خطے میں کشیدگی اور ہدف بننے والے ممالک
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ایران نے اردن، کویت، بحرین، قطر، عمان، عراق اور شام میں امریکی فوجی تنصیبات اور اُن مقامات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے جہاں امریکی افواج موجود ہیں یا جنہیں وہ استعمال کرتی ہیں۔ تہران ان حملوں کو ایرانی سرزمین پر امریکا کی نئی کارروائیوں کے جواب کے طور پر بیان کرتا رہا ہے۔
اردن میں ایسی فوجی تنصیبات موجود ہیں جہاں سے امریکی جنگی طیارے معمول کے مطابق آپریشن کرتے ہیں، تاہم واشنگٹن اپنی افواج کے زیر استعمال تمام مراکز کی تفصیل عمومی طور پر جاری نہیں کرتا۔ ایسے انتظامات کی محدود عوامی معلومات کی وجہ سے کسی واقعے کی آزادانہ تصدیق مشکل ہو جاتی ہے، بالخصوص جب حکام گمنام رہ کر بات کریں اور حکومتیں آپریشنل تفصیلات روک لیں۔
ادھر اسلامی انقلابی گارڈز کور نے اسی ہفتے اردن اور کویت کے عوام سے ایک عوامی اپیل میں کہا کہ وہ اپنے ممالک کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے لانچ پیڈ بننے کی مخالفت کریں۔ پاسدارانِ انقلاب نے اردن کو مقدس سرزمین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے غیر ملکی افواج کی میزبانی نہیں کرنی چاہیے، اور امریکا کی فوجی موجودگی کے خلاف مزاحمت پر زور دیا۔
امریکی سلامتی شراکت دار کے طور پر اردن کا کردار اسے عراق اور شام سے جڑی کارروائیوں کے لیے اہم لاجسٹک اور تربیتی مرکز بناتا رہا ہے، خاص طور پر شام کی خانہ جنگی اور داعش کے عروج کے بعد۔ امریکی تعیناتیوں اور ایران کے علاقائی اتحادی نیٹ ورک کے باہمی اوورلیپ نے ماضی میں بھی ان علاقوں میں تناؤ پیدا کیا ہے جہاں دونوں فریق قریب فاصلے پر سرگرم رہتے ہیں۔
حالیہ حملے اردن میں اس سے پہلے کے ایک سرکاری طور پر تسلیم شدہ واقعے کے بعد سامنے آئے ہیں: 28 جنوری 2024 کو شام کی سرحد کے قریب ڈرون حملے میں تین امریکی فوجی ہلاک اور کم از کم 25 زخمی ہوئے تھے، جیسا کہ امریکی مرکزی کمانڈ نے اعلان کیا تھا۔ اس واقعے نے واضح کیا تھا کہ اردن میں یا اس کے قریب حملے بہت تیزی سے امریکا پر جوابی کارروائی کے دباؤ میں اضافہ کر سکتے ہیں۔