آبنائے ہرمز: امریکا کا ایران سے بحالیِ آمدورفت کا مطالبہ
news

آبنائے ہرمز: امریکا کا ایران سے بحالیِ آمدورفت کا مطالبہ

Editorial TeamJul 12, 2026 · 3:01 PM4 min read
اے آئی سے تیار کردہ نمائندہ تصویر: آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی، جہاں امریکا ایران سے ٹینکروں کے محفوظ اور بلا معاوضہ گزرنے کی یقین دہانی مانگ رہا ہے۔
Editorial Team
Editorial Team
واشنگٹن کا مؤقف: بغیر ٹول جہازرانی کی ضمانت اور ٹینکروں کی سلامتی پر واضح عہد

متعدد رپورٹس کے مطابق امریکا نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوامی طور پر اعلان کرے کہ آبنائے ہرمز جہازرانی کے لیے مکمل طور پر کھول دی گئی ہے اور اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ سے گزرنے والے ٹینکروں پر حملہ نہ کرنے کا عہد کرے۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کی سمندری راستے ہونے والی تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی تجارت کا تقریباً چوتھائی حصہ گزرتا ہے، اس لیے یہاں کسی بھی رکاوٹ کے عالمی اثرات فوری سامنے آ سکتے ہیں۔

یہ تنازع اس لیے اہم ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی پابندی یا حملہ عالمی توانائی کی ترسیل کو فوری طور پر متاثر کر سکتا ہے اور خطے میں کشیدگی بڑھا سکتا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق ۱۷ جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے مفہوم پر بھی اختلاف ہے، جبکہ ہفتے کے روز عمان میں نئے مذاکرات متوقع ہیں۔ ایران اور امریکا کے تناظر پر مزید کے لیے ایران کا امریکا کو منہ توڑ جواب دینے کا منصوبہ بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

اہم پیش رفت

  • امریکی حکام کے مطابق ایران کو عوامی طور پر یہ کہنا چاہیے کہ آبنائے ہرمز میں “ہر راستہ کھلا ہوگا” اور آمدورفت “بغیر ٹول” ہوگی، جیسا کہ وائس آف اردو میں شائع ہونے والے بیانات میں نقل کیا گیا۔

  • امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ ہفتے کے روز عمان میں مذاکرات کاروں کی ملاقات کے بعد ایران ایک بیان میں ان شرائط کو تسلیم کرے گا۔ ایک اہلکار نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے یہ مؤقف اختیار نہ کیا تو “ان کے لیے یہ اچھا دن نہیں ہوگا۔”

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو ٹروتھ سوشل پر کہا کہ بات چیت جاری رہے گی، تاہم ساتھ ہی خبردار بھی کیا کہ “سیز فائر ختم ہو چکا ہے!”

  • ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ تہران نے مذاکرات کے نئے دور کی درخواست کی تھی، اور کہا کہ جنگ بندی کی کسی بھی امریکی خلاف ورزی کا جواب “جوابی کارروائی” سے دیا جائے گا۔

  • ایرانی میڈیا کے مطابق وزیرِ خارجہ عباس عراقچی ہفتے کے روز علاقائی ثالثوں سے ملاقات کے لیے عمان جائیں گے۔

  • ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا کہ تہران “امریکیوں پر بدستور عدم اعتماد” رکھتا ہے اور “ایرانی قوم کبھی جبر کے آگے سر نہیں جھکائے گی۔”

پس منظر اور سیاق

امریکا اور ایران ۱۷ جون کو دستخط ہونے والی اس مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی مختلف تشریحات پیش کر رہے ہیں، جو آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق ہے۔ یہ اختلاف اس کے بعد مزید بڑھ گیا جب بدھ اور جمعرات کو دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر حملے کیے، اور اس سے پہلے واشنگٹن اور خلیجی ریاستوں نے تہران پر تین تجارتی جہازوں پر حملوں کی ذمہ داری عائد کرنے کے الزامات لگائے تھے۔

ایران نے ۲۸ فروری کو امریکا۔اسرائیل حملے کے بعد آبنائے ہرمز کو زیادہ تر جہازرانی کے لیے بند کر دیا تھا، اور اس کے بعد سے وہ اصرار کرتا رہا ہے کہ جہاز اس کی ہدایات پر عمل کریں اور نامزد کردہ بحری راستے استعمال کریں۔

تفصیلات اور شواہد

۱۷ جون کے ایم او یو کے تحت ایران نے ۶۰ روز کے لیے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ وہ “اپنی بہترین کوششوں کے ذریعے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے انتظامات” کرے گا، اور آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے پر عمان کے ساتھ مذاکرات کرے گا۔

امریکی حکام کا تازہ مطالبہ اس بات پر مرکوز ہے کہ ایران عوامی طور پر اعلان کرے کہ آبنائے ہرمز تمام راستوں سمیت مکمل طور پر کھلی ہے اور وہاں سے گزرنے پر کوئی ٹول نہیں ہوگا، نیز وہ اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے ٹینکروں پر حملہ نہ کرنے کا عہد بھی کرے۔ توانائی منڈیوں پر اس راستے کی اہمیت کے پس منظر میں بھارت کی روسی تیل کی وسیع درآمدات کے پیچھے والی رپورٹ بھی متعلقہ زاویہ فراہم کرتی ہے۔

موجودہ صورتحال اور اگلے اقدامات

جمعے تک امریکی حکام کا کہنا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ ہفتے کے روز عمان میں مذاکرات کے بعد ایران ایک بیان جاری کرے گا۔ فراہم کردہ مواد کے مطابق ایران نے تاحال امریکی شرائط کو عوامی طور پر تسلیم کرنے کی اطلاع نہیں دی۔

مزید وضاحت ہفتے کے روز عمان میں ہونے والی ملاقاتوں سے متوقع ہے، جن میں آبنائے ہرمز میں جہازرانی کی شرائط اور ٹینکروں کی سلامتی کے حوالے سے تہران کے کسی بھی سرکاری بیان کی صورت میں صورتحال واضح ہو سکے گی۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!