بائننس کی 6.3 ارب ڈالر کی چوری، تاریخ کی سب سے بڑی کرپٹو ہیکنگ
news

بائننس کی 6.3 ارب ڈالر کی چوری، تاریخ کی سب سے بڑی کرپٹو ہیکنگ

Editorial Team•Oct 30, 2026 · 7:28 AM•4 min read
یہ ایک AI سے تیار کردہ علامتی تصویر ہے: ایک سائبر سیکیورٹی ماہر کرپٹو کرنسی ایکسچینج کی سیکیورٹی خلاف ورزی کے بعد بلاک چین ڈیٹا کی نگرانی کر رہا ہے۔
Editorial Team
Editorial Team
بائننس ایکسچینج نے جمع و نکاسی معطل کر کے 3 ارب ڈالر منجمد کیے، تفتیش کا رخ شمالی کوریا کے لازارس ہیکرز کی جانب

کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائننس نے تصدیق کی ہے کہ تقریباً 6.3 ارب ڈالر مالیت کے فنڈز چوری ہوئے ہیں، جو بظاہر تاریخ کی سب سے بڑی کرپٹو چوری معلوم ہوتی ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو ایکسچینج نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اس ہیکنگ کے بعد تمام جمع اور نکاسی معطل کر دی گئی ہے اور تقریباً 3 ارب ڈالر کے فنڈز منجمد کر دیے گئے ہیں۔

یہ سیکورٹی خلاف ورزی مرکزی کرپٹو کرنسی ایکسچینجز پر اعتماد کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیتی ہے، جو صارفین کے وسیع اثاثے اپنے پاس رکھتے ہیں۔ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اس واقعے کے عالمی سیکورٹی اثرات مرتب ہوں گے، جبکہ بلاک چین انٹیلی جنس فرم ٹی آر ایم نے "اعلیٰ اعتماد" کے ساتھ اندازہ لگایا ہے کہ اس حملے کا ذمہ دار شمالی کوریا کا سرکاری حمایت یافتہ ہیکنگ یونٹ ہے۔

سیکورٹی خلاف ورزی میں اہم پیش رفت

بائننس کی ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہیکر نے ایک انجینئر کے متاثرہ لیپ ٹاپ تک رسائی حاصل کی، جس کے ذریعے غیر مجاز لین دین ممکن ہوا۔ کمپنی نے تمام نقصانات پورے کرنے کا عہد کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ صارفین کے فنڈز "محفوظ" ہیں۔

بلاک چین انٹیلی جنس فرم ٹی آر ایم نے بتایا کہ اس نے "اعلیٰ اعتماد" کے ساتھ اندازہ لگایا ہے کہ یہ حملہ شمالی کوریا کے ہیکنگ یونٹ ٹریڈر ٹریٹر نے کیا، جسے تفتیش کاروں نے لازارس گروپ سے منسلک کیا ہے۔ اس چوری کے بعد بٹ کوائن کی قیمت تقریباً 5 فیصد گر گئی اور 77 ہزار ڈالر سے نیچے آ گئی۔

حملے کا تاریخی پس منظر اور وسعت

بائننس کی یہ چوری کرپٹو چوری کے سابقہ ریکارڈ کو بہت پیچھے چھوڑ دیتی ہے، جو 2025 میں اس وقت قائم ہوا تھا جب شمالی کوریا کے سرکاری حمایت یافتہ لازارس گروپ نے بائی بٹ ایکسچینج پر 1.5 ارب ڈالر کی چوری کی تھی۔ ٹی آر ایم کی 2026 کی کرپٹو کرائم رپورٹ کے مطابق 2025 میں تقریباً 150 ہیکنگ واقعات میں سائبر مجرموں نے 2.87 ارب ڈالر کے کرپٹو اثاثے چرائے۔

بائننس کی بنیاد 2017 میں چانگ پینگ ژاؤ نے چین میں رکھی تھی۔ کوائن مارکیٹ کیپ کے مطابق اس کے زیر انتظام تقریباً 155 ارب ڈالر کے اثاثے ہیں، جو کسی بھی دوسرے ایکسچینج سے زیادہ ہیں۔ بائننس کے بانی اور سب سے بڑے حصص دار ژاؤ نے قبل ازیں کہا تھا کہ ایکسچینج بظاہر ہیک ہوا ہے۔

سرکاری بیانات اور ماہرین کا تجزیہ

بائننس نے ایک بیان میں کہا: "ہماری ٹیمیں اس مسئلے کو محفوظ اور مکمل طور پر حل کرنے کے لیے دن رات کام کر رہی ہیں۔ ہم ان مجرموں کی شناخت کی تصدیق اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے اپنے قانون نافذ کرنے والے شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون کر رہے ہیں۔" کمپنی نے مزید کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد وہ ایک "تفصیلی" تکنیکی پوسٹ مارٹم شیئر کرے گی۔

ٹی آر ایم کے عالمی پالیسی سربراہ ایری ریڈبورڈ نے اس حملے کو "بے مثال" اور "تاریخی موڑ" قرار دیا۔ انہوں نے خبردار کیا: "جب شمالی کوریا اس پیمانے پر چوری کرتا ہے تو یہ رقم ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور دیگر غیر مستحکم کرنے والی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یہ محض کرپٹو چوری نہیں بلکہ عالمی سیکورٹی کا مسئلہ ہے۔"

سڈنی کی میکوری یونیورسٹی میں کرپٹو مارکیٹس کے ماہر شان فولی نے کہا کہ یہ حملہ مرکزی ایکسچینجز کے خطرات کو اجاگر کرتا ہے اور مزید تاجروں کو غیر مرکزی متبادل استعمال کرنے کی جانب مائل کر سکتا ہے۔ فولی نے کہا: "مرکزی ایکسچینج میں رکھے گئے اثاثے اتنے ہی محفوظ ہوتے ہیں جتنا خود ایکسچینج، اور ایکسچینج کے پاس جتنے زیادہ اثاثے ہوں گے، وہ اتنا ہی بڑا ہدف بن جاتا ہے۔"

موجودہ صورتحال اور اگلے اقدامات

بائننس نے تصدیق کی ہے کہ تمام جمع اور نکاسی اس وقت تک معطل رہے گی جب تک اس کی ٹیمیں سیکورٹی واقعے کو حل نہیں کر لیتیں۔ کمپنی نے تمام نقصانات پورے کرنے کا عہد کیا ہے اور مجرموں کی شناخت کے لیے قانون نافذ کرنے والے شراکت داروں کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد تفصیلی تکنیکی پوسٹ مارٹم شائع کیا جائے گا، تاہم حملہ آوروں کی شناخت کی مزید سرکاری تصدیق ابھی باقی ہے۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!