ناسا کا سی ایل پی ایس پروگرام اس اصول پر قائم ہے کہ قمری ترسیلات کے لیے خدمات کمرشل کمپنیوں سے خریدی جائیں، بجائے اس کے کہ تمام لینڈر سرکاری مشنوں کے طور پر ناسا خود چلائے۔ اس ماڈل سے لانچ کے مواقع بڑھانے، زیادہ لینڈنگ مقامات کا مطالعہ کرنے اور چاند پر طویل عرصے تک کام کے لیے عملی طریقۂ کار کو بہتر بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
ناسا نے تازہ معاہدوں کو “مون بیس” کی وسیع تر کوششوں کا حصہ قرار دیا ہے، جس کے تحت سائنسی تحقیق اور تجارتی سرگرمی کے ساتھ ساتھ قمری سطح پر انسان کی طویل المدت موجودگی قائم کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ ناسا کے مطابق چاند ایسے نظاموں، طریقۂ کار اور ماحولیاتی سمجھ بوجھ کے لیے ایک آزمائشی میدان ہے جو آئندہ زیادہ طویل اور پیچیدہ کھوجی مشنوں میں درکار ہوں گے۔
“مون بیس” کی تعمیر کے ضمن میں ناسا اس تجویز پر بھی غور کر رہا ہے کہ پرومِس (پولر روور فار آبزرویشن، میپنگ، اینڈ اِن سیٹو ایکسپلوریشن) کو چاند پر بھیجا جائے۔ ناسا کے مطابق پرومِس، مریخ کے روورز پرسیورینس اور کیوریوسٹی کا ایک ہائبرڈ انجینئرنگ ڈیولپمنٹ ورژن ہے، اور اگر تجویز منظور ہو گئی تو یہ قمری سطح اور زیرِ سطح دونوں کا مطالعہ کرتے ہوئے اُن وسائل کی تلاش بھی کر سکے گا جو مستقبل کی کھوج میں مددگار ثابت ہوں۔
ناسا نے بتایا کہ وہ اضافی قمری لینڈروں کے لیے تجاویز طلب کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ بجلی اور ایویونکس سے متعلق ٹیکنالوجی ڈیمانسٹریشن، سائنسی آلات کا ایک اور مجموعہ، اور جنوبی قطب کے لیے ایک آپٹیکل امیجر چاند تک پہنچایا جا سکے۔ ادارے کے مطابق “مون بیس” سے متعلق ٹیکنالوجی ڈیمانسٹریشنز کے لیے ایک کھلی دعوتِ تجاویز بھی جاری کی جائے گی، اور چاند کے گرد مواصلاتی اور نیویگیشن ریلے سیٹلائٹ مجموعہ بنانے کی کوششیں شروع کی جائیں گی تاکہ قمری انفرااسٹرکچر اور زمین کے درمیان رابطہ مضبوط ہو سکے۔
ناسا کے مطابق تازہ مشنوں کا یہ مرحلہ چاند کے مختلف حصوں کے بارے میں ایسا ڈیٹا اکٹھا کرنے کی کوشش ہے جو بار بار دہرایا جا سکے اور باہم موازنہ بھی کیا جا سکے، اس مقصد کے لیے متعدد لینڈروں پر معیاری پے لوڈز نصب کیے جائیں گے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے لینڈنگ کے خطرات سمجھنے اور ماحولیاتی مشاہدات و مقام نشانوں کے وسیع تر نیٹ ورک کی بنیاد رکھنے میں مدد ملے گی۔