ایرانی عہدیدار کا جی ای سی ایف اجلاس میں موقف، امریکی اقدامات توانائی کے تحفظ کو نقصان پہنچا رہے ہیں
news

ایرانی عہدیدار کا جی ای سی ایف اجلاس میں موقف، امریکی اقدامات توانائی کے تحفظ کو نقصان پہنچا رہے ہیں

Editorial Team•Oct 26, 2026 · 1:24 PM•4 min read
اے آئی سے تیار کردہ نمائندہ تصویر: گیس برآمد کرنے والے ممالک کے بین الاقوامی فورم کے اجلاس کی وزارتی کانفرنس کا منظر، جو عالمی توانائی کے تحفظ پر گفتگو کی عکاسی کرتا ہے۔
Editorial Team
Editorial Team
حمید بوورد نے ماسکو میں گیس برآمد کرنے والے ممالک کے درمیان سرمایہ کاری اور ترسیل و ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے عالمی توانائی کے تحفظ کے لیے 12 ٹریلین ڈالر کی ضرورت پر خبردار کیا

ایران کے ایک عہدیدار نے پیر کو ماسکو میں گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم (جی ای سی ایف) کو بتایا کہ حالیہ توانائی بحرانوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ توانائی کے تحفظ کو امن، علاقائی استحکام اور قومی خودمختاری کے احترام سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ فورم کے 28ویں وزارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حمید بوورد نے موقف اختیار کیا کہ عالمی توانائی کا تحفظ توانائی پیدا کرنے والوں کے تحفظ، پائیدار سرمایہ کاری کی یقین دہانی اور بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے پر منحصر ہے۔

یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب گیس پیدا کرنے والے بڑے ممالک بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی اور تکنیکی حالات کے تناظر میں طویل مدتی طلب اور سرمایہ کاری کو کیسے محفوظ بنایا جائے، اس پر غور کر رہے ہیں۔ بوورد کا پیغام فورم کے اندر ایران کی اپنے آپ کو ایک اہم شراکت دار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کو اجاگر کرتا ہے، جبکہ مغربی فوجی اقدامات کو عالمی توانائی منڈیوں کے استحکام کے لیے براہ راست خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

اسٹریٹجک ہم آہنگی پر زور

بوورد نے جی ای سی ایف کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ آپس میں ہم آہنگی بہتر بنائیں، غیر متوقع بحرانوں سے نمٹنے کی اپنی صلاحیت میں اضافہ کریں اور بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی و تکنیکی حالات کے مطابق فورم کی طویل مدتی حکمت عملی کو از سر نو ترتیب دیں۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ فورم طویل مدتی طلب، سرمایہ کاری کی ضروریات اور ماحولیاتی پہلوؤں کی روشنی میں عالمی توانائی کے امتزاج میں قدرتی گیس کا حصہ 30 فیصد تک بڑھانے کے لیے ایک روڈ میپ پر غور کرے۔

انہوں نے رکن ممالک سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ مشترکہ مالیاتی طریقہ کار اپنائیں، تکنیکی تعاون کو وسعت دیں اور سرمایہ کاری کے خطرات کم کرنے اور طلب کو مستحکم رکھنے کے لیے پیداواری اور صارف ممالک کے درمیان منظم مکالمے کو فروغ دیں۔

ایران کا موقف اور پیداواری صلاحیت

بوورد نے کہا کہ ایران نے کئی دہائیوں کی پابندیوں اور مسلط کردہ جنگوں کے نتائج کے باوجود قدرتی گیس کی سالانہ پیداواری صلاحیت تقریباً 300 ارب مکعب میٹر تک پہنچا دی ہے، جس سے وہ دنیا کے تین سب سے بڑے گیس پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔ انہوں نے جی ای سی ایف کے اراکین کے ساتھ اپنی تکنیکی اور صنعتی مہارت بانٹنے اور مشترکہ منصوبوں کو وسعت دینے کے لیے ایران کی آمادگی کا اظہار کیا۔

جی ای سی ایف گیس برآمد کرنے والے بڑے ممالک کو اکٹھا کرتا ہے تاکہ وہ اپنی پالیسیوں میں ہم آہنگی پیدا کریں اور عالمی توانائی کے نظام میں قدرتی گیس کے کردار کو فروغ دیں۔ اس کی وزارتی میٹنگیں اراکین کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرتی ہیں جہاں وہ طویل مدتی حکمت عملی، سرمایہ کاری کی ترجیحات اور منڈی کے استحکام پر متحد ہو سکیں۔

طلب اور سرمایہ کاری کے تخمینے

بوورد نے جی ای سی ایف کے ان تخمینوں کا حوالہ دیا جن کے مطابق 2055 تک عالمی گیس کی طلب 31 فیصد بڑھ کر 5.4 ٹریلین مکعب میٹر سے تجاوز کر جائے گی، جس سے عالمی توانائی کے امتزاج میں گیس کا حصہ تقریباً 23 فیصد سے بڑھ کر 26 فیصد ہو جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل کی اس طلب کو پورا کرنے کے لیے اپ اسٹریم اور مڈ اسٹریم شعبوں میں 12 ٹریلین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔

انہوں نے قدرتی گیس کی مسلسل اسٹریٹجک اہمیت پر زور دیا اور مطلوبہ سرمایہ کاری کو ایک اجتماعی ذمہ داری قرار دیا جو پیداواری ممالک کے درمیان مربوط اقدام اور صارفین کے ساتھ منظم شراکت کا تقاضا کرتی ہے۔

آگے کیا ہے

ماسکو اجلاس نے اراکین کو طویل مدتی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کا موقع فراہم کیا، تاہم دستیاب ریمارکس میں کسی پابند فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ بوورد کی تجاویز، جن میں توانائی کے امتزاج میں گیس کا حصہ 30 فیصد تک بڑھانے کا روڈ میپ اور مشترکہ مالیاتی طریقہ کار شامل ہیں، فورم کے زیر غور ہیں۔ وزارتی اجلاس کے کسی باضابطہ نتائج کے بارے میں مزید تفصیلات کی تاحال تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!