ایران پارلیمان کا اسلام آباد ایم او یو ختم، آبنائے ہرمز قانون
news

ایران پارلیمان کا اسلام آباد ایم او یو ختم، آبنائے ہرمز قانون

Editorial TeamJul 14, 2026 · 4:49 PM7 min read
ایران کی پارلیمنٹ فلور کا ایک منظر۔
Editorial Team
Editorial Team
امریکا سے کشیدگی کے پس منظر میں خصوصی کمیٹی اور آبنائے ہرمز سے متعلق قانون سازی کا مطالبہ

ایران کے تقریباً ۱۸۰ اراکینِ پارلیمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) عملاً ختم ہو چکی ہے، جبکہ انہوں نے “رہبرِ انقلابِ اسلامی” کی “شہادت” کے بدلے “خون کا انتقام” لینے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایرانی پارلیمان ایک خصوصی کمیٹی قائم کرے جو ایم او یو سے جڑی مذاکراتی سرگرمیوں اور معاہدات کا جائزہ لے اور اراکین کے بقول معاہدے کے انہدام کی نگرانی کرے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی فوجی حملوں میں ایک ہفتے کے دوران اضافہ ہوا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انقرہ میں نیٹو سربراہ اجلاس کے موقع پر کہا کہ جنگ بندی “ختم” ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا: “میں اب ان سے معاملہ نہیں کرنا چاہتا۔ میرے نزدیک تو یہ ختم ہے۔”

اراکینِ پارلیمان کا یہ اعلان ۱۷ جون کو طے پانے والی ۱۴ نکاتی جنگ بندی سے متعلق مفاہمت کے گرد سیاسی کشیدگی میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے، جو ذرائع کے مطابق کئی ماہ کی پاکستانی ثالثی کے بعد سامنے آئی تھی۔ چونکہ اس ایم او یو کو عسکری کشیدگی میں کمی، تیل سے متعلق اقدامات اور آبنائے ہرمز کی حیثیت سے جوڑا جاتا رہا ہے، اس لیے یہ بیان خطے میں عدم استحکام کے خطرات اور خلیجی آبی گزرگاہوں کے حوالے سے نئی محاذ آرائی کے امکانات کو اجاگر کرتا ہے۔

اس تنازع نے ایران کی سرکاری مذاکراتی اور سلامتی پالیسی پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ پارلیمان کے اراکین دفاعی نظریے سے متعلق نئی قانون سازی اور آبنائے ہرمز کی حکمرانی سے متعلق قانون کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ اعلیٰ ایرانی حکام واشنگٹن پر وعدہ خلافی کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کر رہے ہیں کہ ایران پر حملوں کے لیے اپنی سرزمین فراہم کرنے والے ممالک کو جائز ہدف سمجھا جا سکتا ہے۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق اراکینِ پارلیمان نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ “خون کے انتقام کے راستے میں کوشش، منصوبہ بندی اور عملی اقدامات” سے “ایک لمحے کے لیے بھی غفلت” نہیں برتیں گے۔ انہوں نے پارلیمانی صدرات سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے جو مذاکرات اور معاہدات کا جائزہ لے اور رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے مقرر کردہ شرائط پر عمل درآمد کی نگرانی کرے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اراکینِ پارلیمان ایسے قانون سازی اقدامات کو ترجیح دیں گے جن کا مقصد ایران کے دفاعی نظریے کو مضبوط بنانا ہے، اور آبنائے ہرمز کے “انتظام و حکمرانی” سے متعلق قانون منظور کیا جائے گا، جس سے اس اہم بحری گزرگاہ کے بارے میں پالیسی کو رسمی شکل دینے کی کوشش ظاہر ہوتی ہے۔

پارلیمانی اقدام ۱۷ جون کے ایم او یو کی متعدد امریکی خلاف ورزیوں کے دعووں کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ۷ جولائی کو واشنگٹن نے ایرانی تیل کی فروخت کی اجازت دینے والا لائسنس منسوخ کیا اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد ایرانی فوجی ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے۔

  • امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس نے ایران کے ۸۰ سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) کی ۶۰ سے زیادہ چھوٹی کشتیاں بھی شامل تھیں۔
  • ذرائع کے مطابق بعد ازاں ایرانی آئی آر جی سی بحریہ اور فضائی و خلائی فورس نے بحرین اور کویت میں امریکا کی ۸۵ فوجی تنصیبات پر حملے کیے۔
  • ایرانی حکام نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے دے گا، اسے جائز ہدف سمجھا جا سکتا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، جنہیں ذرائع کے مطابق تہران کا چیف مذاکرات کار قرار دیا گیا، نے امریکا پر “بڑی” خلاف ورزیوں کا الزام لگایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز میں “ایرانی ایڈجسٹمنٹس” کی خلاف ورزی کی، مزید حملوں کی دھمکیاں جاری رکھیں، تیل سے متعلق پابندیاں دوبارہ نافذ کیں اور لبنان کے خلاف اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ برقرار رہا۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت جون میں اس وقت دستخط ہوئی جب کئی ماہ تک پاکستان کی ثالثی کے ذریعے سفارتی کوششیں جاری رہیں۔ یہ معاہدہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف ۴۰ روزہ جنگی کارروائیوں کے بعد سامنے آیا، جس کا آغاز ۲۸ فروری کو ہوا تھا، اور اسی پس منظر میں بعد ازاں جنگ بندی سے متعلق انتظامات طے پائے۔

