اہم پیش رفت
امریکی حکام کے مطابق ایران کو عوامی طور پر یہ کہنا چاہیے کہ آبنائے ہرمز میں “ہر راستہ کھلا ہوگا” اور آمدورفت “بغیر ٹول” ہوگی، جیسا کہ وائس آف اردو میں شائع ہونے والے بیانات میں نقل کیا گیا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ ہفتے کے روز عمان میں مذاکرات کاروں کی ملاقات کے بعد ایران ایک بیان میں ان شرائط کو تسلیم کرے گا۔ ایک اہلکار نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے یہ مؤقف اختیار نہ کیا تو “ان کے لیے یہ اچھا دن نہیں ہوگا۔”
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو ٹروتھ سوشل پر کہا کہ بات چیت جاری رہے گی، تاہم ساتھ ہی خبردار بھی کیا کہ “سیز فائر ختم ہو چکا ہے!”
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ تہران نے مذاکرات کے نئے دور کی درخواست کی تھی، اور کہا کہ جنگ بندی کی کسی بھی امریکی خلاف ورزی کا جواب “جوابی کارروائی” سے دیا جائے گا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق وزیرِ خارجہ عباس عراقچی ہفتے کے روز علاقائی ثالثوں سے ملاقات کے لیے عمان جائیں گے۔
ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا کہ تہران “امریکیوں پر بدستور عدم اعتماد” رکھتا ہے اور “ایرانی قوم کبھی جبر کے آگے سر نہیں جھکائے گی۔”






