پاکستان نے تائیوانی ایئرلائنز کے پرواز کے حقوق بحال کر دیے
business

پاکستان نے تائیوانی ایئرلائنز کے پرواز کے حقوق بحال کر دیے

Editorial Team•Oct 29, 2026 · 7:33 AM•4 min read
یہ ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ نمائندہ تصویر ہے: ایک تجارتی مسافر طیارہ بلندی پر پرواز کرتے ہوئے، جو بین الاقوامی فضائی حدود اور پرواز کے راستوں کی علامت ہے۔
Editorial Team
Editorial Team
چائنا ایئرلائنز اور ایوا ایئر کو 2027 تک پاکستانی فضائی حدود میں پرواز کی اجازت، تنازع یک چین پالیسی سے جڑا ہے

پاکستان نے دو تائیوانی ایئرلائنز کے پرواز کے حقوق بحال کر دیے ہیں، اور یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب ان طیاروں نے چند روز قبل پاکستانی فضائی حدود کا استعمال روک دیا تھا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس، بلومبرگ اور ڈان کی رپورٹس کے مطابق اسلام آباد نے بدھ کے روز اجازت نامے جاری کیے جن کے تحت تائیوان میں قائم چائنا ایئرلائنز اور ایوا ایئر کو 27 مارچ 2027 تک پاکستانی فضائی حدود میں پرواز کی اجازت ہوگی۔

یہ تبدیلی اس وقت ہوئی جب تائیوانی طیاروں نے 25 اکتوبر کو پاکستانی فضائی حدود سے بچنے کے لیے اپنے راستے تبدیل کرنا شروع کر دیے تھے، جس پر تائی پے نے شدید مذمت کی تھی۔ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسلام آباد کی بیجنگ کی یک چین پالیسی پر مضبوطی سے کاربند رہنے کی روش بین الاقوامی شہری ہوابازی پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے اور تائیوان اور یورپ کے درمیان سفری راستوں کو متاثر کر سکتی ہے۔

اہم پیش رفت

  • پاکستان نے بدھ کے روز چائنا ایئرلائنز اور ایوا ایئر کو پرواز کے اجازت نامے جاری کیے جو 27 مارچ 2027 تک کارآمد رہیں گے۔
  • فلائٹ ٹریکنگ کے اعداد و شمار کے مطابق تائیوانی ایئرلائنز نے 25 اکتوبر کو پاکستانی فضائی حدود سے گریز کے لیے راستے تبدیل کرنا شروع کیے۔
  • وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسلام آباد کی یک چین پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے سابقہ پابندیوں کا دفاع کیا۔
  • تائیوانی ذرائع ابلاغ کے مطابق تائی پے نے اسلام آباد پر تائیوان کی خود مختاری کو نقصان پہنچانے اور فضائی حدود کو سیاسی ہتھیار بنانے کی مذمت کی۔
  • پابندیوں کے بعد تائیوان اور یورپ کے درمیان متعدد پروازوں کو روس کے راستے منتقل کیا گیا۔

پس منظر اور پالیسی تناظر

امریکہ اور روس سمیت بیشتر ممالک تائیوان کو باقاعدہ طور پر ایک آزاد ریاست تسلیم نہیں کرتے۔ بیجنگ اس خود مختار جزیرے کو چین کا حصہ سمجھتا ہے اور ترجیحاً پرامن ذرائع سے اتحاد چاہتا ہے، تاہم اس نے طاقت کے استعمال کا امکان بھی مسترد نہیں کیا۔ واشنگٹن اور متعدد مغربی حکومتیں تائیوان کے ساتھ غیر سرکاری تعلقات رکھتی ہیں اور اسے اسلحہ فراہم کرتی ہیں، جس پر چین سخت ناراضی کا اظہار کرتا ہے۔

چین اور پاکستان کے درمیان قریبی سیاسی اور عسکری تعلقات ہیں اور دونوں اپنے رشتے کو ہمہ موسمی اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری قرار دیتے ہیں۔ چین پاکستان کا سب سے بڑا اسلحہ فراہم کنندہ ہے اور اسلام آباد نے تائیوان کے معاملے پر ہمیشہ بیجنگ کے موقف کی حمایت کی ہے۔ پاکستان کی پابندیاں مبینہ طور پر خود بیجنگ کے قواعد سے بھی آگے تھیں، کیونکہ چین اپنی سرزمین کی فضائی حدود میں تائیوانی ایئرلائنز کی بعض کارروائیوں کی اجازت دیتا ہے۔

سرکاری بیانات اور شواہد

وزیر دفاع خواجہ آصف نے بلومبرگ سے گفتگو میں کہا کہ شعبہ ہوابازی یک چین پالیسی پر عمل پیرا ہے اور صرف سرزمین چین کو اجازت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے صرف چینی ایئرلائنز کو پاکستان کے اوپر سے پرواز کی اجازت دی ہے۔

بلومبرگ کے مطابق اس سے قبل کسی ملک نے تائیوانی تجارتی ایئرلائنز پر مجموعی طور پر پرواز کی پابندی عائد نہیں کی تھی۔ اپریل میں سیشلز، ماریشس اور مڈغاسکر نے تائیوان کے صدر لائی چنگ تے کے طیارے کے لیے پرواز کی منظوری واپس لے لی تھی، جس کے باعث انہیں ایسواتینی کا دورہ ملتوی کرنا پڑا تھا۔ لائی نے بالآخر مئی میں یہ سفر مکمل کیا۔ تائیوانی ایئرلائنز نے 2022 میں یوکرین تنازع کے بڑھنے کے بعد روسی فضائی حدود سے بھی بڑی حد تک گریز کیا تھا، حالانکہ نہ تو ماسکو اور نہ ہی تائی پے نے انہیں باضابطہ طور پر اس کے استعمال سے روکا تھا۔

آئندہ کیا ہوگا

اجازت نامے جاری ہونے کے بعد اب چائنا ایئرلائنز اور ایوا ایئر 27 مارچ 2027 تک پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی مجاز ہیں۔ تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ سابقہ پابندیوں کے راستوں کے تعین یا تائی پے اور اسلام آباد کے درمیان وسیع تر سفارتی تعلقات پر دیرپا اثرات مرتب ہوں گے یا نہیں۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!