رائے شماری کے نتائج اور جماعت کا قیام
اے ایس اے ایل کے مطابق پارلیمانی انتخابات میں 33.8 فیصد جواب دہندگان اے کے پارٹی کی حمایت کریں گے جبکہ ینی پارٹی کو 23.6 فیصد حمایت حاصل ہے، یعنی دونوں کے درمیان 10.2 فیصدی پوائنٹس کا فرق ہے۔ گینار نے حکمران جماعت کو 36.1 فیصد اور اوزیل کی جماعت کو 21.6 فیصد قرار دیا، جو 14.5 پوائنٹس کا فرق ظاہر کرتا ہے۔ دونوں سروے میں اے کے پارٹی پہلے نمبر پر رہی جبکہ اب کمال قلیچ دار اوغلو کی قیادت والی سی ایچ پی کو صرف چھ فیصد کے قریب حمایت ملی۔
ینی پارٹی کی جڑیں مئی میں اس وقت پڑیں جب ایک عدالت نے 2023 کی سی ایچ پی کانگریس کے نتائج کالعدم قرار دے دیے جس میں اوزیل چیئرمین منتخب ہوئے تھے، اور قلیچ دار اوغلو کو بحال کر دیا گیا۔ کئی ہفتوں کی کشمکش کے بعد اوزیل اور 90 اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ نے سی ایچ پی چھوڑ دی اور 24 جولائی کو نئی جماعت کا اعلان کیا، جسے فوری طور پر 91 پارلیمانی نشستیں حاصل ہو گئیں اور یہ سب سے بڑا اپوزیشن دھڑا بن گئی۔
اوزیل کے حامیوں نے عدالتی فیصلے کو اپوزیشن کے معاملات میں مداخلت قرار دیا جبکہ ترک حکام عدلیہ پر دباؤ ڈالنے کی تردید کرتے ہیں اور اس کی آزادی پر زور دیتے ہیں۔






