ایران میں امریکی حملے: 38 ہلاک، چابہار بندرگاہ متاثر
news

ایران میں امریکی حملے: 38 ہلاک، چابہار بندرگاہ متاثر

Editorial TeamJul 17, 2026 · 7:26 PM7 min read
مصنوعی ذہانت نے چابہار بندرگاہ ایران کی نمائندہ تصویر بنائی
Editorial Team
Editorial Team
امریکہ کے حملوں میں ہرمزگان، بوشہر اور سیستان و بلوچستان میں انفراسٹرکچر کو نقصان، 400 سے زائد زخمی

ایران کی وزارتِ صحت نے جمعہ کو بتایا کہ جمعرات کی رات سے جمعہ کی صبح تک مختلف صوبوں میں ہونے والے امریکی حملوں کے نتیجے میں 38 افراد ہلاک اور 400 سے زائد زخمی ہوئے۔ حملے ہرمزگان، بوشہر، سیستان و بلوچستان، خوزستان اور لرستان میں مختلف مقامات پر کیے گئے، جبکہ ایرانی حکام کے مطابق شہری ڈھانچے کو نقصان پہنچا، جن میں پل اور چابہار کی شہید کلانتری بندرگاہ کی کچھ تنصیبات بھی شامل ہیں۔

یہ حملے خطے میں بڑھتی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں اور ایران میں ٹرانسپورٹ رابطوں، بندرگاہی سرگرمیوں اور بجلی کے نظام میں ممکنہ تعطل سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ جن علاقوں میں سڑکوں اور ریل کے ڈھانچے کو نقصان پہنچا، وہاں عوامی سلامتی کے لیے انتباہات جاری کیے گئے، جبکہ شدید گرمی کے دوران توانائی کے شعبے کو نقصان کی اطلاعات کے بعد وزارتِ توانائی نے بجلی بچانے کی اپیل کی۔

جمعہ کے حملوں سے متعلق اہم پیش رفت

  • وزارتِ صحت کے مطابق جمعہ کی صبح تک 38 اموات اور 400 سے زائد زخمی رپورٹ ہوئے، جن میں تین خواتین جاں بحق، 22 خواتین زخمی، 18 سال سے کم عمر ایک فرد جاں بحق اور 18 سال سے کم عمر نو افراد زخمی شامل ہیں۔ وزارت نے بتایا کہ 47 افراد اب بھی اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔
  • سیستان و بلوچستان میں چابہار کی شہید کلانتری بندرگاہ کے سمندری کنٹرول ٹاور کو جمعہ کی صبح تیسری بار نشانہ بنایا گیا اور یہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔
  • ہرمزگان میں ضلع خمیر کے چھ پلوں پر حملے ہوئے، صوبائی حکام نے شہریوں کو ہدایت کی کہ متاثرہ سڑکوں سے گریز کریں، متبادل راستے اختیار کریں اور ہنگامی خدمات کے لیے آمد و رفت کا راستہ کھلا رکھیں۔
  • گورنر بوشہر محمد مظفری کے مطابق چند گھنٹوں کے اندر صوبے پر دو حملے ہوئے، جن میں ایک شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

پس منظر اور تزویراتی اہمیت

رپورٹ کے مطابق یہ حملے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے منسوب ان بیانات کے بعد ہوئے جن میں ایرانی شہری ڈھانچے، بشمول پلوں اور بجلی گھروں، کو نشانہ بنانے کی بات کی گئی۔ ایران نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز "تاحکمِ ثانی" بند رہے گی اور کم از کم "خطے میں امریکی مداخلت کے خاتمے" تک اسے کھولا نہیں جائے گا، جس کے عالمی بحری راستوں پر بڑے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

چابہار ایران کی واحد گہرے پانی کی بندرگاہ ہے جسے بحیرہ عرب اور بحرِ ہند تک براہِ راست رسائی حاصل ہے، اور اس کے ذریعے سمندری آمد و رفت آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرسکتی ہے۔ اسے افغانستان اور وسطی ایشیا کے لیے تجارتی دروازہ بھی قرار دیا جاتا ہے، اور یہ بھارت کے تعاون سے ترقی پائی ہے، جس نے اس سہولت میں سرمایہ کاری پاکستان سے گزرے بغیر ایک متبادل راستے کے طور پر کی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے رسائی میں پابندیوں نے چابہار جیسے متبادل تجارتی راستوں کی اہمیت بڑھا دی ہے۔

رپورٹنگ کے مطابق تازہ کشیدگی گزشتہ ماہ طے پانے والی ایک عبوری جنگ بندی کے ٹوٹنے کے بعد بڑھی، جس کے بعد خطے میں کئی روز تک جوابی حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ امریکی حکام نے اس کارروائی کو آبنائے ہرمز کے قریب تجارتی جہاز رانی پر حملوں اور ہراسانی کے ردِعمل کے طور پر پیش کیا ہے، اور کہا ہے کہ مقصد ایران کی سمندری آمد و رفت کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت کم کرنا ہے۔

