مشرقِ وسطیٰ سے امریکی افواج کا انخلا، جو کینٹ کا مطالبہ
news

مشرقِ وسطیٰ سے امریکی افواج کا انخلا، جو کینٹ کا مطالبہ

Editorial TeamJul 20, 2026 · 9:15 AM5 min read
کینٹ نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تہران کے ساتھ کشیدگی میں کمی کو ترجیح دے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کرے۔
Editorial Team
Editorial Team
ٹرمپ دور کے سابق انسدادِ دہشت گردی سربراہ کے مطابق ایران کا کردار مضبوط، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحالی پر زور

ٹرمپ انتظامیہ میں انسدادِ دہشت گردی کے سربراہ رہنے والے جو کینٹ نے واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ سے امریکی افواج واپس بلائے اور خطے میں قائم امریکی اڈے ختم کرے، ان کے بقول مہینوں کی کشیدگی نے ایران کی پوزیشن کو ایک بڑی علاقائی طاقت کے طور پر مزید مضبوط کیا ہے۔ کینٹ نے ہفتے کے روز لکھا کہ مزید تصادم کی صورت میں امریکی ہلاکتوں کا خطرہ بڑھے گا، خطہ غیر مستحکم ہوگا اور امریکی و عالمی معیشت کو نقصان پہنچے گا۔

کینٹ کے یہ تبصرے ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب اس تنازع میں امریکی فوجی نقصانات میں اضافہ رپورٹ ہوا ہے اور توانائی کی منڈیوں، خصوصاً بحری راستوں کی سلامتی کے بارے میں تشویش بڑھی ہے۔ ان کی اپیل امریکی حلقوں میں جاری اس بحث کو نمایاں کرتی ہے کہ آیا خطے میں مسلسل فوجی موجودگی ایران کے لیے بازدار ثابت ہوتی ہے یا اہلکاروں اور بنیادی ڈھانچے کو حملے کی زد میں لا کر امریکہ کی کمزوری بڑھاتی ہے۔

کینٹ کی تجویز کے اہم نکات

  • کینٹ نے کہا کہ امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ سے اپنے “فوجی، اڈے اور بحری دستے” ہٹانے چاہییں، ان کے مطابق امریکی تنصیبات “ذمہ داریاں” بن چکی ہیں اور “ماضی کی باقیات” ہیں۔
  • انہوں نے لکھا کہ “فوجی حل” موجود نہیں، اور خبردار کیا کہ دشمنی جاری رہی تو مزید امریکی جانی نقصان اور وسیع تر علاقائی عدم استحکام کا خطرہ ہے۔
  • ان کے بقول واشنگٹن کو تہران کے ساتھ تنازع ختم کرنے اور آبنائے ہرمز سے تیل اور مائع قدرتی گیس کی بلا رکاوٹ ترسیل بحال کرنے پر توجہ دینی چاہیے، جہاں سے عالمی ترسیلات کا لگ بھگ 20 فیصد گزرتا ہے۔
  • انہوں نے تجویز دی کہ امریکی انخلا کے ساتھ سفارتی سطح پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش کو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کے بدلے جوڑا جائے۔
  • کینٹ نے کہا کہ امریکی حکمتِ عملی میں ایسی تبدیلی ہونی چاہیے جو ان کے بیان کے مطابق ایران کے ایک بڑی علاقائی طاقت کے طور پر ابھرنے کی حقیقت کی عکاسی کرے۔

استعفیٰ اور جنگ پر وسیع تر تنقید

سابق گرین بیریٹ اور سی آئی اے کے نیم فوجی افسر جو کینٹ نے، جنہوں نے 11 جنگی دورے کیے، مارچ میں ایران کے ساتھ جنگ کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دیا تھا۔ اپنے استعفیٰ نامے میں انہوں نے لکھا کہ ایران امریکہ کے لیے کوئی فوری خطرہ نہیں اور ایک اور “کبھی نہ ختم ہونے والے” تنازع کے خلاف خبردار کیا جو ان کے بقول امریکی مفادات کی خدمت نہیں کرتا۔

