین میں: مواصلاتی اور ریڈار تنصیبات۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ حملے کے بعد سیٹلائٹ تصاویر گردش کر رہی ہیں جن میں پرنس حسن کی تنصیب پر “نمایاں نقصان اور خلل” دکھائی دیتا ہے، تاہم بیان میں نہ تصاویر فراہم کی گئیں اور نہ ہی کوئی تکنیکی تجزیہ پیش کیا گیا۔

موجودہ صورتحال اور آئندہ کے اقدامات

پیر کی صبح جاری آئی آر جی سی کے بیان کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ اس کے ردِعمل کا پہلا مرحلہ مکمل کر لیا گیا ہے اور مزید کارروائیاں جاری ہیں۔ اس نے خبردار کیا کہ اگر امریکا، اس کے بقول، اپنی مخالفانہ سرگرمیاں جاری رکھتا ہے تو جواب میں وسیع تر جوابی کارروائی کی جائے گی۔

فراہم کردہ مواد میں اردن، کویت، بحرین یا امریکا کی جانب سے ردِعمل سے متعلق کوئی اضافی سرکاری تفصیلات شامل نہیں تھیں، اور نہ ہی مبینہ حملوں یا نقصانات کی آزادانہ تصدیق پیش کی گئی۔ مزید معلومات، جن میں سرکاری ردِعمل اور زمینی سطح کے جائزے شامل ہوں، تاحال سامنے آنا باقی ہیں۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!