سرکاری بیانیہ اور عوامی روایتیں
ہفتے کے روز مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب ہدایت کے بعد ایرانی حکام کے بیانات ایسے وقت سامنے آئے جب واشنگٹن میں امریکی حکام نے نام ظاہر کیے بغیر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے آبنائے ہرمز میں کشیدگی کا ذمہ ایران کے اندر ایک ’بے قابو‘ سخت گیر دھڑے کو قرار دیا، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ وہ مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنا چاہتا ہے۔
ایران سے وابستہ اخبار خراسان نے اتوار کو اداریے میں اس پیغام کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ اس میں قابلِ قبول اختلافِ رائے اور عدم استحکام پیدا کرنے والے حملوں کے درمیان لکیر کھینچی گئی ہے، اور یہ مؤقف اپنایا گیا کہ ’تنقید قبول ہے، مگر حکام پر الزام تراشی ہرگز نہیں‘۔ اداریے میں سخت گیر کارکنوں کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے پیغام کو ایک آخری تنبیہ قرار دیا گیا اور ان سے کہا گیا کہ وہ حکام کے خلاف جھوٹے دعوے پھیلانا بند کریں۔
اتوار کو جاری ایک انٹرویو میں وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکراتی راستے کی حمایت دہرائی۔ انہوں نے کہا کہ پہلے سفارت کاری اختیار کی جاتی تو بڑے نقصانات سے بچا جا سکتا تھا، اور مزید کہا: ’اگر ہم (اپریل) کی جنگ بندی تک 10 دن پہلے پہنچ جاتے تو ہمارے پاس اب بھی لاریجانی، خطیب، عسلویہ اور فولاد مبارکہ ہوتے‘، انہوں نے قتل کیے گئے سکیورٹی سربراہ علی لاریجانی، انٹیلی جنس وزیر اسماعیل خطیب، اور شدید بمباری کی زد میں آنے والی پیٹروکیمیکل تنصیبات اور اسٹیل پلانٹس کی طرف اشارہ کیا۔
اسلامی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) میں سپریم لیڈر کے نمائندے عبداللہ حاجی صادقی نے دھڑہ بندی کے ایسے تنازعات کے خلاف خبردار کیا جو ’مقدس اتحاد‘ کو کمزور کریں، اور حکومت کی پالیسی پر بڑھتے حملوں کے دوران ایران کے مذاکرات کاروں کا دفاع کیا۔ 18 جولائی کو رپورٹ ہونے والے ایک الگ بیان میں خامنہ ای نے امریکہ پر مفاہمت کی خلاف ورزی کا الزام لگایا اور ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کو ’بے وقعت‘ قرار دیا، جس سے یہ بیانیہ مضبوط ہوا کہ بگاڑ کی وجہ اندرونی رعایت نہیں بلکہ بیرونی بدنیتی ہے۔