ایم او یو کو ۱۴ نکاتی مفاہمت قرار دیا گیا تھا جس کے تحت دونوں فریقوں نے “تمام محاذوں” پر فوجی کارروائیاں ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ اس میں آبنائے ہرمز پر ایران کی جانب سے جنگی حالات میں لگائی گئی پابندیوں کی معطلی، امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے اور منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی کی شقیں بھی شامل بتائی گئیں۔

معاہدہ طے پانے کے بعد کے عرصے میں ایرانی حکام مسلسل یہ الزام لگاتے رہے کہ واشنگٹن اپنی ذمہ داریوں پر عمل نہیں کر رہا۔ ذرائع کے مطابق مبینہ خلاف ورزیوں میں دوبارہ فوجی حملے، تیل کی فروخت سے متعلق لائسنس کی منسوخی اور لبنان کے خلاف اسرائیلی حملوں کا تسلسل شامل ہے، جن کے بارے میں ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ اس سے جنگ بندی کا فریم ورک کمزور ہوا۔

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز کہا کہ ایم او یو بحران کا شکار ہو چکا ہے اور واشنگٹن پر الزام لگایا کہ وہ معاہدے کو “منظم طریقے سے” توڑ رہا ہے۔ ایرانی حکام نے یہ بھی کہا کہ امریکا نے ایم او یو کے آرٹیکل پانچ—جس کا تعلق آبنائے ہرمز کے انتظام سے ہے—کے لیے مقرر ۳۰ روزہ نفاذی مدت کو اپنی طے شدہ مدت تک چلنے نہیں دیا۔

اسی پس منظر میں ایران کے سیاسی ادارے بیک وقت دو رخوں پر آگے بڑھتے دکھائی دیتے ہیں: وزارتِ خارجہ نے ذمہ داریوں کی تکمیل کو باہمی عمل داری سے مشروط قرار دیا ہے، جبکہ پارلیمان کے اراکین دفاعی پالیسی اور آبنائے ہرمز سے متعلق قانون سازی اور نگرانی کے اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے ایم او یو کو عملاً ختم قرار دے رہے ہیں۔

اراکینِ پارلیمان کے بیان میں جوابی کارروائی کا واضح عہد بھی شامل تھا۔ ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس میں کہا گیا: “ہم پارلیمانی مورچے میں یہ عہد کرتے ہیں کہ خون کے انتقام کے راستے میں کوششوں، منصوبہ بندی اور عملی اقدامات سے ایک لمحے کے لیے بھی غفلت نہیں برتیں گے۔”

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکا پر ایم او یو کی “صریح خلاف ورزی” کا الزام لگایا اور کہا کہ ۷ جولائی کے حملے، تیل سے متعلق پابندیوں کی بحالی اور لبنان میں اسرائیل کی جاری جنگ نے “جنگ کے خاتمے سے متعلق مفاہمت کے اہم اور بنیادی حصوں کو غیر مؤثر” بنا دیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے یہ ریمارکس بدھ کے روز انقرہ میں نیٹو سربراہ اجلاس کے دوران سامنے آئے، جہاں انہوں نے جنگ بندی کو “ختم” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا: “میں اب ان سے معاملہ نہیں کرنا چاہتا۔ میرے نزدیک تو یہ ختم ہے۔”

قالیباف نے امریکا کے بقول دباؤ پر مبنی ہتھکنڈوں کے جواب میں الگ سے خبردار کیا۔ ان کا کہنا تھا: “غنڈہ گردی اور بھتہ خوری کا دور ختم ہو چکا ہے،” اور انہوں نے کہا کہ ایران کو بلیک میل کرنے کی کوششیں نتیجہ خیز نہیں ہوں گی۔

بقائی نے کہا کہ جب تک واشنگٹن باہمی عمل داری کی پالیسی کی طرف واپس نہیں آتا، ایران ایم او یو کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرے گا، جس سے وزارتِ خارجہ کا مؤقف بھی اس دعوے کے ساتھ ہم آہنگ ہوتا ہے کہ معاہدے پر عمل درآمد کا ڈھانچہ ٹوٹ چکا ہے۔

ذرائع میں نقل کیے گئے بیان کے مطابق ایرانی اراکینِ پارلیمان اب امریکا کے ساتھ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو عملاً ختم سمجھتے ہیں اور پارلیمانی صدرات پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ایک خصوصی نگرانی کمیٹی قائم کرے جو مذاکرات، معاہدات اور آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی طے کردہ شرائط پر عمل درآمد کا جائزہ لے۔

اراکین کے ایجنڈے میں ایران کے دفاعی نظریے کو مضبوط بنانے سے متعلق قانون سازی کو ترجیح دینا اور آبنائے ہرمز کے انتظام و حکمرانی کے لیے قانون منظور کرنا بھی شامل ہے۔ دوسری جانب ایران کی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ امریکا کے باہمی عمل داری کی طرف لوٹنے تک ایران اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل جاری نہیں رکھے گا، جبکہ حکام کا مؤقف ہے کہ ایم او یو کی بعض شقوں—خصوصاً آرٹیکل پانچ کے شیڈول—کو طے شدہ طریقے کے مطابق آگے بڑھنے نہیں دیا گیا۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!