ناسا روور پرسیورنس نے مریخ پر میراتھن فاصلہ طے کیا
science and technology

ناسا روور پرسیورنس نے مریخ پر میراتھن فاصلہ طے کیا

Editorial TeamJul 14, 2026 · 9:31 AM7 min read
ناسا نے اپنے کمرشل لونر پے لوڈ سروسز (CLPS) اقدام کے تحت چار نئے کمرشل مون مشنز کا انتخاب کیا ہے۔
Editorial Team
Editorial Team
جیزرو کریٹر میں 26.2 میل عبور، آپرچونیٹی کا ریکارڈ ٹوٹ گیا

ناسا کے مریخی روور پرسیورنس نے مریخ کی سطح پر میراتھن کے برابر فاصلہ طے کر لیا ہے۔ ناسا کے مطابق روور نے سطحِ مریخ پر سفر کے پانچ سال اور چار ماہ مکمل ہونے کے بعد چھبیس اعشاریہ دو میل (بیالیس اعشاریہ دو کلومیٹر) کا ہدف عبور کیا، جو مشن کے ایک ہزار آٹھ سو نوّےویں مریخی دن پر حاصل ہوا۔ مریخ پر ایک دن کو مشن کی اصطلاح میں “سول” کہا جاتا ہے۔

ناسا نے بتایا کہ پرسیورنس کی رفتار نے مریخ پر فاصلے کے حوالے سے ادارے کے سابقہ ریکارڈ ہولڈر روور “آپرچونیٹی” کو پیچھے چھوڑ دیا، جسے اتنا ہی فاصلہ طے کرنے میں گیارہ سال اور دو ماہ لگے تھے۔

یہ سنگِ میل اس بات کا قابلِ پیمائش اشاریہ ہے کہ پرسیورنس نے مریخ کی سطح پر اپنے سائنسی مشن کے دوران مجموعی طور پر کتنا سفر کیا۔ مشن کی منصوبہ بندی کرنے والوں اور عام قارئین دونوں کے لیے آپرچونیٹی سے تقابل اس حقیقت کو بھی نمایاں کرتا ہے کہ ناسا کے روور مشن طویل مدت تک مسلسل کام کرتے رہتے ہیں اور کئی برسوں پر محیط مہمات میں نمایاں پیش رفت ممکن ہوتی ہے۔

یہ کامیابی تازہ مداری مشاہدات کے ساتھ بھی سامنے آئی ہے، جن میں مدار سے لی گئی تصویر نے پرسیورنس کے راستے کو بصری طور پر دستاویزی شکل دی—تصویر میں روور اور اس کے پیچھے مریخی زمین پر بننے والے پیچ دار نشانات واضح ہیں۔ یہ بالائی منظر اس جگہ اور اس اندازِ سفر کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے جہاں روور کام کر رہا ہے اور جس طرح وہ زمین کی ساخت کو دیکھتے ہوئے راستہ بنا رہا ہے۔

پرسیورنس نے مریخ پر ڈرائیونگ کے پانچ سال اور چار ماہ مکمل ہونے کے بعد میراتھن کے برابر فاصلہ عبور کیا، اور یہ سنگِ میل مشن کے سول ۱,۸۹۰ پر حاصل ہوا۔

ناسا کے “مارس ریکونیسنس آربیٹر” نے “ہائی ریزولوشن امیجنگ سائنس ایکسپیریمنٹ” کیمرے (ہائی رائز) کے ذریعے پرسیورنس کی اوپر سے تصویر لی، جس میں روور کے ساتھ وہ نشان بھی دکھائی دیتے ہیں جو اس نے سطحِ مریخ پر چھوڑے۔

ہائی رائز تصویر کے وقت پرسیورنس، جیزرو کریٹر کے مغرب میں اس علاقے میں کام کر رہا تھا جسے مشن کی سائنسی ٹیم نے غیر رسمی طور پر “آربوٹ” کا نام دیا ہے۔

