اردن میں ایرانی حملے: سی بی ایس رپورٹ کے مطابق امریکی فوجی زخمی
news

اردن میں ایرانی حملے: سی بی ایس رپورٹ کے مطابق امریکی فوجی زخمی

Editorial TeamJul 18, 2026 · 6:16 AM6 min read
جمعے تک، اردن میں امریکی اہلکاروں کے زخمی ہونے کی امریکی محکمہ جنگ کی طرف سے عوامی طور پر تصدیق نہیں کی گئی تھی، اور اہم تفصیلات بشمول حملوں کا صحیح وقت
Editorial Team
Editorial Team
امریکی حکام کے مطابق ایرانی حملوں میں امریکی تنصیبات متاثر، ایران امریکا کشیدگی برقرار

اردن میں رواں ہفتے کے آغاز میں ایرانی حملوں سے فوجی تنصیبات متاثر ہونے کے بعد چند امریکی فوجی زخمی ہوئے، سی بی ایس نیوز نے جمعے کو امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا جنہوں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔ حکام کے مطابق امریکی افواج کے زیر استعمال اردن کے کم از کم دو فوجی اڈے ان حملوں کی زد میں آئے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ کسی امریکی یا اردنی اہلکار کی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی، تاہم زخمیوں کی تعداد اور زخموں کی نوعیت سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

یہ اطلاعات ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ایران کی جانب سے متعدد ممالک میں امریکی وابستہ فوجی مقامات پر میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ تہران ان کارروائیوں کو ایرانی سرزمین پر امریکا کی تازہ کارروائیوں کے جواب کے طور پر پیش کرتا ہے۔

اس صورت حال نے خطے میں موجود اُن اڈوں پر تعینات اہلکاروں کی سلامتی کے بارے میں سوالات کو مزید نمایاں کر دیا ہے جو امریکی فضائی کارروائیوں اور دیگر فوجی سرگرمیوں کے لیے معاونت فراہم کرتے ہیں۔

تازہ ترین رپورٹ شدہ پیش رفت

  • امریکی محکمہ جنگ نے نہ تو ان زخمیوں کی تصدیق کی اور نہ ہی سی بی ایس کی رپورٹ پر عوامی طور پر کوئی ردعمل دیا۔
  • اردن میں ہفتے کے آغاز میں ہونے والے حملوں کے وقت اور نشانہ بننے والے مخصوص اڈوں کے بارے میں صورت حال واضح نہیں ہو سکی۔
  • جمعے کی شام امریکی مرکزی کمانڈ نے مسلسل ساتویں رات ایران کے خلاف حملے کیے، جس کے بعد ایرانی جوابی کارروائی کی ایک اور لہر سامنے آئی۔
  • ہفتے کی صبح ایرانی فوج نے بتایا کہ آپریشن لائٹننگ کے 14ویں مرحلے میں اردن کے الازرق ایئربیس پر ایندھن کے ٹینک، کویت کے الادیری کیمپ میں اسلحہ ڈپو، اور علی السالم ایئربیس پر ہیڈکوارٹر عمارتیں، اسلحہ ذخیرہ کرنے کی تنصیبات اور رابطہ پلوں کو نشانہ بنایا گیا۔

خطے میں کشیدگی اور ہدف بننے والے ممالک

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ایران نے اردن، کویت، بحرین، قطر، عمان، عراق اور شام میں امریکی فوجی تنصیبات اور اُن مقامات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے جہاں امریکی افواج موجود ہیں یا جنہیں وہ استعمال کرتی ہیں۔ تہران ان حملوں کو ایرانی سرزمین پر امریکا کی نئی کارروائیوں کے جواب کے طور پر بیان کرتا رہا ہے۔

اردن میں ایسی فوجی تنصیبات موجود ہیں جہاں سے امریکی جنگی طیارے معمول کے مطابق آپریشن کرتے ہیں، تاہم واشنگٹن اپنی افواج کے زیر استعمال تمام مراکز کی تفصیل عمومی طور پر جاری نہیں کرتا۔ ایسے انتظامات کی محدود عوامی معلومات کی وجہ سے کسی واقعے کی آزادانہ تصدیق مشکل ہو جاتی ہے، بالخصوص جب حکام گمنام رہ کر بات کریں اور حکومتیں آپریشنل تفصیلات روک لیں۔

ادھر اسلامی انقلابی گارڈز کور نے اسی ہفتے اردن اور کویت کے عوام سے ایک عوامی اپیل میں کہا کہ وہ اپنے ممالک کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے لانچ پیڈ بننے کی مخالفت کریں۔ پاسدارانِ انقلاب نے اردن کو مقدس سرزمین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے غیر ملکی افواج کی میزبانی نہیں کرنی چاہیے، اور امریکا کی فوجی موجودگی کے خلاف مزاحمت پر زور دیا۔

