رپورٹ کے اہم نتائج
کمیشن نے اسرائیلی فورسز پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے امتیازی مصروفیت کے قواعد کے تحت اور تقریباً مکمل استثنیٰ کے ساتھ فلسطینی عام شہریوں بشمول بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا۔ رپورٹ میں مغربی کنارے میں فوجی کارروائیوں اور آباد کاروں کے تشدد کو عام شہریوں کے خلاف ایک وسیع اور منظم حملہ قرار دیا گیا ہے۔
- جنگ بندی کے بعد سے لے کر تیس ستمبر تک اسرائیلی حملوں میں غزہ میں ایک ہزار چار سو اکتیس فلسطینی ہلاک ہوئے جن میں تین سو بچے اور ایک سو تیس خواتین شامل ہیں۔
- اکتوبر دو ہزار تئیس سے اب تک اسرائیلی فورسز نے مغربی کنارے بشمول مشرقی یروشلم میں ایک ہزار اسی فلسطینیوں کو ہلاک اور دس ہزار نو سو چالیس کو زخمی کیا ہے۔
- مقبوضہ علاقوں میں مجموعی فلسطینی ہلاکتوں کی تعداد پچھتر ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جن میں کم از کم اکیس ہزار پانچ سو بچے اور گیارہ ہزار خواتین شامل ہیں۔
کمیشن نے عصمت دری، تشدد اور جنسی زیادتی کے واقعات بھی دستاویزی شکل میں پیش کیے ہیں جن کا مقصد فلسطینیوں کو منتشر کرنا، بے دخل کرنا، ذلیل کرنا اور محکوم بنانا تھا۔






