ترکی کی نئی اپوزیشن جماعت سروے میں ابھر آئی، ایردوان کو نیا چیلنج
news

ترکی کی نئی اپوزیشن جماعت سروے میں ابھر آئی، ایردوان کو نیا چیلنج

Editorial Team•Oct 4, 2026 · 4:46 PM•6 min read
اے آئی سے تیار کردہ نمائندہ تصویر: ترکی میں اپوزیشن کی ایک سیاسی ریلی، جو نئی بننے والی جماعت کی بڑھتی ہوئی عوامی حمایت کی عکاسی کرتی ہے۔
Editorial Team
Editorial Team
اوزیل کی ینی پارٹی نے ستمبر کے رائے عامہ جائزوں میں دوسرا مقام حاصل کر لیا، تاہم اے کے پارٹی کو واضح برتری برقرار ہے

ترکی میں نئی قائم ہونے والی اپوزیشن جماعت ستمبر کے رائے عامہ کے جائزوں میں دوسرے مقام پر پہنچ گئی ہے، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ صدر رجب طیب ایردوان کا مرکزی حریف عدالت کے حکم سے قیادت کی تبدیلی کے باوجود ماند نہیں پڑا جس نے ریپبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) کو توڑ دیا تھا۔

ینی پارٹی (نئی پارٹی) جو جولائی کے اواخر میں سی ایچ پی کے سابق چیئرمین اوزگور اوزیل نے قائم کی تھی، اے ایس اے ایل سروے میں 23.6 فیصد اور گینار سروے میں 21.6 فیصد ووٹ حاصل کر کے حکمران جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (اے کے پارٹی) کے بعد دوسرے نمبر پر رہی جبکہ کمزور ہو جانے والی سی ایچ پی سے کہیں آگے نکل گئی۔

یہ نتائج اس لیے اہم ہیں کہ انہوں نے اس توقع کو غلط ثابت کر دیا ہے کہ اپوزیشن کی تقسیم 2028 کے انتخابات سے قبل ایردوان کے غلبے کو مزید مستحکم کر دے گی۔ اس کے برعکس اوزیل نے اپوزیشن کے ووٹروں کا نمایاں حصہ اپنے ساتھ برقرار رکھا ہے اور خود کو پارلیمانی اپوزیشن لیڈر کے طور پر دوبارہ منوا لیا ہے۔

ایردوان کے لیے اس پیش رفت کا مطلب یہ ہے کہ ان کا مرکزی حریف ختم ہونے کے بجائے ایک نئی جگہ منتقل ہو گیا ہے، جس سے حکمران اتحاد کو ایک نئے جوش کے ساتھ ابھرنے والے مدمقابل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

رائے شماری کے نتائج اور جماعت کا قیام

اے ایس اے ایل کے مطابق پارلیمانی انتخابات میں 33.8 فیصد جواب دہندگان اے کے پارٹی کی حمایت کریں گے جبکہ ینی پارٹی کو 23.6 فیصد حمایت حاصل ہے، یعنی دونوں کے درمیان 10.2 فیصدی پوائنٹس کا فرق ہے۔ گینار نے حکمران جماعت کو 36.1 فیصد اور اوزیل کی جماعت کو 21.6 فیصد قرار دیا، جو 14.5 پوائنٹس کا فرق ظاہر کرتا ہے۔ دونوں سروے میں اے کے پارٹی پہلے نمبر پر رہی جبکہ اب کمال قلیچ دار اوغلو کی قیادت والی سی ایچ پی کو صرف چھ فیصد کے قریب حمایت ملی۔

ینی پارٹی کی جڑیں مئی میں اس وقت پڑیں جب ایک عدالت نے 2023 کی سی ایچ پی کانگریس کے نتائج کالعدم قرار دے دیے جس میں اوزیل چیئرمین منتخب ہوئے تھے، اور قلیچ دار اوغلو کو بحال کر دیا گیا۔ کئی ہفتوں کی کشمکش کے بعد اوزیل اور 90 اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ نے سی ایچ پی چھوڑ دی اور 24 جولائی کو نئی جماعت کا اعلان کیا، جسے فوری طور پر 91 پارلیمانی نشستیں حاصل ہو گئیں اور یہ سب سے بڑا اپوزیشن دھڑا بن گئی۔

اوزیل کے حامیوں نے عدالتی فیصلے کو اپوزیشن کے معاملات میں مداخلت قرار دیا جبکہ ترک حکام عدلیہ پر دباؤ ڈالنے کی تردید کرتے ہیں اور اس کی آزادی پر زور دیتے ہیں۔

اپوزیشن میں پھوٹ کی جڑیں

سی ایچ پی کی بنیاد جدید ترکیہ کے معمار مصطفی کمال اتاترک نے رکھی تھی۔ موجودہ بحران قیادت کے تنازعے سے پیدا ہوا جس کے نتیجے میں اپوزیشن کے دو صدر دفاتر، دو رہنما اور اس کی سیاسی وراثت پر مسابقتی دعوے سامنے آ گئے۔

