سیستان و بلوچستان میں چار دہشت گرد نیٹ ورک ختم، 19 افراد گرفتار
news

سیستان و بلوچستان میں چار دہشت گرد نیٹ ورک ختم، 19 افراد گرفتار

Editorial Team•Oct 29, 2026 · 5:23 PM•4 min read
یہ ایک AI سے تیار کردہ علامتی تصویر ہے: ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی اہلکار ضبط شدہ اسلحے کا معائنہ کر رہے ہیں۔
Editorial Team
Editorial Team
ایران میں انٹیلی جنس کارروائیوں کے دوران جاسوسی اور اسلحہ برآمدگی کے الزام میں گرفتاریاں عمل میں آئیں

ایران کی وزارت انٹیلی جنس نے صوبہ سیستان و بلوچستان میں 19 افراد کی گرفتاری کا اعلان کیا ہے، جن میں چار دہشت گرد نیٹ ورکس کے 16 ارکان اور صوبے کے جنوبی علاقے میں سیکیورٹی اور دفاعی تنصیبات کی معلومات اکٹھی کرنے اور منتقل کرنے کے الزام میں ملوث تین کارندے شامل ہیں۔

صوبائی محکمہ انٹیلی جنس کے جاری کردہ بیان کے مطابق، وزارت نے ان ختم کیے گئے نیٹ ورکس کو اُس سے منسلک قرار دیا ہے جسے اُس نے "امریکی صیہونی دشمن" قرار دیا۔

یہ کارروائی ایران کے جنوب مشرقی سرحدی علاقے میں درپیش مسلسل سیکیورٹی چیلنجوں کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں بار بار عسکری سرگرمیاں اور سرحد پار خطرات سامنے آتے رہے ہیں۔ یہ گرفتاریاں اس بات کی عکاس ہیں کہ حکومت صوبے میں سرگرم مسلح گروہوں اور جاسوسی نیٹ ورکس دونوں کا مقابلہ کرنے کے لیے عوامی تعاون اور انٹیلی جنس نگرانی پر یکساں انحصار کرتی ہے۔

اہم گرفتاریاں اور کارروائیاں

صوبہ سیستان و بلوچستان کے محکمہ انٹیلی جنس کے مطابق، چاروں دہشت گرد نیٹ ورکس کی نشاندہی صوبے کے وسطی اور جنوبی حصوں کے مختلف اضلاع میں کی گئی۔ یہ کارروائی عوامی اطلاعات، مسلسل انٹیلی جنس نگرانی اور آپریشنل مانیٹرنگ کی بنیاد پر دیگر سیکیورٹی اداروں کے تعاون سے انجام دی گئی۔

بیان میں کہا گیا کہ گرفتار ہونے والے 16 دہشت گردوں میں سے بعض غیر ملک سے داخل ہوئے تھے۔ اس میں مزید بتایا گیا کہ گرفتار کیے گئے کچھ افراد ایرانشہر کاؤنٹی میں متعدد پولیس اہلکاروں کی شہادت کے ذمہ دار تھے۔

ایک الگ کارروائی میں، جس کا نشانہ وہ کارندے تھے جنہیں وزارت نے دشمن کے جاسوسی اور میڈیا نیٹ ورک سے وابستہ قرار دیا، انٹیلی جنس فورسز نے تین افراد کی شناخت کر کے گرفتار کیا جو صوبے کے جنوبی حصے میں فوجی ہیڈکوارٹرز اور دفاعی و سیکیورٹی تنصیبات کے مقامات سے متعلق معلومات اکٹھی اور منتقل کر رہے تھے۔

علاقے کا سیکیورٹی پس منظر

سیستان و بلوچستان، ایران کا جنوب مشرقی صوبہ جو پاکستان اور افغانستان سے متصل ہے، طویل عرصے سے سیکیورٹی کارروائیوں کا مرکز رہا ہے۔ اس خطے میں سیکیورٹی اہلکاروں اور بنیادی ڈھانچے پر وقفے وقفے سے حملے ہوتے رہے ہیں، اور حکام اکثر سرحد کے ساتھ جاری عدم استحکام کے لیے غیر ملکی حمایت یافتہ گروہوں کو ذمہ دار قرار دیتے رہے ہیں۔

ایرانی حکام نے بارہا مغربی اور علاقائی حریفوں پر صوبے میں عسکری اور جاسوسی سرگرمیوں کی حمایت کا الزام عائد کیا ہے۔ مخصوص ہاٹ لائنز کے ذریعے عوامی اطلاعات کا استعمال ایرانی انٹیلی جنس کی ایک مستحکم حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں مقامی برادریوں کو شامل کیا جاتا ہے۔

ضبط شدہ اسلحہ اور سرکاری اپیل

وزارت کے بیان کے مطابق، سیکیورٹی فورسز نے زیر حراست افراد سے متعدد ہتھیار اور فوجی گولہ بارود برآمد کیا، جن میں نو کلاشنکوف رائفلیں، دو امریکی ایم فور رائفلیں اور سات پستول شامل ہیں، نیز ان سے متعلقہ گولہ بارود بھی ضبط کیا گیا۔

گرفتار شدہ افراد کو عدالتی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ وزارت انٹیلی جنس نے موثر اطلاعات فراہم کرنے پر عوام کا شکریہ ادا کیا اور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر وزارت کی ہاٹ لائن 113 یا سوشل میڈیا پر اس کے سرکاری چینلز کے ذریعے دیں۔

آئندہ کیا ہوگا

تمام 19 گرفتار افراد کو مزید قانونی کارروائی کے لیے عدالتی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ وزارت انٹیلی جنس نے زیر حراست افراد کی شناخت یا ان پر عائد کیے جانے والے مخصوص الزامات کے بارے میں اضافی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، اور عدالتی عمل آگے بڑھنے کے ساتھ مزید معلومات سامنے آنے کی توقع ہے۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!