پینٹاگون: اردن و عراق میں ایرانی حملوں سے 4 امریکی ہلاک
news

پینٹاگون: اردن و عراق میں ایرانی حملوں سے 4 امریکی ہلاک

Editorial TeamJul 19, 2026 · 7:43 PM5 min read
پینٹاگون نے ایران کے حملوں میں چار امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جیسا کہ CENTCOM نے اردن کے میزائل ڈرون حملے اور عراق میں آرڈیننس دھماکے میں ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے۔
Editorial Team
Editorial Team
سینٹکام کے مطابق اردن میں میزائل و ڈرون حملہ، عراق میں ڈرون بارودی مواد ناکارہ بنانے کے دوران ہلاکت

امریکی فوج کے بیانات کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں امریکی ٹھکانوں پر ایرانی حملوں سے جڑے واقعات میں امریکی فوج کے چار اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا کہ جمعے کو اردن میں ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کے خلاف دفاع کے دوران امریکی اور شراکت دار افواج کی کارروائی میں تین اہلکار جان سے گئے۔ ایک چوتھا امریکی فوجی عراق میں اس وقت ہلاک ہوا جب مار گرائے گئے ایرانی یک طرفہ حملہ آور ڈرون سے حاصل کیے گئے ناکارہ مگر پھٹنے والے بارودی مواد کو کنٹرولڈ دھماکے کے ذریعے تلف کیا جا رہا تھا۔

ان ہلاکتوں کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان تازہ محاذ آرائی میں نمایاں شدت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ خطے میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات کا دائرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت سے واشنگٹن میں سیاسی سطح پر سوالات تیز ہونے اور مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک میں تعینات امریکی افواج کے لیے آپریشنل خدشات بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ دونوں فریق ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہے ہیں اور مزید اقدامات کے اشارے دے رہے ہیں۔

حالیہ حملوں کی اہم پیش رفت

  • سینٹکام کے مطابق جمعے کو اردن میں ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کے خلاف دفاع کے دوران تین امریکی اہلکار ہلاک ہوئے۔
  • امریکی فوج نے بتایا کہ عراق میں ایک امریکی اہلکار اس وقت ہلاک ہوا جب مار گرائے گئے ایرانی یک طرفہ حملہ آور ڈرون سے ملنے والا غیر پھٹا بارودی مواد کنٹرولڈ دھماکے سے تلف کیا جا رہا تھا۔
  • امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیٹھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ دو سروس ممبرز ہلاک ہوئے ہیں اور کہا کہ “ان کی قربانی ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہے۔”
  • صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیوزنیشن کے سوال پر ہلاکتوں کو “انتہائی افسوس ناک” قرار دیا اور اس مؤقف کو دہرایا کہ امریکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی “کبھی” اجازت نہیں دے گا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان وسیع تر محاذ آرائی

ایران نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملے کیے ہیں، جن میں کویت، بحرین، قطر، عمان، عراق اور شام کی تنصیبات شامل ہیں۔ تہران نے ان حملوں کو اس ردِعمل کے طور پر بیان کیا ہے جو اس ماہ کے اوائل میں جنگ بندی ٹوٹنے کے بعد ایرانی سرزمین پر امریکہ کی تازہ کارروائیوں کے جواب میں کیا گیا۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ تہران نے واشنگٹن کے ساتھ ساٹھ روزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں معطل کر دی ہیں۔ اسی ماہ ٹرمپ نے عارضی جنگ بندی کو “ختم” قرار دیتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ امریکی فوج آبنائے ہرمز کو “اپنے کنٹرول میں لے رہی ہے”، اور یہ کہ ایرانی بندرگاہوں اور بحری جہازوں کی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی گئی ہے۔