  • جنوبی کیلیفورنیا میں ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری (جے پی ایل) ناسا کے سائنس مشن ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے، مریخ ایکسپلوریشن پروگرام کے تحت، پرسیورنس اور مارس ریکونیسنس آربیٹر دونوں کی آپریشنل نگرانی کرتی ہے۔
  • جے پی ایل کو ناسا کے لیے کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (کیل ٹیک) چلاتا ہے۔
  • ڈینور میں لاک ہیڈ مارٹن اسپیس نے مارس ریکونیسنس آربیٹر تیار کیا تھا اور وہ اس کی آپریشنل معاونت جاری رکھے ہوئے ہے۔
  • ٹکسن میں یونیورسٹی آف ایریزونا ہائی رائز کیمرے کو آپریٹ کرتی ہے۔
  • ہائی رائز کی تعمیر باؤلڈر، کولوراڈو میں بی اے ای سسٹمز نے کی تھی۔

پرسیورنس ناسا کے اُن طویل المدت روبوٹک روور مشنز میں سے ایک ہے جنہیں مریخ کی کھوج کئی برسوں تک جاری رکھنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ مریخ پر روزمرہ کارروائیاں “سول” کی بنیاد پر ناپی جاتی ہیں، جو مریخی دن کے لیے استعمال ہونے والی اکائی ہے۔ میراتھن جتنا فاصلہ طے کرنے کا یہ نیا سنگِ میل دراصل برسوں پر محیط سطحی تحقیق کے دوران کی گئی مجموعی ڈرائیونگ کا نتیجہ ہے۔

اس سے قبل مریخ کی سطح پر فاصلے کے حوالے سے ناسا کا ریکارڈ روور آپرچونیٹی کے پاس تھا، جسے اسی میراتھن فاصلے تک پہنچنے میں گیارہ سال اور دو ماہ درکار تھے۔ ناسا کی جانب سے دونوں روورز کا تقابل اس بات کے لیے ایک معیار سمجھا جاتا ہے کہ سائنسی کام کے ساتھ ساتھ زمین کی ساخت اور راستے کی پابندیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی روور کتنی تیزی سے مجموعی فاصلہ بڑھا سکتا ہے۔

یہ سنگِ میل مدار سے ہونے والے مشاہدات کے ساتھ بھی جڑا ہے۔ مارس ریکونیسنس آربیٹر ایک علیحدہ خلائی جہاز ہے جو مریخ کا مطالعہ بالائی مدار سے کرتا ہے اور روورز جیسے سطحی اثاثوں کی تصویر کشی بھی کر سکتا ہے۔ اس کا ہائی رائز کیمرہ نہایت بلند ریزولوشن مناظر فراہم کرتا ہے، جن سے ٹیموں اور عوام کو روور کے ساتھ اس کی حرکت کے شواہد—مثلاً پیچھے رہ جانے والے نشانات—بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔

نئی اوپر سے لی گئی تصویر پرسیورنس کی موجودگی کو جیزرو کریٹر کے مغرب میں ظاہر کرتی ہے، جہاں سائنسی ٹیم نے کام کے اس حصے کو غیر رسمی طور پر “آربوٹ” کا نام دیا ہے۔ اس نوعیت کے نام مشن ٹیمیں عموماً سفر کے بڑھنے کے ساتھ آپریشنل علاقوں کی شناخت، راستوں اور اہداف پر گفتگو کو منظم رکھنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

روور اور آربیٹر کے مشنز میں متعدد ادارے اور کنٹریکٹرز معاون ہیں۔ ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری، ناسا کے سائنس مشن ڈائریکٹوریٹ کے تحت اور مریخ ایکسپلوریشن پروگرام کے دائرے میں، پرسیورنس اور مارس ریکونیسنس آربیٹر دونوں کی مشن آپریشنز سنبھالتی ہے، جبکہ جے پی ایل کو ناسا کی جانب سے کیل ٹیک چلاتا ہے۔

