ایران کا امریکی اڈوں پر میزائل و ڈرون حملوں کا دعویٰ
news

ایران کا امریکی اڈوں پر میزائل و ڈرون حملوں کا دعویٰ

Editorial TeamJul 12, 2026 · 5:42 AM5 min read
یہ اے آئی سے تیار کردہ نمائندہ تصویر ہے جو ایران اور امریکا کے درمیان رپورٹ شدہ کشیدگی کے دوران خلیجی خطے کے ایک فوجی اڈے کی سکیورٹی دکھاتی ہے۔
Editorial Team
Editorial Team
آبنائے ہرمز کی کشیدگی میں اضافہ، سینٹکام نے جنوبی ایران پر کارروائی کا مؤقف دہرایا

ایران کی مسلح افواج کا کہنا ہے کہ تہران کے مطابق جنوبی ایران کے ساحلی علاقوں پر امریکی فضائی حملے دوبارہ شروع ہونے کے بعد اس نے خطے میں امریکی فوجی تنصیبات پر مربوط میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جن میں اردن، کویت، بحرین اور عمان میں موجود مقامات شامل ہیں۔ اسلامی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) اور ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے مزید کارروائی کی تو اس کے جواب میں زیادہ سخت ردِعمل دیا جائے گا۔

یہ پیش رفت آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی سمندری تجارت کا ایک نہایت اہم اور حساس گزرگاہ ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ آبی راستہ “تا حکمِ ثانی” بند کر دیا گیا ہے، جبکہ امریکی فوج کے مطابق وہ ایران کی آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی صلاحیت کم کرنے کے مقصد سے حملے کر رہی ہے—جس کے باعث امریکی افواج کی میزبانی کرنے والے متعدد ممالک سمیت پورے خطے میں عدم استحکام کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ اسی تناظر میں ایران کا امریکا کو منہ توڑ جواب دینے کا منصوبہ بھی زیرِبحث رہا ہے۔

اہم پیش رفت

  • ایرانی حملوں کی اطلاع: آئی آر جی سی کے مطابق اس کی ایرو اسپیس فورس نے اردن کے پرنس حسن ایئر بیس پر “اہم فوجی ڈھانچے” کو نشانہ بنایا، جسے اس نے جوابی کارروائی کے پہلے مرحلے کا حصہ قرار دیا۔

  • قطر کے اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ: آئی آر جی سی نے کہا کہ قطر میں امریکی العدید ایئر بیس پر بیلسٹک میزائل داغے گئے، اور دعویٰ کیا کہ وہاں لڑاکا طیاروں کی دیکھ بھال و مرمت کا مرکز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول مرکز تباہ کر دیا گیا۔

  • عمان کی بندرگاہ پر حملہ، آئی آر جی سی کا بیان: تیسرے مرحلے میں آئی آر جی سی کی ایرو اسپیس فورس کے مطابق عمان کی بندرگاہ دقم پر امریکی بحری جہازوں کے لیے لاجسٹک سپورٹ مراکز اور امریکی طیارہ بردار جہازوں کے لیے ایندھن کی فراہمی کے پلیٹ فارمز پر “بھاری” حملہ کیا گیا۔

  • کویت اور بحرین کی جانب ڈرون حملے، فوج کا دعویٰ: ایرانی فوج کے مطابق اس نے کویت اور بحرین میں امریکی تنصیبات کی طرف خودکش ڈرونز کی متعدد لہریں روانہ کیں۔

  • کویت میں اہداف کی تفصیل: ایرانی فوج نے کہا کہ اس کے ڈرونز نے کویت میں امریکی فوج کے زیرِ استعمال پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام، ایک اسلحہ گودام اور ایک ریڈار سائٹ کو نشانہ بنایا۔

  • بحرین میں اہداف کی تفصیل: ایرانی فوج کے مطابق ایک اور لہر میں بحرین میں امریکی فوجی مواصلاتی نظام اور ایک ریڈار سائٹ کو نشانہ بنایا گیا۔