ایکسيوس کے مطابق حالیہ ہلاکتیں اس ماہ کے اوائل میں تنازع دوبارہ بھڑکنے کے بعد امریکی فوجیوں کی پہلی اموات ہیں، جبکہ اخبار کے مطابق فروری کے اواخر میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی مہم شروع ہونے کے بعد مجموعی امریکی ہلاکتیں سولہ تک پہنچ چکی ہیں۔

اردن پہلے بھی ایران کے ہم خیال عناصر سے منسوب مہلک حملوں کا مقام رہا ہے۔ 28 جنوری 2024 کو شام کی سرحد کے نزدیک ٹاور 22 نامی چوکی پر ڈرون حملے میں تین امریکی اہلکار ہلاک اور دیگر زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد خطے میں امریکی افواج کے تحفظ اور جوابی کارروائی پر بحث مزید نمایاں ہوئی تھی۔

دونوں جانب سے دعوے اور جائزے

ایرانی میڈیا نے ایسی ویڈیو فوٹیج شائع کی جس کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ اردن میں امریکی المواقر فضائی اڈے پر میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی۔ دوسری طرف پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے تسنیم کے ذریعے جاری بیان میں کہا کہ اس نے اردن کے علاقے الازرق میں ایک امریکی اڈے پر لڑاکا طیاروں کے شیلٹرز اور بڑے پارکنگ ریمپ کو نشانہ بنایا، اور دعویٰ کیا کہ کم از کم دو امریکی جنگی طیارے اور تین دیگر طیارے تباہ ہوئے، جبکہ دیگر اثاثوں کو بھی نقصان پہنچا۔

نیویارک ٹائمز نے نام ظاہر نہ کرنے والے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایرانی فورسز کے پاس اب بھی وافر میزائل ذخائر موجود ہیں اور وہ امریکی فضائی دفاعی نظام سے بچ نکلنے کی صلاحیت میں زیادہ ماہر ہو گئی ہیں۔ اخبار کے مطابق کئی روز کے حملوں میں درجنوں امریکی اہلکار زخمی ہوئے اور متعدد ہیلی کاپٹروں کو نقصان پہنچا۔

ہفتے کے روز جاری ایک تحریری بیان میں ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ 17 جون کو دستخط ہونے والی چودہ نکاتی “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” پر ٹرمپ کے دستخط “بالکل بے وقعت اور غیر معتبر” ہیں، اور خبردار کیا کہ ایران کی مزید جوابی کارروائیاں بھی ہوں گی۔

17 جولائی 2026 کے ایک بیان میں سینٹکام نے کہا کہ اردن میں ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کے خلاف دفاع کے دوران دو امریکی اہلکار ہلاک ہوئے، ایک اہلکار کو لاپتہ قرار دیا گیا اور چار کو طبی بنیاد پر منتقل کیا گیا۔ “آپریشن ایپک فیوری” کے بارے میں سینٹکام کی ایک علیحدہ تازہ کاری میں کہا گیا کہ 2 مارچ (ای ٹی) تک چار امریکی اہلکار کارروائی میں ہلاک ہوئے تھے، اور بتایا گیا کہ چوتھا اہلکار بعد میں ایران کے ابتدائی حملوں میں آنے والی چوٹوں کی وجہ سے دم توڑ گیا۔

موجودہ صورتحال اور آگے کیا ہوگا

امریکی حکام نے سینٹکام کے بیان اور عراق میں بارودی مواد تلف کرنے کی کارروائی میں ہلاکت کی رپورٹ کے علاوہ اردن اور عراق کے واقعات سے متعلق مزید آپریشنل تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ ایران کی عسکری اور سیاسی قیادت نے اشارہ دیا ہے کہ مزید حملے ممکن ہیں، جبکہ ٹرمپ نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے بارے میں اپنی انتظامیہ کے مؤقف کو دہرایا ہے۔ توقع ہے کہ دونوں جانب سے مزید بیانات اور نقصانات و جانی نقصان کے دعوؤں کے جائزے کے ساتھ نئی معلومات سامنے آئیں گی۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!