آئی آر جی سی کا دعویٰ: بحرین و کویت میں امریکی مقامات پر حملے
news

آئی آر جی سی کا دعویٰ: بحرین و کویت میں امریکی مقامات پر حملے

Editorial TeamJul 20, 2026 · 4:26 PM5 min read
بحرین اور کویت امریکی فوج کی خلیجی پوزیشن کے لیے دیرینہ مرکز ہیں، بحرین امریکی بحریہ کے پانچویں بحری بیڑے کی موجودگی سے بڑے پیمانے پر منسلک ہیں اور کویت امریکی افواج کے زیر استعمال بڑے لاجسٹک نوڈس کی میزبانی کرتا ہے۔
Editorial Team
Editorial Team
ایران کے مطابق السخیر، پورٹ سلمان اور کیمپ عریفجان میں ڈرون و میزائل کارروائی، امریکی تنصیبات کو نقصان کا دعویٰ

ایران کی اسلامی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی بحریہ نے کہا ہے کہ اس نے بحرین اور کویت میں امریکہ سے منسلک تین مقامات پر بیک وقت حملے کیے ہیں۔ آئی آر جی سی کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے پیر کو جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی ایران کے خلاف امریکی جارحیت کے جواب میں کی گئی اور اس میں میزائلوں اور ڈرونز کی بوچھاڑ استعمال ہوئی، جس کے نتیجے میں خطے میں امریکی تنصیبات کو نمایاں نقصان پہنچا۔

اگر ان دعووں کی آزادانہ تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ ایران اور امریکہ کے درمیان حملوں کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں ایک نئی شدت کی علامت ہوگی، جسے ایرانی حکام امریکی فضائی کارروائیوں اور ان کے بعد مبینہ ایرانی جوابی اقدامات سے جوڑتے ہیں۔ یہ پیش رفت تہران اور واشنگٹن کے درمیان دوبارہ تیز ہوتے سیاسی بیانیے کے درمیان سامنے آئی ہے، جس سے ایک پہلے ہی نازک جنگ بندی اور کشیدگی ختم کرنے کے لیے طے پانے والی علیحدہ مفاہمتی دستاویز پر دباؤ بڑھنے کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔

آئی آر جی سی کے مطابق نشانہ بننے والے مقامات

  • السخیر ایئر بیس، بحرین: آئی آر جی سی کے مطابق امریکی افواج کے زیرِ استعمال ڈرونز کی دیکھ بھال اور مرمت کے ہینگرز کو نشانہ بنایا گیا، اور دعویٰ کیا گیا کہ یہ تنصیبات تباہ ہو گئیں۔
  • پورٹ سلمان، بحرین: آئی آر جی سی نے کہا کہ اس نے ٹاسک فورس 59 (ٹی ایف 59) کے جہازوں کی تیاری کے ہینگرز کو نشانہ بنایا اور جہازوں کو بھاری نقصان پہنچا۔
  • کیمپ عریفجان، کویت: آئی آر جی سی کے مطابق امریکی خصوصی بحری کمانڈو فورسز کی تعیناتی، معاونت اور سازوسامان کے لیے استعمال ہونے والی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، اور دعویٰ کیا گیا کہ مقامات میں آگ لگنے کے بعد وہ تباہ ہو گئے۔

آئی آر جی سی نے اس کارروائی کو بیک وقت کئی محاذوں پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد خطے میں امریکی افواج کو “بھاری ضربیں” لگانا تھا۔

موجودہ کشیدگی کیسے بڑھی

آئی آر جی سی کے بیان میں تازہ حملوں کو ایک وسیع تر تنازع سے جوڑا گیا ہے، جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ یہ اس وقت شروع ہوا جب امریکی فوج نے ایران پر مسلسل نو راتوں تک فضائی حملے کیے اور ایرانی مؤقف کے مطابق ان میں شہری مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ اسی بیان کے مطابق اس کے بعد ایرانی مسلح افواج نے مغربی ایشیا میں امریکہ کے “اسٹریٹجک” اہداف کے خلاف جوابی کارروائیاں کیں۔