عہدہ چھوڑنے کے بعد کینٹ مسلسل عوامی سطح پر جنگ کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے اسے امریکی تنازعات کے ایک وسیع تر سلسلے کا حصہ قرار دیا ہے جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ اسرائیل کی جانب سے لڑی گئی جنگوں کے مترادف ہیں، جن میں عراق اور شام کے تنازعات بھی شامل ہیں۔ کینٹ کے مطابق “افراتفری کی صورتحال” میں وہ فریق فائدہ اٹھاتا ہے جو نظم بحال کرے، اور انہوں نے اپنی تجویز کردہ واپسی کو پسپائی کے بجائے “اسٹریٹجک تطبیق” کا نام دیا ہے۔

کینٹ اس سے پہلے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کی قیادت کر چکے ہیں، جو گیارہ ستمبر کے بعد مختلف امریکی اداروں میں دہشت گردی کے خطرات کی ہم آہنگی اور تجزیے کا مرکزی ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے مارچ 2026 کے وسط میں استعفیٰ دیا جب ایران کی جنگ شدت اختیار کر رہی تھی۔

امریکی افواج کو پیچھے ہٹانے کی ان کی اپیل واشنگٹن میں ایک دیرینہ بحث سے جڑی ہے جو عراق اور افغانستان کے بعد مزید تیز ہوئی: آیا بیرونِ ملک پیشگی تعیناتی مخالفین کے لیے بازدار بنتی اور اتحادیوں کو اعتماد دیتی ہے، یا پھر یہ ایسی چنگاری ثابت ہوتی ہے جو کشیدگی کے امکانات بڑھا کر امریکہ کو طویل اور غیر واضح علاقائی جنگوں میں دھکیل دیتی ہے۔

Jeo Kent

جانی نقصان اور علاقائی جہاز رانی کو لاحق خطرات

کینٹ کے بیانات ایسے وقت سامنے آئے جب تنازع کے دوران امریکی اہلکاروں کی ہلاکتوں کی اطلاعات رپورٹ ہوئیں۔ اردن میں ایرانی حملے میں کم از کم دو امریکی فوجی مارے گئے، جبکہ عراق میں ایک اور اہلکار اس واقعے میں ہلاک ہوا جسے ایک گرائے گئے ایرانی ڈرون کے اسلحہ کی “کنٹرولڈ ڈیٹونیشن” قرار دیا گیا۔

ان واقعات کے بعد پانچ ماہ کے تنازع میں امریکی فوجی ہلاکتوں کی سرکاری طور پر تصدیق شدہ تعداد 17 تک پہنچ گئی، جبکہ 430 سے زائد اہلکار زخمی ہوئے۔ کینٹ کے مطابق خطے سے امریکی افواج ہٹانے سے ایران کے لیے ممکنہ اہداف کم ہوں گے اور ان کے خیال میں اس سے تہران کے پاس تجارتی جہاز رانی میں خلل ڈالنے اور پڑوسی ممالک پر حملوں کا جواز بھی کمزور پڑے گا۔

لڑائی کے بعد امریکہ کی فوجی موجودگی کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات متضاد رہے۔ انہوں نے رائٹرز کو بتایا کہ امریکہ ایران سے “کافی جلد” باہر ہو جائے گا، تاہم ساتھ ہی کہا کہ امن معاہدہ ہونے تک امریکی افواج اور اثاثے مشرقِ وسطیٰ میں موجود رہیں گے، اور اگر سفارت کاری ناکام ہوئی تو کشیدگی دوبارہ بڑھنے کی وارننگ بھی دی۔

رائٹرز کے مطابق بعض تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ میدانِ جنگ میں نقصان کے باوجود ایران اپنی جغرافیائی اہمیت اور آبنائے ہرمز کے گرد خطرات پر اثراندازی کے ذریعے دباؤ برقرار رکھ سکتا ہے، جو توانائی کی منڈیوں اور تجارتی جہاز رانی کے لیے ایک حساس نقطہ ہے۔

آگے کیا ہوگا

کینٹ کے تبصروں کے ساتھ کسی پالیسی تبدیلی کا اعلان نہیں کیا گیا، اور ان کی سفارشات امریکی حکمتِ عملی میں سرکاری تبدیلی کی نمائندگی نہیں کرتیں۔ تنازع بدستور جاری ہے اور امریکی جانی نقصان اور علاقائی سلامتی کے خطرات سے متعلق رپورٹیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔

کینٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ واشنگٹن تہران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کو ترجیح دے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی یقینی بنانے پر مرکوز مذاکرات کرے، جبکہ کسی بھی سفارتی ترغیب کو بحری راستوں کے تحفظ سے متعلق ٹھوس ضمانتوں سے مشروط رکھا جائے۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!