صنعتی اور تعلیمی شراکت دار خصوصی آلات اور آپریشنز میں کردار ادا کرتے ہیں: لاک ہیڈ مارٹن اسپیس نے مارس ریکونیسنس آربیٹر بنایا اور اس کے آپریشنز میں معاونت جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ یونیورسٹی آف ایریزونا ہائی رائز آلے کو آپریٹ کرتی ہے، جسے بی اے ای سسٹمز نے تیار کیا تھا۔ یہ تقسیمِ کار اس امر کی مثال ہے کہ سطحی روور مشنز اور مداری خلائی جہاز، ناسا مراکز، جامعات اور ایرو اسپیس کمپنیوں کے باہمی تعاون سے چلائے جاتے ہیں۔

ناسا کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین فاصلے کے اعدادوشمار کے مطابق پرسیورنس نے مریخ پر ڈرائیونگ کے پانچ سال اور چار ماہ بعد میراتھن کا فاصلہ پورا کیا اور یہ سنگِ میل مشن کے سول ۱,۸۹۰ پر حاصل ہوا۔

ادارے کے تقابلی بیان میں سطحی سفر کی رفتار کو نمایاں کیا گیا ہے: ناسا کے سابقہ ریکارڈ ہولڈر روور آپرچونیٹی نے مریخ پر یہی فاصلہ طے کرنے میں گیارہ سال اور دو ماہ لیے تھے۔

اس پیش رفت کی بصری تصدیق مارس ریکونیسنس آربیٹر کے ہائی رائز کیمرے سے حاصل ہوئی، جس نے اوپر سے ایسی تصویر لی جس میں پرسیورنس اور سطحِ مریخ پر اس کے چھوڑے ہوئے پیچ دار نشانات نظر آتے ہیں۔ ناسا کے مطابق یہ تصویر اُس وقت لی گئی جب روور جیزرو کریٹر کے مغرب میں اُس علاقے میں سرگرم تھا جسے سائنسی ٹیم “آربوٹ” کہتی ہے۔

تازہ اپ ڈیٹ میں بیان کردہ شراکت دارانہ کرداروں کے مطابق دونوں مشنز کی آپریشنل ذمہ داری جنوبی کیلیفورنیا میں ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے پاس ہے، جسے ناسا کے لیے کیل ٹیک چلاتا ہے، اور یہ کام ناسا کے سائنس مشن ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے مریخ ایکسپلوریشن پروگرام کے تحت انجام دیا جاتا ہے۔ آربیٹر اور اس کے امیجنگ نظام میں لاک ہیڈ مارٹن اسپیس، یونیورسٹی آف ایریزونا اور بی اے ای سسٹمز معاونت فراہم کرتے ہیں۔

اس طرح پرسیورنس کے بارے میں باضابطہ طور پر تصدیق ہو چکی ہے کہ وہ مریخ پر کم از کم میراتھن کے برابر فاصلہ طے کر چکا ہے، جبکہ حوالہ دی گئی مداری تصویر کے وقت اس کی جگہ جیزرو کریٹر کے مغرب میں “آربوٹ” کے نام سے معروف علاقے میں تھی۔ ہائی رائز کا یہ منظر روور کی موجودگی اور اس مرحلے تک سطحی نشانات کی بیرونی سطح سے تصدیق بھی فراہم کرتا ہے۔

ناسا نے اس فاصلے کے سنگِ میل کے ساتھ کسی نئی آپریشنل تبدیلی کا اعلان نہیں کیا۔ جے پی ایل کی نگرانی میں پرسیورنس اور مارس ریکونیسنس آربیٹر پر جاری کام معمول کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے، جبکہ آربیٹر کے آپریشنز میں لاک ہیڈ مارٹن اسپیس کی معاونت اور ہائی رائز کیمرے و اس کے آپریشن میں یونیورسٹی آف ایریزونا اور بی اے ای سسٹمز کی شمولیت برقرار ہے۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!