اہم سفارتی تبدیلیاں
لیبیا کی مشرقی پارلیمان نے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ طرابلس حکومت اور ترکی کے درمیان 2019ء کے سمندری معاہدے کی منظوری دے کر برسوں کی مخالفت کا رخ موڑ دیا۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے بحیرہ روم میں دعوے کیے گئے سمندری دائرہ اختیار کے علاقوں کی حد بندی کرتا ہے۔ یونان، قبرص اور مصر کا موقف ہے کہ یہ ان کے خود مختار حقوق کی خلاف ورزی ہے، جبکہ ترکی کا کہنا ہے کہ یہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہے۔
پارلیمانی ووٹنگ مشرقی لیبیا کی قیادت میں تبدیلی کے بعد ہوئی۔ چھ اکتوبر کو اراکین نے اسپیکر عقیلہ صالح کی جگہ الصالحین عبدالنبی العبیدی کو منتخب کیا، جو اس سے قبل لیبیائی ترک پارلیمانی دوستی کمیٹی کے سربراہ رہ چکے ہیں۔
مصر نے اقوام متحدہ میں یونان، قبرص، بحرین، متحدہ عرب امارات اور یورپی یونین کے ساتھ مل کر ایک بیان میں ترکی اور لیبیا کے معاہدے کو مسترد کیا ہے۔