نقصانات کی تفصیلات اور سرکاری مؤقف

ایران کی وزارتِ توانائی نے شہریوں سے بجلی بچانے کی اپیل کی، کیونکہ جنوبی ایران میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ وزارت نے کہا کہ بعض علاقوں کو "شدید گرمی اور بجلی کے ڈھانچے پر حملوں" کا سامنا ہے، اور یہ بھی تسلیم کیا کہ فضائی حملوں سے بجلی کی تنصیبات کو نقصان پہنچا اور قومی گرڈ پر دباؤ بڑھا۔

ہرمزگان میں گورنر ہاؤس کے مطابق ضلع خمیر میں پلوں پر حملوں کے نتیجے میں سات افراد ہلاک اور نو زخمی ہوئے، جبکہ بندر عباس، بندر خمیر اور لار کو ملانے والے راستوں کے علاوہ لطیدان، کہورستان، کِشار اور گاؤں مارو سے گزرنے والی سڑکوں کو نقصان پہنچا۔ حکام کے مطابق بندر عباس سے لار تک بندر خمیر کے راستے شاہراہ پر جزوی ٹریفک بحال ہوئی، تاہم غیر ضروری سفر کی حوصلہ شکنی کی گئی۔

صوبائی حکام نے بندر عباس میں اللہ اکبر ہِل کے رہائشی علاقے پر حملے میں ایک ہلاکت اور آٹھ زخمیوں کی اطلاع بھی دی۔ اسی شہر میں آدھی رات کے فوراً بعد ایک علیحدہ حملہ ریلوے کی برانچ اسٹیشن پر ہوا، جس میں دو افراد زخمی ہوئے؛ حکام کے مطابق اسٹیشن رہائشی آبادی سے دور ہے اور بنیادی ڈھانچے کو محدود نقصان پہنچا۔

چابہار سے متعلق ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے بتایا کہ بندرگاہ کے برتھ، کارگو ہینڈلنگ کا سامان اور آپریشنل ڈھانچہ متاثر نہیں ہوا، جبکہ تکنیکی ٹیموں نے صورتحال کا جائزہ اور مقام کو محفوظ بنانے کا عمل شروع کر دیا تاکہ آپریشن دوبارہ شروع کرنے کی شرائط طے کی جا سکیں۔

خوزستان میں ڈپٹی گورنر ولی اللہ حیات کے مطابق اہواز کے اطراف کے علاقوں پر جمعرات کی رات حملے ہوئے اور نقصان کی نوعیت و حجم کی تفتیش جاری ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اہواز کے قریب پہلے ہونے والے حملوں کے بعد احتیاطاً شہید باقائی ہسپتال کو خالی کرایا گیا، جبکہ اہواز جندی شاپور یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے مطابق ہسپتال کو عارضی طور پر سروس سے باہر کر دیا گیا۔ لرستان میں ڈپٹی گورنر سعید پورعلی کے مطابق ضلع چیگنی کے ویسیان علاقے میں جمعہ کو حملہ ہوا، تاہم مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

وزارتِ صحت کے ترجمان حسین کرمانپور نے بتایا کہ جمعہ، 17 جولائی 2026 تک ہلاکتیں کم از کم 38 اور زخمی 400 سے زائد ہیں۔ ایران کی وزارتِ خارجہ نے شہری ڈھانچے پر حملوں کو سنگین جنگی جرائم قرار دیا اور علاقائی ممالک کو خبردار کیا کہ وہ اپنے علاقے یا فضائی حدود کو ایران پر حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔

ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ نے کارروائی کو دفاعِ ذات کے تحت حملے قرار دیا اور بتایا کہ ریڈار، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، فضائی دفاع اور ڈرون سے متعلق مقامات کو نشانہ بنایا گیا جو جہاز رانی اور علاقائی فورسز کے لیے خطرات سے جڑے تھے۔ امریکی مؤقف میں یہ بھی کہا گیا کہ چابہار کا ٹاور آبنائے ہرمز کے قریب حملوں میں سہولت کے لیے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) استعمال کر رہی تھی۔

موجودہ صورتحال اور آئندہ اقدامات

ایرانی حکام کے مطابق اہم مقامات پر نقصانات کا جائزہ اور حفاظتی جانچ جاری ہے، جن میں چابہار بندرگاہ کا علاقہ بھی شامل ہے، جہاں معائنے کے بعد کارگو کی لوڈنگ اور اَن لوڈنگ دوبارہ شروع ہونے کی توقع ہے۔ ہرمزگان میں حکام نے بدستور شہریوں کو ہدایت کی کہ وہ متاثرہ سڑکوں سے دور رہیں اور ٹرانسپورٹ روابط کی نگرانی کے دوران ہنگامی رسائی میں رکاوٹ نہ بنیں۔

ایران نے کہا ہے کہ اس نے جواب میں خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور ساز و سامان کو نشانہ بنایا، اور بتایا کہ جمعہ کو بحرین، کویت، شام اور عمان میں امریکی اثاثوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے۔ متعدد صوبائی انتظامیہ نے کہا کہ تازہ حملوں سے متعلق تحقیقات جاری ہیں اور مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!