اہم پیش رفت
امریکا اور ایران نے اس ہفتے ایک نئے معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کا مقصد جاری تنازع کا خاتمہ، آبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی، اور مزید مذاکرات کے لیے ۶۰ روزہ جنگ بندی قائم کرنا ہے۔
ریپبلکن رہنماؤں نے معاہدے کے بعض حصوں کی سخت مخالفت کی ہے، جن میں پابندیوں کا اٹھایا جانا اور ایران کی تعمیرِ نو کے لیے ۳۰۰ ارب ڈالر کے فنڈ کی شق شامل ہے؛ بعض ناقدین نے اسے ممکنہ طور پر “دہائیوں کی بدترین خارجہ پالیسی غلطی” قرار دیا۔
ذرائع مواد میں نقل کردہ ایک رپورٹ کے مطابق یہ فریم ورک ایران کو منجمد اثاثوں تک دوبارہ رسائی، پابندیوں میں نرمی، اور آبنائے ہرمز کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی گنجائش دے سکتا ہے، جبکہ جوہری توانائی، میزائلوں، خطے میں اتحادی گروہوں اور طویل المدت نفاذ سے متعلق معاملات ابھی طے نہیں ہوئے۔
پوپ لیو چہاردہم نے پیر کو ایک پیغام میں معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے “مکالمے اور گفت و شنید میں صبر آزما کوشش کا حوصلہ افزا نتیجہ” قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ یہ مشرقِ وسطیٰ میں “باہمی اعتماد، سلامتی اور استحکام” کو مضبوط کرے گا۔
اس کے بعد ٹرمپ نے جمعرات کو ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں پوپ کے حامی الفاظ کو گردش میں لایا، ساتھ ہی یہ مؤقف اختیار کیا کہ معاہدہ تیل کی روانی بحال کرے گا اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے گا۔






