ایران کی صلاحیت پر امریکی تشویش: اردن حملے کے بعد
news

ایران کی صلاحیت پر امریکی تشویش: اردن حملے کے بعد

Editorial TeamJul 20, 2026 · 9:15 AM6 min read
امریکہ کو اس بات پر تشویش بڑھ رہی ہے کہ ایرانی افواج مشرق وسطیٰ میں امریکی فضائی دفاع کو گھسنے کے لیے زیادہ موثر ہو رہی ہیں۔
Editorial Team
Editorial Team
پینٹاگون اور سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایرانی میزائل و ڈرون مہارت میں اضافہ، دو امریکی اہلکار ہلاک

امریکہ کو بڑھتی ہوئی تشویش لاحق ہے کہ ایرانی فورسز مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فضائی دفاع کو چکمہ دینے میں زیادہ مؤثر ہوتی جا رہی ہیں۔ متعدد میڈیا رپورٹس نے یہ بات گمنام امریکی حکام کے حوالے سے بتائی ہے۔

یہ انتباہ اردن میں ایک امریکی فوجی تنصیب پر جمعے کو ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کی بوچھاڑ کے بعد سامنے آیا، جس میں دو امریکی فوجی اہلکار ہلاک ہوئے اور ایک اہلکار کا اب تک پتہ نہیں چل سکا۔ پینٹاگون اور امریکی سینٹرل کمانڈ نے ہفتے کو اس کی تصدیق کی۔

ان پیش رفتوں نے اس بحث کو تیز کر دیا ہے کہ خطے میں امریکی دفاعی تعیناتیاں کس حد تک مؤثر ہیں اور ایران کے میزائل اور ڈرون ذخیرے کی صلاحیتیں کس سمت میں بڑھ رہی ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہِ راست حملوں کا سلسلہ تیز ہوا ہے۔ چونکہ امریکی اہلکار مختلف علاقائی اڈوں پر پھیلے ہوئے ہیں، اس لیے فضائی دفاع میں کسی بھی کمزوری کا فوری اثر فوجیوں کی سلامتی اور کشیدگی بڑھنے کے خطرے پر پڑتا ہے۔

اردن حملے اور فضائی دفاعی خدشات سے متعلق اہم پیش رفت

  • امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق جمعے کو اردن میں ایک فوجی تنصیب پر ایرانی حملے میں بیلسٹک میزائلوں اور خودکش ڈرونز کا استعمال ہوا، جس کے نتیجے میں دو امریکی اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ ایک اہلکار تاحال لاپتا ہے۔
  • نیویارک ٹائمز نے گمنام حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ یہ حملے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ایران کے پاس اب بھی قابلِ ذکر میزائل ذخیرہ موجود ہے اور اس نے امریکی فضائی دفاعی نظام سے بچ نکلنے کی صلاحیت بہتر کی ہے۔
  • وال اسٹریٹ جرنل نے بھی گمنام حکام کے حوالے سے بتایا کہ ایران نے امریکی دفاعی نظام کے مطابق خود کو ڈھال لیا ہے اور ایسے میزائل استعمال کیے جا رہے ہیں جو انتہائی تیز رفتار سے سفر کرتے ہیں اور نیچے اترتے ہوئے رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
  • اسلامی انقلابی گارڈز کور نے دعویٰ کیا کہ اس کی فورسز نے اردن کے علاقے الازرق میں ایک امریکی اڈے پر کم از کم دو امریکی جنگی طیارے اور تین دیگر طیارے تباہ کیے۔

علاقائی کشیدگی اور امریکی حکمتِ عملی میں تبدیلیاں

نیویارک ٹائمز کے مطابق، ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی فوجی مہم (جس کا آغاز فروری کے اواخر میں ہوا) سے پہلے کے عرصے میں پینٹاگون نے متحدہ عرب امارات اور قطر سے بعض اہلکاروں کی تعیناتی اردن اور اسرائیل کی جانب منتقل کی۔ رپورٹ کے مطابق اس اقدام کے پیچھے یہ اندازہ کارفرما تھا کہ اردن اور اسرائیل، ایرانی حدود سے نسبتاً دور ہونے کے باعث، امریکی فورسز کے لیے نسبتاً زیادہ محفوظ مقامات ہیں۔

المانیٹر کے صحافی اور کالم نگار داؤد کُتّاب نے آر ٹی کو بتایا کہ امریکی منصوبہ سازوں کا خیال ہو سکتا ہے کہ اردن زیادہ تحفظ فراہم کرے گا، تاہم ان کے مطابق ایران ایسے انداز میں کارروائیاں کر رہا ہے جس میں واضح سرخ لکیریں دکھائی نہیں دیتیں۔

