ڈی این اے ٹیسٹ سے میناب اسکول کے 32 شہید طلبہ کی شناخت
news

ڈی این اے ٹیسٹ سے میناب اسکول کے 32 شہید طلبہ کی شناخت

Editorial TeamJul 21, 2026 · 6:50 PM3 min read
AI سے تیار کردہ نمائندہ تصویر۔ ایران کے شہر میناب میں شجرہ طیبہ اسکول کے ملبے کا منظر، جہاں ڈی این اے ٹیسٹوں نے امریکی فضائی حملے میں 32 طلبہ کی شناخت کی تصدیق کی۔
Editorial Team
Editorial Team
شجرہ طیبہ اسکول سے 62 جسمانی ٹکڑے برآمد، لاپتہ بچے مکاں نصیری کی تلاش جاری

صوبہ ہرمزگان کے ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹنگ کے ذریعے میناب میں امریکی فضائی حملے کے بعد اسکول کی جگہ سے ملنے والے 62 جسمانی ٹکڑوں کا تعلق 32 طلبہ سے ثابت ہوا ہے، جب کہ لاپتہ بچے مکاں نصیری کی تلاش تقریباً پانچ ماہ گزرنے کے باوجود بے نتیجہ جاری ہے۔ حکام نے منگل کو اعلان کیا کہ ملنے والی باقیات کو بدھ کو ہونے والی ایک تدفینی تقریب میں متاثرہ خاندانوں اور مقامی باشندوں کی موجودگی میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

شجرہ طیبہ اسکول میں جاری تلاش اور امدادی کارروائیاں اس فضائی حملے کے تباہ کن انسانی نقصان کو اجاگر کرتی ہیں، جس میں ایران کے خلاف 39 روزہ امریکی اسرائیلی فوجی مہم کے پہلے ہی دن 168 بچے اور اساتذہ ہلاک ہو گئے تھے۔ مکاں نصیری کا معاملہ، جس کی لاش وسیع تلاش کے باوجود نہیں مل سکی، علاقے میں غم اور مایوسی کا مرکز بن گیا ہے۔

تلاش اور امدادی کارروائیوں میں اہم پیش رفت

ہرمزگان کے عدالتی سربراہ مجتبیٰ قهرمانی نے منگل کو فارس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ امریکی میزائل اس عین مقام پر لگا جہاں حملے کے وقت مکاں نصیری موجود تھا۔ قهرمانی نے کہا، "متعدد ماہر ٹیموں کی مشترکہ کوششوں اور حالیہ ہفتوں میں میناب کے شجرہ طیبہ اسکول اور اس کے اطراف میں کی گئی کئی تلاشی کارروائیوں کے باوجود آج تک شہید مکاں نصیری کے جسم کا کوئی نشان نہیں مل سکا۔"

میناب کے گورنر محمد رادمہر نے تصدیق کی کہ 62 برآمد شدہ جسمانی ٹکڑوں کی ڈی این اے ٹیسٹنگ کے ذریعے حملے میں ہلاک ہونے والے 32 طلبہ کے طور پر شناخت ہوئی ہے۔ مکاں کے لیے ایک خالی قبر پہلے سے تیار کر لی گئی ہے، جب کہ اس کے ذاتی سامان میں خونی سویٹر اور ایک جوتا قریبی مسجد میں شیشے کے ڈسپلے کیس میں محفوظ کر دیے گئے ہیں۔

میناب اسکول حملے کا پس منظر

شجرہ طیبہ اسکول پر فضائی حملہ ایران کے خلاف 39 روزہ امریکی اسرائیلی فوجی جارحیت کے پہلے دن کیا گیا تھا۔ امریکہ نے ابتدا میں اس حملے کی ذمہ داری سے انکار کیا تھا لیکن بعد میں اسے "غلطی" قرار دیا۔ واشنگٹن نے متاثرہ خاندانوں سے باضابطہ معافی نہیں مانگی اور نہ ہی کوئی معاوضہ پیش کیا ہے۔ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ اسکول پر حملے میں تین درست نشانے والے ٹوماہاک میزائل استعمال کیے گئے تھے، جس میں 168 بچے اور اساتذہ ہلاک ہوئے۔

سرکاری بیانات اور تحقیقاتی نتائج

قهرمانی نے کہا کہ مختلف ٹیموں کی جانب سے کئی بار باریک بینی سے کی گئی ماہرانہ تلاش کے باوجود آج تک مکاں نصیری کے جسم کا کوئی حصہ برآمد نہیں ہو سکا۔ انہوں نے مزید کہا، "نتیجتاً، مختلف ٹیموں کی جانب سے کئی بار باریک بینی سے کی گئی ماہرانہ تلاش کے باوجود اس شہید کے جسم کا کوئی حصہ آج تک برآمد نہیں ہوا۔" اسکول کی جگہ اور آس پاس کے علاقوں میں تلاشی کارروائیاں مکاں کی باقیات تلاش کرنے کی امید میں جاری ہیں۔ امریکی حکومت نے ایرانی حکام اور متاثرہ خاندانوں کے احتساب اور معاوضے کے مطالبوں کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

موجودہ صورت حال اور اگلے مراحل

شناخت شدہ 32 طلبہ کی ملنے والی باقیات کو بدھ کو ایک تدفینی تقریب میں سپرد خاک کیا جائے گا، جس میں متاثرہ خاندانوں اور مقامی باشندوں کی شرکت متوقع ہے۔ شجرہ طیبہ اسکول اور قریبی علاقوں میں تلاشی کارروائیاں جاری ہیں اور حکام مکاں نصیری کی باقیات تلاش کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ حملے کے سلسلے میں امریکی حکام کی جانب سے مزید کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!