آیت اللہ خامنہ ای کا جنازہ: تہران میں لاکھوں کی شرکت
news

آیت اللہ خامنہ ای کا جنازہ: تہران میں لاکھوں کی شرکت

Editorial TeamJul 6, 2026 · 12:11 PM3 min read
اے آئی سے تیار کردہ نمائندہ تصویر: تہران میں بڑے جنازہ جلوس کے دوران سوگوار ہجوم۔
Editorial Team
Editorial Team
تدفینی رسومات قم، نجف اور کربلا کے بعد مشہد میں آخری نمازِ جنازہ اور تدفین؛ ایران میں سوگ کی لہر برقرار

آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے کے موقع پر پیر کی صبح تہران میں لاکھوں سوگوار سڑکوں کے کنارے امڈ آئے۔ ماخذ مواد کے مطابق “شہید رہبرِ انقلابِ اسلامی” قرار دیے جانے والے آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا تابوت ایک بڑے جلوسِ جنازہ کے ساتھ آزادی اسکوائر کی جانب لے جایا گیا۔

حکام کے بقول یہ اجتماع ایران کی جدید تاریخ کی سب سے بڑی عوامی حاضری ہے، اور اسی کے ساتھ ایران اور عراق میں کئی روز تک جاری رہنے والی تدفینی رسومات کا آغاز ہوا ہے۔ منتظمین کے مطابق یہ سلسلہ اسی ہفتے کے آخر میں مشہد میں آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین پر منتج ہوگا، جو ان کی وصیت کے مطابق ہوگی۔ خطے میں کشیدگی کے تناظر پر مزید کے لیے ایران کا امریکا کو منہ توڑ جواب دینے کا منصوبہ بھی دیکھیے۔

اہم پیش رفت

  • ماخذ مواد کے مطابق پیر کو تہران میں جنازہ جلوس شروع ہوا اور آزادی اسکوائر کی طرف بڑھا، جس میں ملک بھر سے آنے والے لاکھوں افراد شریک ہوئے۔

  • ماخذ مواد کے مطابق جلوس میں آیت اللہ خامنہ ای کے خاندان کے کئی افراد کے جھنڈوں میں لپٹے تابوت بھی شامل تھے، جن کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ ۲۸ فروری کو آیت اللہ خامنہ ای کے ساتھ شہید ہوئے؛ ماخذ مواد اس دن کو حالیہ امریکی-اسرائیلی جنگی جارحیت کا پہلا دن قرار دیتا ہے۔

  • منتظمین کے مطابق جلوس کے ۱۰ سے ۱۲ گھنٹے تک جاری رہنے اور تقریباً ۱۰ کلومیٹر کے راستے پر مشتمل ہونے کی توقع تھی، جو دماوند اسٹریٹ، امام حسین اسکوائر، انقلاب اسٹریٹ، انقلاب اسکوائر، آزادی اسٹریٹ، آزادی اسکوائر اور مہرآباد ہوائی اڈے کے قریب شاہد لشگری ہائی وے سے گزرتا ہے۔

پس منظر

اتوار کو آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے خاندان کے افراد کے لیے نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس کی امامت آیت اللہ العظمیٰ جعفر سبحانی نے کی۔ منتظمین کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں آیت اللہ خامنہ ای کے داماد ڈاکٹر مصباح الہدیٰ باقری کنی، بہو زہراء حداد عادل، پوتی زہراء محمدی گلپایگانی (عمر ۱۴ ماہ)، اور صاحبزادی سیدہ بشریٰ حسینی خامنہ ای شامل ہیں۔ علاقائی حالات پر ایران کے مؤقف سے متعلق مزید تفصیل کے لیے ایران کا اسرائیل کے فاسفورس بموں کے استعمال پر شدید احتجاج بھی ملاحظہ کیجیے۔

جلوس کی تفصیلات

پیر کو سیاہ لباس میں ملبوس سوگواروں نے تہران کی سڑکوں کو بھر دیا، جب جنازہ قافلہ دارالحکومت سے گزرا۔ ماخذ مواد کے مطابق لوگ ماتم کرتے ہوئے سینہ کوبی کر رہے تھے، ایرانی پرچم لہرا رہے تھے، آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر اٹھائے ہوئے تھے اور ایسے نعرے لگا رہے تھے جن میں مخالفین کے خلاف انتقام اور مزاحمت کی بات کی گئی۔

موجودہ صورتِ حال اور آئندہ مراحل

  • منتظمین کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کی تدفینی رسومات منگل کو شہرِ قم میں جاری رہیں گی۔

  • بدھ کو عراق کے شہروں نجف اور کربلا میں مزید الوداعی اور جنازے کی تقریبات طے ہیں۔

  • منتظمین کے مطابق آخری نمازِ جنازہ جمعرات کو شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد میں مقرر ہے، جہاں آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین ان کی وصیت کے مطابق امام رضا (ع) کے روضے میں کی جائے گی؛ امام رضا (ع) شیعہ کے آٹھویں امام ہیں۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!