آبنائے ہرمز بندش: آئی آر جی سی کا امریکا کو سخت پیغام
news

آبنائے ہرمز بندش: آئی آر جی سی کا امریکا کو سخت پیغام

Editorial TeamJul 12, 2026 · 5:35 AM4 min read
یہ ایک AI سے تیار کردہ نمائندہ تصویر ہے جو آبنائے ہرمز کے قریب ایک آئل ٹینکر کو جہاز رانی میں ممکنہ تعطل اور ایران امریکا کشیدگی کے تناظر میں دکھاتی ہے۔
Editorial Team
Editorial Team
امریکی مداخلت کے الزام اور عمانی ثالثی مذاکرات کے پس منظر میں کشیدگی بڑھ گئی

ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز جہازرانی کے لیے ‘اگلے حکم تک’ بند رہے گی اور یہ بندش اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک امریکا خطے میں اپنی مبینہ ‘غیرقانونی’ مداخلت ختم نہیں کرتا۔ یہ بیان ان رپورٹس کے تناظر میں سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا کہ امریکا اس اہم بحری راستے کو مکمل طور پر کھولنے کے لیے ایران پر دباؤ ڈال رہا ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین اور حساس آبی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ سے تجارتی جہازرانی اور علاقائی سلامتی فوری طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔ آئی آر جی سی کا یہ اعلان آبنائے میں ٹینکروں کو پیش آنے والے واقعات اور اس کے بعد ایران پر امریکی حملوں کے بعد بڑھتی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے، جب کہ عمان کی ثالثی کے ذریعے مذاکراتی رابطے بھی جاری ہیں۔ مزید پس منظر کے لیے ایران کا امریکا کو منہ توڑ جواب دینے کا منصوبہ بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

اہم پیش رفت

  • آئی آر جی سی نے کہا کہ آبنائے ہرمز بدستور بند رہے گی اور ‘کسی جہاز کو اس آبی راستے سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی’۔

  • آئی آر جی سی نیوی کے مطابق یہ بندش اس وقت تک جاری رہے گی جب تک خطے میں امریکا کی مداخلت، جسے اس نے مبینہ ‘غیرقانونی’ مداخلت قرار دیا، ختم نہیں ہو جاتی۔

  • یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اطلاعات کے مطابق امریکا نے ہفتہ کے روز عمان میں ثالثوں کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد ایرانی مذاکرات کاروں پر زور دیا کہ آبنائے کو تجارتی جہازرانی کے لیے مکمل طور پر کھلا قرار دیا جائے۔

  • آئی آر جی سی نیوی نے خبردار کیا کہ اگر ‘دشمن’ اس واقعے کو، جسے اس نے ‘اسی کی پیدا کردہ’ قرار دیا، مزید کارروائی کے لیے بہانہ بناتا ہے تو ایران بھرپور جواب دے گا اور ‘خطے میں دشمن کے اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا’۔

پس منظر اور سیاق

بدھ اور جمعرات کو امریکا نے ایران پر حملے کیے۔ یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں متعدد ٹینکروں کے پروجیکٹائل لگنے کے بعد سامنے آئی۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق ایران نے ٹینکروں پر حملوں کی ذمہ داری کا علانیہ طور پر دعویٰ نہیں کیا۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی اور ایران کے مؤقف سے متعلق مزید تفصیل کے لیے ایران کا اسرائیلی جارحیت کے خلاف غیر متزلزل موقف بھی قابلِ مطالعہ ہے۔

تفصیلات اور شواہد

اپنے بیان میں آئی آر جی سی نیوی نے کہا: ‘آبنائے ہرمز اگلے حکم تک اور خطے میں امریکی مداخلت کے خاتمے تک بند رہے گی۔ کسی جہاز کو اس آبی راستے سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔’

بیان میں مزید کہا گیا: ‘اگر دشمن اس واقعے کو، جو اس نے خود پیدا کیا، بہانہ بنا کر ایک اور غلطی کرتا ہے اور ہمارے خلاف جارحیت کی نئی کارروائی شروع کرتا ہے تو اسے طاقت کے ساتھ جواب دیا جائے گا، اور خطے میں دشمن کے اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔’

ایران ماضی میں کہہ چکا ہے کہ اس آبی راستے سے گزرنے والے جہازوں کو آئی آر جی سی کی ہدایات پر عمل کرنا ہوگا اور متعین کردہ شپنگ لین استعمال کرنا ہوگی۔

موجودہ صورتحال اور آئندہ کے مراحل

تازہ ترین بیان کے مطابق آئی آر جی سی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز جہازرانی کے لیے بدستور بند ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکا نے ہفتہ کے روز عمان کی ثالثی میں مذاکرات کے بعد اس بات کا اعلان چاہا کہ یہ راستہ تجارتی جہازرانی کے لیے مکمل طور پر کھلا ہے، تاہم اس کی کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی کہ ایسا کوئی معاہدہ طے پایا۔

آئندہ پیش رفت کا دارومدار ثالثوں کے ذریعے سفارتی رابطوں اور ایران و امریکا کی جانب سے مزید سرکاری اعلانات پر ہوگا۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!