بیان میں ایک ٹائم لائن بھی پیش کی گئی جس کے مطابق 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف ایک “غیر قانونی جنگِ جارحیت” شروع کی، اور اس کے چالیس دن بعد 8 اپریل کو جنگ بندی ہوئی۔ آئی آر جی سی کے مطابق 17 جون کو تہران اور واشنگٹن نے پاکستان کی ثالثی میں ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے جس کا مقصد مخاصمت ختم کرنا اور مزید مذاکرات کی راہ ہموار کرنا تھا، تاہم اس میں امریکہ پر معاہدے کی شقوں کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا گیا۔

بحرین اور کویت طویل عرصے سے خلیج میں امریکی فوجی حکمتِ عملی کے اہم مراکز سمجھے جاتے ہیں۔ بحرین کو عام طور پر امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کی موجودگی سے جوڑا جاتا ہے، جبکہ کویت میں امریکی افواج کے لیے رسد اور لاجسٹکس کے بڑے مراکز قائم ہیں۔ خلیج فارس کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے ایران اور امریکہ کی کشیدگی کے ادوار میں یہ تنصیبات اکثر مرکزِ نگاہ بنتی ہیں، اور میزبان ممالک میں خطرات کے ساتھ فضائی دفاعی تیاریوں میں اضافہ بھی دیکھا جاتا ہے۔

سرکاری بیانات اور سیاسی بیانیہ

آئی آر جی سی کے مطابق تازہ کارروائی اس بیان کے ایک دن بعد کی گئی جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران “تقریباً عسکری طور پر سب کچھ کھو چکا ہے” اور اس کے پاس “بہت کم” باقی ہے، جن میں محدود میزائل، ڈرونز اور تیاری کی صلاحیت شامل ہے۔ آئی آر جی سی نے اس تجزیے کو مسترد کرتے ہوئے اسے “لاعلمی اور ناقص فیصلہ سازی” کی علامت قرار دیا اور کہا کہ جب تک تنازع جاری رہے گا ایران کے میزائل اور ڈرون حملے بھی جاری رہیں گے۔

“امریکہ کے قاتل صدر کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر یہ جنگ برسوں بھی چلتی رہے تو ان شاء اللہ ہمارے میزائل اور ڈرون آخری دن تک امریکی مجرموں پر برستے رہیں گے،” آئی آر جی سی نے کہا۔

انادولو ایجنسی اور ایران سے ہم آہنگ ذرائع کی رپورٹس میں آئی آر جی سی کے حوالے سے بتایا گیا کہ کارروائی میں امریکی استعمال کے مقامات کے بنیادی ڈھانچے کو تقریباً بیک وقت میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔ ان رپورٹس میں کویت کے کیمپ عریفجان اور علی السالم ایئر بیس، اور بحرین کے جفیئر اور شیخ عیسیٰ ایئر بیس کے نام بھی شامل کیے گئے۔ تسنیم نے یہ دعویٰ بھی نقل کیا کہ 85 اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور ایک ایم کیو 9 ڈرون مار گرایا گیا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ میں اس واقعے کے دوران بحرین اور کویت میں فضائی دفاع کے فعال ہونے اور الرٹس جاری ہونے کا حوالہ دیا گیا، تاہم آئی آر جی سی کے بیان کردہ نقصان یا تباہی کے دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔

کیا معلوم ہے اور کیا واضح نہیں

آئی آر جی سی نے تین حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مقامات اور مبینہ اثرات کی تفصیل دی ہے، جن میں ہینگرز اور تنصیبات کی تباہی اور جہازوں کو نقصان کے دعوے شامل ہیں۔ بیان میں آزادانہ تصدیق، جانی نقصان کے اعداد و شمار یا موقع پر دستیاب جائزے پیش نہیں کیے گئے۔ بحرین، کویت اور امریکہ کے متعلقہ حکام کی جانب سے مزید معلومات شامل نہیں کی گئیں، جبکہ نقصان کی نوعیت اور کسی ممکنہ جوابی اقدامات کی تفصیلات کی مزید تصدیق کا انتظار ہے۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!