عام انشقاقی تحریکوں کے برعکس ینی پارٹی نے صفر سے آغاز نہیں کیا۔ اوزیل اپنے ساتھ موجودہ ارکان پارلیمنٹ، نمایاں سیاست دان اور سی ایچ پی کے تنظیمی نیٹ ورک کا ایک حصہ لے کر آئے، ساتھ ہی 2024 کے بلدیاتی انتخابات میں اپوزیشن کی کامیابی کا انتخابی تجربہ بھی ان کے پاس موجود تھا۔

ترک اپوزیشن صرف اوزیل کی جماعت تک محدود نہیں ہے۔ قلیچ دار اوغلو کی سی ایچ پی اب بھی پارلیمنٹ میں موجود ہے، ساتھ ہی کرد نواز ڈی ای ایم پارٹی، میرل اکشینر کی قیادت والی قوم پرست ایی پارٹی اور دیگر قوتیں بھی اپنے الگ الگ بنیادوں اور نظریات کے ساتھ میدان میں ہیں۔ صدارت جیتنے کے لیے ان گروہوں کو ایک مشترکہ امیدوار کے پیچھے متحد ہونا ہوگا، یہی چیلنج 2023 میں اپوزیشن کی شکست کا باعث بنا تھا۔

ووٹروں کی منتقلی اور معاشی کشیدگی

جولائی میں گینار کے ایک مطالعے میں سی ایچ پی کی حمایت 15.4 فیصد اور اس وقت ابھرتی ہوئی ینی پارٹی کی حمایت 14.5 فیصد بتائی گئی تھی۔ ستمبر تک توازن بدل کر اوزیل کی جماعت کے لیے 21.6 فیصد اور سی ایچ پی کے لیے 6.6 فیصد ہو گیا، جو دونوں قوتوں کے درمیان ووٹروں کی بڑی منتقلی کا اشارہ ہے۔ اس بات کی تصدیق کے لیے مزید سروے اور انتخابات درکار ہوں گے کہ آیا اپوزیشن کا مجموعی انتخابی حلقہ واقعی وسیع ہوا ہے۔

معاشی حالات نے دباؤ بڑھا دیا ہے۔ ستمبر میں ترک مارکیٹ کو سرمایہ کاری فنڈز سے متعلق بحران اور اثاثوں کی قیمتوں میں تیزی سے گراوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی پس منظر میں ینی پارٹی کے نمائندے زینل ایمرے نے اے کے پارٹی کی نائب چیئرپرسن فاطمہ بتول سایان کایا اور ان کے شوہر کے خلاف اسٹاک مارکیٹ کے لین دین سے متعلق الزامات عائد کیے۔ کایا نے تحقیقات مکمل ہونے تک پارٹی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کی درخواست کی۔ یہ الزامات ابھی تک غیر مصدقہ ہیں۔

ینی پارٹی کو اپنے نام کے حوالے سے بھی تنازعے کا سامنا ہے۔ ینی لک پارتیسی (انوویشن پارٹی) نے دلیل دی کہ یہ نام اس کے اپنے نام سے بہت مشابہت رکھتا ہے اور پراسیکیوٹر کے دفتر سے رجوع کیا۔ معاملہ آئینی عدالت تک پہنچا جس نے 29 ستمبر کو ینی پارٹی کو اعتراضات تیار کرنے کے لیے 30 دن کی مہلت دی۔ ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

آگے کیا ہے

صدارتی اور پارلیمانی انتخابات 2028 میں طے ہیں۔ ایردوان حصہ لے سکتے ہیں یا نہیں، اس کا انحصار ووٹنگ کے وقت اور آئینی ضوابط پر ہے؛ پارلیمنٹ کی جانب سے قبل از وقت انتخابات کے اعلان کے لیے 600 میں سے 360 ارکان کی اکثریت درکار ہوگی جو حکمران اتحاد کے پاس اپنے بل بوتے پر موجود نہیں ہے۔

اپوزیشن کا صدارتی امیدوار ابھی طے نہیں ہوا۔ اوزیل نے استنبول کے میئر اکرام امام اوغلو کی حمایت کا اعادہ کیا ہے جو گرفتار ہیں اور قانونی کارروائیوں کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں ان کی یونیورسٹی ڈگری کی تنسیخ بھی شامل ہے جو صدارتی امیدواروں کے لیے لازمی شرط ہے۔ انقرہ کے میئر منصور یاوش کا نام بھی ممکنہ امیدوار کے طور پر لیا جاتا ہے۔ فی الحال سروے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اوزیل نے نمایاں حمایت برقرار رکھی ہے، لیکن وہ ابھی یہ ظاہر نہیں کرتے کہ ینی پارٹی اے کے پارٹی کے ساتھ فاصلہ کم کر سکتی ہے یا نہیں۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!