وی اے آر فیصلوں پر حسام حسن کی تنقید، مصر ۳۔۲ سے ہار گیا
sports

وی اے آر فیصلوں پر حسام حسن کی تنقید، مصر ۳۔۲ سے ہار گیا

Editorial TeamJul 11, 2026 · 5:45 PM4 min read
اے آئی سے تیار کردہ نمائندہ تصویر: میچ کے بعد مصر کے کوچ کی وی اے آر فیصلے پر آفیشلز سے گفتگو/اعتراض دکھایا گیا ہے۔
Editorial Team
Editorial Team
ورلڈ کپ میچ میں ارجنٹائن کے خلاف منسوخ گول اور پنالٹی چیک پر سوالات

مصر کے ہیڈ کوچ حسام حسن نے میچ آفیشلز اور ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (وی اے آر) کے استعمال پر سخت تنقید کی ہے، جب ان کی ٹیم ورلڈ کپ کے ایک میچ میں ارجنٹائن کے ہاتھوں ۳۔۲ سے ہار گئی۔ اس مقابلے میں ارجنٹائن نے دو گول کے خسارے سے واپسی کرتے ہوئے کوارٹر فائنل کے لیے کوالیفائی کیا۔

حسام حسن کے یہ ریمارکس اہم اور فیصلہ کن میچوں میں ریفرنگ کے معیار اور وی اے آر فیصلوں پر جاری بحث کو مزید تیز کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق میچ کے چند کلیدی لمحات میں ایسے فیصلے ہوئے جو مصر کے خلاف گئے اور نتیجے پر اثر انداز بنے۔ حسام حسن کے بارے میں مزید پس منظر کے لیے مصر کے ہیڈ کوچ حسن: خانہ بدوش کیریئر کے بعد نایاب پذیرائی بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

اہم پیش رفت

  • ارجنٹائن نے دو گول پیچھے ہونے کے باوجود مصر کو ۳۔۲ سے شکست دے کر کوارٹر فائنل میں جگہ بنالی۔

  • حسام حسن کے مطابق ۱۔۰ کی برتری کے دوران مصر کا دوسرا گول وی اے آر چیک کے بعد منسوخ کر دیا گیا۔

  • ان کا کہنا ہے کہ اسٹاپیج ٹائم میں، ارجنٹائن کے تیسرے اور فیصلہ کن گول سے پہلے، مصر کو پنالٹی ملنی چاہیے تھی۔ یہ فاتح گول اینزو فرنانڈیز نے کیا۔

  • حسام حسن نے ریفری فرانسوا لیتیکسیے کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ مصر کو “احترام یا فیئر پلے” نہیں ملا، اور یہ بھی الزام لگایا کہ ایک ایسا واقعہ جو ان کے نزدیک پنالٹی کا مستحق تھا، “وی اے آر پر چیک ہی نہیں کیا گیا۔”

  • انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ “ایسا لگتا ہے کہ ارجنٹائن کی جانب سے ریفری پر دباؤ تھا” جس نے نتیجے پر اثر ڈالا۔

پس منظر اور سیاق

میچ کے بعد گفتگو میں حسام حسن نے اپنی تنقید کو فٹ بال میں انصاف اور برابری کے وسیع تر سوال سے جوڑتے ہوئے کہا کہ وہ “اس نتیجے اور اس میچ میں معاملات جس طرح آگے بڑھے، اس سے مطمئن نہیں” ہیں۔

ماخذ میں ایک وسیع تر تنازع کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس میں فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو کا ذکر ہے۔ ماخذ کے مطابق انہیں اس وقت تنقید کا سامنا ہوا جب امریکی اسٹرائیکر فولارین بالوگون کے خلاف دکھایا گیا ریڈ کارڈ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کال کے بعد، واپس لے لیا گیا۔

مزید یہ کہ مصر سے متعلق خطے کی ایک الگ خبر میں غزہ جنگ بندی مذاکرات میں پیشرفت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے، تاہم اس کا تعلق اس میچ کے فیصلوں سے نہیں۔

تفصیلات اور شواہد

“ہم نے احترام یا فیئر پلے نہیں دیکھا۔ ایک پنالٹی خارج کر دی گئی اور ایک دوسرا (واقعہ) جسے ہمارے لیے پنالٹی کے طور پر چیک کیا جانا چاہیے تھا، وی اے آر پر چیک ہی نہیں کیا گیا۔ ایک دوسرا گول حیران کن طور پر، جو بھی وجہ ہو، منسوخ کر دیا گیا۔”

“ایسا لگتا ہے کہ ارجنٹائن کی جانب سے ریفری پر دباؤ تھا جس نے یہ نتیجہ سامنے آنے میں کردار ادا کیا۔”

“زندگی غیر منصفانہ ہے۔ دنیا غیر منصفانہ ہے۔ ٹھیک ہے، لیکن کھیل میں انصاف کیوں نہیں؟ میں اس نتیجے اور اس میچ میں معاملات جس طرح آگے بڑھے، اس سے مطمئن نہیں۔”

ماخذ میں حسام حسن کے الزامات پر فیفا، میچ آفیشلز یا ارجنٹائن کی جانب سے کسی ردِعمل کا ذکر شامل نہیں۔

موجودہ صورتحال اور آئندہ لائحہ عمل

ماخذ میں فراہم کردہ معلومات کے مطابق ۳۔۲ کی فتح کے بعد ارجنٹائن ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں پہنچ گیا ہے، جبکہ مصر اس مرحلے پر ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا ہے۔

متنازع واقعات کے حوالے سے ماخذ میں نہ تو فیفا یا میچ آفیشلز کی جانب سے کسی سرکاری جائزے، تادیبی کارروائی یا بیان کا حوالہ دیا گیا ہے، اور نہ ہی یہ واضح ہے کہ آیا مصر نے باضابطہ شکایت درج کرائی یا نہیں۔

ماخذ میں ایک الگ پس منظر میں بیلجیم کے ردِعمل کا بھی ذکر ہے، جس میں بتایا گیا کہ بیلجیم نے امریکا کو ۴۔۱ سے شکست دینے کے بعد امریکا اور فیفا کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا: “اب اسے واپس کرو۔”

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!