اسی دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عوامی طور پر یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں امریکی فضائی حملوں سے ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ جون میں این بی سی نیوز کی کرسٹن ویلکر کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ایرانی ڈرون فیکٹریوں اور میزائل تیاری کے بیشتر علاقوں کو “نقصان پہنچایا گیا” اور یہ دعویٰ کیا کہ ایران کا اسلحہ ذخیرہ جنگ سے پہلے کی سطح کے 21 فیصد تک رہ گیا ہے۔

اردن طویل عرصے سے امریکی اور شراکت دار فورسز کی میزبانی کرتا آ رہا ہے، اور شام، عراق، اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان اس کی جغرافیائی حیثیت اسے ایک ایسا اہم راستہ بناتی ہے جہاں میزائلوں، ڈرونز اور فضائی دفاعی کوریج کے دائرے باہم ملتے ہیں۔ اسی وجہ سے اردن امریکا اور ایران کے پردہ جنگ نما تنازع میں ایک حساس میدان بن گیا ہے، جہاں حملے دفاعی نظام کو پرکھنے اور ارادوں کا پیغام دینے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں، بغیر اس کے کہ براہِ راست امریکی سرزمین کو نشانہ بنایا جائے۔

ایک نمایاں مثال جنوری 2024 کا حملہ ہے، جب شام اور اردن کی سرحد کے قریب “ٹاور 22” کے نام سے معروف امریکی چوکی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس وقت کی رپورٹنگ میں بتایا گیا تھا کہ چھوٹے اور کم بلندی پر پرواز کرنے والے ڈرونز کی نشاندہی مشکل ہو سکتی ہے، جس سے مختلف مقامات پر پھیلے اڈوں کے کم بلندی والے دفاع میں موجود خلا نمایاں ہوتا ہے۔

ایران کی حکمتِ عملی کے بارے میں کیا رپورٹ ہوا ہے

نیویارک ٹائمز نے گمنام حکام کے حوالے سے بتایا کہ ایران کے تازہ جوابی حملے نہ صرف میزائل ذخائر کے برقرار ہونے کا ثبوت ہیں بلکہ امریکی فضائی دفاع سے بچ نکلنے کی مہارت میں اضافے کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔ دوسری جانب وال اسٹریٹ جرنل نے گمنام حکام کے حوالے سے لکھا کہ ایرانی میزائل اب غیر معمولی حد تک تیز رفتار ہیں اور ہدف کے قریب آتے ہوئے سمت بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق، ہفتے کے آغاز میں بھی اردن میں امریکی اہلکاروں کو کم از کم تین مواقع پر ایرانی میزائلوں اور بغیر پائلٹ فضائی گاڑیوں کے حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق ان پہلے حملوں میں درجنوں امریکی اہلکار زخمی ہوئے اور بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں کی ایک قابلِ ذکر تعداد کو نقصان پہنچا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، اردن میں ایک اڈے پر ڈرون اور میزائل حملے میں دو امریکی اہلکار ہلاک ہوئے، ایک لاپتا رہا اور دیگر زخمی بھی ہوئے۔ اس کے بعد امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران میں اضافی حملوں کا اعلان کیا اور کہا کہ ان میں فضائی دفاع، ریڈار، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، میزائل اور ڈرون لانچ سائٹس اور مواصلاتی نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا۔

اردن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی پَیٹرا نے رپورٹ کیا کہ اردنی فضائی دفاعی نظام نے تین ایرانی میزائلوں کو راستے میں روک کر ناکارہ بنایا، جس سے یہ بات نمایاں ہوتی ہے کہ آنے والے خطرات کی شدت برقرار ہے، چاہے ان میں سے بہت سے حملے راستے ہی میں ناکام بنا دیے جائیں۔

موجودہ صورتحال اور آگے کیا ہوگا

اس ماہ کے آغاز میں جنگ بندی ٹوٹنے کے بعد گزشتہ ایک ہفتے کے دوران واشنگٹن اور تہران کے درمیان تقریباً روزانہ کی بنیاد پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ ایران نے 60 روزہ جنگ بندی کے تحت اپنی ذمہ داریاں معطل کر دی ہیں، جس پر دونوں جانب نے 17 جون کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اصولی اتفاق کیا تھا، جبکہ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ جنگ بندی “ختم” ہو چکی ہے۔ لاپتا امریکی اہلکار کے بارے میں مزید سرکاری معلومات اور الازرق میں طیارے تباہ کرنے سے متعلق آئی آر جی سی کے دعوے پر مزید تصدیق کا انتظار ہے۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!