  • آبنائے ہرمز میں واقعے کا دعویٰ: آئی آر جی سی نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں دوسری “خلاف ورزی کرنے والی کشتی” کو نشانہ بنا کر روک دیا گیا۔

  • ایران کے مطابق امریکی کارروائی: آئی آر جی سی کے بقول امریکا نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں میں “کئی ساحلی اڈوں اور ٹیلی کمیونیکیشن ٹاورز” پر فضائی حملے کیے۔

سیاق و سباق

یہ تبادلہ آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ آئی آر جی سی بحریہ اس سے قبل آبنائے ہرمز کی بندش کا اعلان کر چکی ہے اور کہہ چکی ہے کہ یہ راستہ “تا حکمِ ثانی” بند رہے گا، جب تک امریکا خطے میں اپنی مداخلت ختم نہیں کرتا۔

آئی آر جی سی کے مطابق امریکا نے آبنائے ہرمز کے جنوب میں متعدد جہازوں کی “غیر قانونی نقل و حرکت” کے ذریعے کشیدگی بڑھانے کی کوشش کی، اور عمانی حکومت پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش بھی کی۔ ایران کی بحریہ نے کہا کہ اس کوشش کو ناکام بنایا گیا، جسے آئی آر جی سی نے “فیصلہ کن ردِعمل” قرار دیا۔

تفصیلات اور شواہد

اتوار کی صبح جاری بیانات میں آئی آر جی سی نے خبردار کیا کہ امریکا کی “مسلسل جارحیت” کے جواب میں “مزید شدید ردِعمل” دیا جائے گا۔ ایک علیحدہ بیان میں ایرانی فوج نے بھی کہا کہ امریکی حملے دہرائے گئے تو جواب “مزید شدید” ہوگا، اور خطے میں “عدم تحفظ” کی ذمہ داری اس کے الفاظ میں “امریکی-صہیونی دشمن” پر عائد کی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا کہ اس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات پر حملے کیے، اور ان کا مقصد ایران کی آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی صلاحیت کم کرنا ہے۔ امریکی صدر سے متعلق دیگر پیش رفت کے لیے دیکھیے: ٹرمپ کا اعلان: امریکہ حکومت کا انٹیل میں 10 فیصد حصص کا حصول۔

سینٹکام کے اعلان سے کچھ دیر قبل، فارس نیوز ایجنسی کے مطابق، صوبہ بوشہر کے جنوبی بندرگاہی شہروں عسلویہ اور بندر دیّر کے رہائشیوں نے کئی دھماکوں کی آوازیں سنیں۔ دھماکوں کے درست مقامات کا فوری طور پر تعین نہیں ہو سکا۔

آئی آر جی سی نے ایک حالیہ “غیر معمولی جنازے کے جلوس” کا بھی حوالہ دیا، جس کے بارے میں اس نے کہا کہ اس میں “کروڑوں” افراد نے شرکت کی، اور دعویٰ کیا کہ عوامی عزم کا عکس اس کی فورسز کی کارروائی میں نظر آتا ہے۔

Current status and next steps

ایران نے اپنی کارروائی کو مرحلہ وار جوابی اقدام قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا جنوبی ایران پر اپنے بقول حملے جاری رکھتا ہے تو ردِعمل میں مزید شدت آئے گی۔ دوسری جانب سینٹکام کے ذریعے امریکا نے کہا ہے کہ اس کی کارروائی صدر ٹرمپ کے حکم پر کی گئی اور اس کی توجہ ایران کی آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی صلاحیت محدود کرنے پر مرکوز ہے۔

وائس آف اردو فراہم کردہ مواد کی بنیاد پر دونوں فریقوں کے آپریشنل دعوؤں، بشمول مخصوص اڈوں اور تنصیبات پر مبینہ نقصان، کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔ متعلقہ حکومتوں اور افواج کی جانب سے مزید سرکاری اپ ڈیٹس کا انتظار ہے۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!