نقصانات کی تفصیلات اور سرکاری مؤقف
ایران کی وزارتِ توانائی نے شہریوں سے بجلی بچانے کی اپیل کی، کیونکہ جنوبی ایران میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ وزارت نے کہا کہ بعض علاقوں کو "شدید گرمی اور بجلی کے ڈھانچے پر حملوں" کا سامنا ہے، اور یہ بھی تسلیم کیا کہ فضائی حملوں سے بجلی کی تنصیبات کو نقصان پہنچا اور قومی گرڈ پر دباؤ بڑھا۔
ہرمزگان میں گورنر ہاؤس کے مطابق ضلع خمیر میں پلوں پر حملوں کے نتیجے میں سات افراد ہلاک اور نو زخمی ہوئے، جبکہ بندر عباس، بندر خمیر اور لار کو ملانے والے راستوں کے علاوہ لطیدان، کہورستان، کِشار اور گاؤں مارو سے گزرنے والی سڑکوں کو نقصان پہنچا۔ حکام کے مطابق بندر عباس سے لار تک بندر خمیر کے راستے شاہراہ پر جزوی ٹریفک بحال ہوئی، تاہم غیر ضروری سفر کی حوصلہ شکنی کی گئی۔
صوبائی حکام نے بندر عباس میں اللہ اکبر ہِل کے رہائشی علاقے پر حملے میں ایک ہلاکت اور آٹھ زخمیوں کی اطلاع بھی دی۔ اسی شہر میں آدھی رات کے فوراً بعد ایک علیحدہ حملہ ریلوے کی برانچ اسٹیشن پر ہوا، جس میں دو افراد زخمی ہوئے؛ حکام کے مطابق اسٹیشن رہائشی آبادی سے دور ہے اور بنیادی ڈھانچے کو محدود نقصان پہنچا۔
چابہار سے متعلق ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے بتایا کہ بندرگاہ کے برتھ، کارگو ہینڈلنگ کا سامان اور آپریشنل ڈھانچہ متاثر نہیں ہوا، جبکہ تکنیکی ٹیموں نے صورتحال کا جائزہ اور مقام کو محفوظ بنانے کا عمل شروع کر دیا تاکہ آپریشن دوبارہ شروع کرنے کی شرائط طے کی جا سکیں۔
خوزستان میں ڈپٹی گورنر ولی اللہ حیات کے مطابق اہواز کے اطراف کے علاقوں پر جمعرات کی رات حملے ہوئے اور نقصان کی نوعیت و حجم کی تفتیش جاری ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اہواز کے قریب پہلے ہونے والے حملوں کے بعد احتیاطاً شہید باقائی ہسپتال کو خالی کرایا گیا، جبکہ اہواز جندی شاپور یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے مطابق ہسپتال کو عارضی طور پر سروس سے باہر کر دیا گیا۔ لرستان میں ڈپٹی گورنر سعید پورعلی کے مطابق ضلع چیگنی کے ویسیان علاقے میں جمعہ کو حملہ ہوا، تاہم مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
وزارتِ صحت کے ترجمان حسین کرمانپور نے بتایا کہ جمعہ، 17 جولائی 2026 تک ہلاکتیں کم از کم 38 اور زخمی 400 سے زائد ہیں۔ ایران کی وزارتِ خارجہ نے شہری ڈھانچے پر حملوں کو سنگین جنگی جرائم قرار دیا اور علاقائی ممالک کو خبردار کیا کہ وہ اپنے علاقے یا فضائی حدود کو ایران پر حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ نے کارروائی کو دفاعِ ذات کے تحت حملے قرار دیا اور بتایا کہ ریڈار، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، فضائی دفاع اور ڈرون سے متعلق مقامات کو نشانہ بنایا گیا جو جہاز رانی اور علاقائی فورسز کے لیے خطرات سے جڑے تھے۔ امریکی مؤقف میں یہ بھی کہا گیا کہ چابہار کا ٹاور آبنائے ہرمز کے قریب حملوں میں سہولت کے لیے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) استعمال کر رہی تھی۔