امریکی سلامتی شراکت دار کے طور پر اردن کا کردار اسے عراق اور شام سے جڑی کارروائیوں کے لیے اہم لاجسٹک اور تربیتی مرکز بناتا رہا ہے، خاص طور پر شام کی خانہ جنگی اور داعش کے عروج کے بعد۔ امریکی تعیناتیوں اور ایران کے علاقائی اتحادی نیٹ ورک کے باہمی اوورلیپ نے ماضی میں بھی ان علاقوں میں تناؤ پیدا کیا ہے جہاں دونوں فریق قریب فاصلے پر سرگرم رہتے ہیں۔

حالیہ حملے اردن میں اس سے پہلے کے ایک سرکاری طور پر تسلیم شدہ واقعے کے بعد سامنے آئے ہیں: 28 جنوری 2024 کو شام کی سرحد کے قریب ڈرون حملے میں تین امریکی فوجی ہلاک اور کم از کم 25 زخمی ہوئے تھے، جیسا کہ امریکی مرکزی کمانڈ نے اعلان کیا تھا۔ اس واقعے نے واضح کیا تھا کہ اردن میں یا اس کے قریب حملے بہت تیزی سے امریکا پر جوابی کارروائی کے دباؤ میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

دعوے، تردیدیں اور دستیاب اشارے

اسلامی انقلابی گارڈز کور نے جمعے کو دعویٰ کیا کہ اس نے اردن میں امریکی لڑاکا طیاروں اور ہوا میں ایندھن بھرنے والے طیاروں کو نشانہ بنایا، اور کویت میں امریکی افواج اور ہیمارس لانچر پر بھی حملہ کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے “نمایاں جانی نقصان اور تباہی” کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ کویت میں امریکی خصوصی دستوں کے “متعدد” اہلکار مارے گئے، تاہم پینٹاگون نے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی۔

پاسدارانِ انقلاب نے الگ سے یہ بھی کہا کہ ایرانی بیلسٹک میزائلوں نے اردن کے موفق السلتی ایئربیس پر موجود امریکی لڑاکا طیاروں کو نشانہ بنایا۔ اوپن سورس انٹیلی جنس اکاؤنٹس کے ذریعے گردش کرنے والی ویڈیو میں بظاہر کئی ایم آئی ایم 104 پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کو میزائلوں کے قریب آنے پر لانچ ہوتے دکھایا گیا، جس کے بعد کم از کم دو مبینہ اثرات نظر آئے۔ امریکا اور اردن، دونوں نے ان رپورٹ شدہ حملوں سے ہونے والے نقصان یا جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی۔

امریکی مرکزی کمانڈ نے شام سے متعلق ایران کے ایک اور دعوے کو بھی رد کیا اور جمعے کو کہا کہ خطے میں کوئی امریکی اہلکار “حالیہ دنوں میں ہلاک یا گرفتار” نہیں ہوا، یہ بیان التنف اڈے پر حملے سے منسلک ہلاکتوں کے الزامات کے بعد سامنے آیا۔

سی بی ایس نیوز نے متعدد امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایران نے اس ہفتے اردن میں کم از کم دو اڈوں پر حملہ کیا، اور ایک تنصیب کے نشانہ بننے پر چند امریکی فوجی زخمی ہوئے۔ سی بی ایس کے مطابق ان واقعات میں کسی امریکی یا اردنی کی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی۔

اس کے علاوہ، شمال مشرقی اردن میں جنوری 2024 کے حملے سے متعلق امریکی مرکزی کمانڈ کے اعلان میں بتایا گیا تھا کہ اس واقعے میں تین امریکی فوجی ہلاک اور 25 زخمی ہوئے تھے، جو اس بات کی مثال ہے کہ بعض مواقع پر امریکی حکام ریکارڈ پر آ کر جانی نقصان کے اعداد و شمار واضح طور پر بتاتے ہیں۔

کیا تصدیق شدہ ہے اور کیا اب بھی غیر واضح

جمعے تک اردن میں امریکی اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات کی امریکی محکمہ جنگ نے عوامی طور پر تصدیق نہیں کی تھی۔ حملوں کے درست وقت، کن مخصوص اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، اور زخمیوں کی حالت سے متعلق بنیادی تفصیلات بھی ظاہر نہیں کی گئیں۔ خطے میں اضافی جانی نقصان اور نقصان سے متعلق ایرانی بیانات کی امریکی حکام نے توثیق نہیں کی، جبکہ مزید سرکاری معلومات کا انتظار جاری ہے۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!