ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کی گرفتاری کی بات رد کر دی
news

ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کی گرفتاری کی بات رد کر دی

Editorial TeamJul 21, 2026 · 6:36 AM5 min read
نیویارک کے میئر ظہران مامدانی کا مشورہ ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو شہر کا دورہ کرنے پر انہیں جنگی جرائم کے الزام میں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
Editorial Team
Editorial Team
زوہران ممدانی کے آئی سی سی وارنٹ مؤقف پر نیویارک میں اقوام متحدہ اجلاس سے قبل قانونی اختیار کا جائزہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک کے میئر زوہران ممدانی کی اس تجویز کو رد کر دیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اگر نیویارک آئیں تو انہیں جنگی جرائم کے الزام میں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ نیتن یاہو کو امریکا میں "کسی بھی صورت، کسی بھی شکل میں" گرفتار نہیں کیا جائے گا۔

ٹرمپ نے یہ بیان پیر کے روز سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں دیا، جس میں انہوں نے ممدانی کا نام لیے بغیر ایران کے ساتھ امریکا کی جنگ کے دوران اسرائیل کی حمایت کا حوالہ دیا۔

یہ تنازع غزہ کی جنگ سے جڑی بین الاقوامی احتسابی کوششوں کے گرد بڑھتی ہوئی سیاسی اور قانونی کشیدگی کو نمایاں کرتا ہے، اور اس سوال کو بھی کہ امریکا میں مقامی حکام کے پاس بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹ کے حوالے سے عمل درآمد کا کتنا اختیار ہو سکتا ہے۔

یہ معاملہ ستمبر میں نیویارک میں ہونے والی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے قبل سامنے آیا ہے، جس میں نیتن یاہو عموماً شرکت کرتے ہیں اور جہاں یہ بحث براہ راست امریکی، اسرائیلی اور اقوام متحدہ کے حکام کے سامنے آ سکتی ہے۔

بیانات اور فوری ردِعمل

  • ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بنیامین نیتن یاہو کو امریکا میں گرفتار نہیں کیا جائے گا، نیویارک کے ممکنہ دورے پر جاری عوامی بحث کے تناظر میں یہ بات سامنے آئی۔
  • زوہران ممدانی نے کہا کہ ان کی انتظامیہ اب بھی اس امکان پر غور کر رہی ہے کہ اگر نیتن یاہو ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں آئیں تو گرفتاری ممکن ہو سکتی ہے یا نہیں۔
  • ہفتے کے روز شائع ہونے والے بیانات میں ممدانی نے کہا کہ ان کے خیال میں نیتن یاہو "ہیگ میں ہونے چاہییں" جو آئی سی سی کا صدر مقام ہے۔
  • اسرائیل نے ایکس پر ممدانی کے تبصروں کو مسترد کرتے ہوئے آئی سی سی کو "کینگرو کورٹ" قرار دیا اور وارنٹ کو "فرضی" کہا۔

قانونی اور سفارتی پس منظر

بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) جو 2002 میں نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کی سماعت کے لیے قائم کی گئی، نے 2024 میں بنیامین نیتن یاہو کے لیے گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا۔ اس وارنٹ میں غزہ کی جنگ سے متعلق جنگی جرائم کے الزامات کا حوالہ دیا گیا ہے۔

اسرائیل عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم نہیں کرتا، اور اسرائیل اور امریکا دونوں آئی سی سی کے رکن نہیں ہیں۔ امریکا میں نفاذ کا سوال خاص طور پر پیچیدہ ہے کیونکہ آئی سی سی یہاں داخلی قانون نافذ کرنے والا ادارہ نہیں، اور گرفتاری کا اختیار عموماً وفاقی، ریاستی اور مقامی اداروں کے پاس ہوتا ہے جو امریکی قانون کے تحت کام کرتے ہیں۔

زوہران ممدانی نے اس معاملے کو آئی سی سی وارنٹ کے نفاذ کے زاویے سے پیش کیا ہے، اور میئر کے انتخابی مہم کے دوران بھی خبردار کیا تھا کہ اگر نیتن یاہو نیویارک آئے تو وہ پولیس کو گرفتار کرنے کا حکم دیں گے۔

ممدانی کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب معاونین ستمبر کی جنرل اسمبلی کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ یہ وہ موقع ہوتا ہے جب دنیا بھر کے رہنما نیویارک میں جمع ہوتے ہیں اور پولیسنگ، سکیورٹی اور سفارتی حیثیت جیسے سوالات نمایاں ہو جاتے ہیں۔ آئی سی سی روم اسٹیچیٹ کے تحت معاہداتی عدالت ہے، اور اس کے وارنٹس پر عمل درآمد عموماً رکن ممالک کے تعاون سے ہوتا ہے، نہ کہ عدالت کے اپنے نفاذی ڈھانچے کے ذریعے۔

ممدانی کے مطابق شہر کیا کر سکتا ہے اور کیا نہیں

زوہران ممدانی کا کہنا ہے کہ انہیں تاحال یقین نہیں کہ کیا ان کے پاس یہ قانونی اختیار موجود ہے کہ وہ نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کو، جو ان کی نگرانی میں ہے، کسی غیر ملکی رہنما کو حراست میں لینے کی ہدایت دے سکیں۔ ان کے مطابق وہ شہر کے محکمہ قانون کے ساتھ اس بات پر "مسلسل گفتگو" کر رہے ہیں کہ کن اقدامات کی اجازت ہے۔

ممدانی نے کہا: "نیو یارک سٹی میں قانون مجھے جو کچھ کرنے کی اجازت دیتا ہے، ہم وہی کریں گے، مگر اس مقصد کے لیے ہم اپنے قوانین خود نہیں لکھیں گے۔"

دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ نے آئی سی سی کو کمزور کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں، جن میں ججوں، استغاثہ کے عہدیداروں اور اُن گروہوں کے خلاف پابندیاں بھی شامل ہیں جو اسرائیل پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کے تحت فیصلے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

20 جولائی 2026 کو ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ نیتن یاہو "امریکا میں کسی بھی صورت، کسی بھی شکل میں گرفتار نہیں ہوں گے"۔ ٹرمپ کے اقوام متحدہ میں سفیر مائیک والٹز نے بھی اس خیال کو تنقید کا نشانہ بنایا، اسے "خالص سیاسی ڈرامہ" قرار دیا اور کہا کہ "ایسا نہیں ہونے جا رہا"، ساتھ ہی امریکی مؤقف دہرایا کہ امریکا آئی سی سی کے فریم ورک کا فریق نہیں۔

MamMamdani said his administration is still considering whether to arrest Netanyahu should he attend the UNGA in New York in September [AI Image]

آگے کیا ہوگا

فی الحال کسی گرفتاری کے اقدام کا اعلان نہیں کیا گیا، اور زوہران ممدانی کے مطابق قانونی پہلو پر شہر کے محکمہ قانون کے ساتھ جائزہ جاری ہے۔ نیتن یاہو کا ممکنہ سفر ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے جڑا ہوگا، جب متعدد عالمی رہنما نیویارک آتے ہیں۔

ٹرمپ کے عوامی بیان سے وائٹ ہاؤس کا مؤقف واضح ہوتا ہے کہ نیتن یاہو کو امریکا کے کسی بھی دورے کے دوران حراست میں نہیں لیا جائے گا، جبکہ آئی سی سی کے اختیار اور نفاذ سے متعلق وسیع تر اختلافات کے جاری رہنے کا امکان ہے۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!