دونوں جانب سے دعوے اور جائزے
ایرانی میڈیا نے ایسی ویڈیو فوٹیج شائع کی جس کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ اردن میں امریکی المواقر فضائی اڈے پر میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی۔ دوسری طرف پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے تسنیم کے ذریعے جاری بیان میں کہا کہ اس نے اردن کے علاقے الازرق میں ایک امریکی اڈے پر لڑاکا طیاروں کے شیلٹرز اور بڑے پارکنگ ریمپ کو نشانہ بنایا، اور دعویٰ کیا کہ کم از کم دو امریکی جنگی طیارے اور تین دیگر طیارے تباہ ہوئے، جبکہ دیگر اثاثوں کو بھی نقصان پہنچا۔
نیویارک ٹائمز نے نام ظاہر نہ کرنے والے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایرانی فورسز کے پاس اب بھی وافر میزائل ذخائر موجود ہیں اور وہ امریکی فضائی دفاعی نظام سے بچ نکلنے کی صلاحیت میں زیادہ ماہر ہو گئی ہیں۔ اخبار کے مطابق کئی روز کے حملوں میں درجنوں امریکی اہلکار زخمی ہوئے اور متعدد ہیلی کاپٹروں کو نقصان پہنچا۔
ہفتے کے روز جاری ایک تحریری بیان میں ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ 17 جون کو دستخط ہونے والی چودہ نکاتی “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” پر ٹرمپ کے دستخط “بالکل بے وقعت اور غیر معتبر” ہیں، اور خبردار کیا کہ ایران کی مزید جوابی کارروائیاں بھی ہوں گی۔
17 جولائی 2026 کے ایک بیان میں سینٹکام نے کہا کہ اردن میں ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کے خلاف دفاع کے دوران دو امریکی اہلکار ہلاک ہوئے، ایک اہلکار کو لاپتہ قرار دیا گیا اور چار کو طبی بنیاد پر منتقل کیا گیا۔ “آپریشن ایپک فیوری” کے بارے میں سینٹکام کی ایک علیحدہ تازہ کاری میں کہا گیا کہ 2 مارچ (ای ٹی) تک چار امریکی اہلکار کارروائی میں ہلاک ہوئے تھے، اور بتایا گیا کہ چوتھا اہلکار بعد میں ایران کے ابتدائی حملوں میں آنے والی چوٹوں کی وجہ سے دم توڑ گیا۔