روس کا خارکیف میں یوکرینی فوجی رسد کے مراکز پر حملہ
news

روس کا خارکیف میں یوکرینی فوجی رسد کے مراکز پر حملہ

Editorial Team•Oct 26, 2026 · 1:24 PM•4 min read
یہ ایک AI سے تیار کردہ علامتی تصویر ہے: خارکیف علاقے میں رات کے حملوں کے بعد نقصان زدہ فوجی رسد کا مرکز۔
Editorial Team
Editorial Team
ماسکو کے مطابق بحیرہ اسود میں مال بردار جہاز اور 159 فوجی تنصیبات کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا

روس کی وزارت دفاع کے اتوار کو جاری کردہ بیان کے مطابق روسی افواج نے شمال مشرقی خارکیف ریجن میں یوکرین کے فوجی رسد کے نیٹ ورک کو نشانہ بناتے ہوئے رات بھر حملے کیے۔ ان حملوں میں تین ایسے مراکز کو نشانہ بنایا گیا جو مسلح افواج کے لیے سامان اور دوہرے استعمال کی اشیا ذخیرہ کرنے اور تقسیم کرنے کے کام آتے تھے۔

الگ سے روس نے بحیرہ اسود میں ایک مال بردار جہاز پر بھی حملہ کیا جو یوکرین کی بندرگاہ چرنومورسک کے لیے فوجی سامان لے کر جا رہا تھا۔ یہ حملے ایک وسیع تر کارروائی کا حصہ تھے جس میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 159 مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

یہ حملے یوکرین کے فوجی صنعتی اور رسد کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف روس کی طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور ڈرونز کی مہم میں شدت کی عکاسی کرتے ہیں۔ ماسکو نے اس مہم کو یوکرین کی جانب سے روسی شہری اور توانائی تنصیبات پر جاری حملوں کا براہ راست جواب قرار دیا ہے۔

یوکرینی حکام نے خارکیف شہر پر حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ نشانہ بننے والے اہداف میں ایک صنعتی تنصیب بھی شامل تھی۔

رات بھر جاری کارروائی کے اہم اہداف

  • خارکیف ریجن میں تین رسد کے مراکز جو فوجی سامان اور دوہرے استعمال کی اشیا ذخیرہ کرنے اور تقسیم کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے
  • بحیرہ اسود میں ایک مال بردار جہاز جو چرنومورسک کے لیے فوجی سامان لے جا رہا تھا
  • یوکرین کی فوج کو سہارا دینے والا توانائی اور نقل و حمل کا بنیادی ڈھانچہ
  • ڈرونز کی ذخیرہ اندوزی اور لانچنگ کے مقامات

روس کی وزارت دفاع نے بتایا کہ وسیع تر کارروائی میں 24 گھنٹوں کے اندر یوکرین بھر میں مجموعی طور پر 159 مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ ماسکو بارہا یوکرین کی جانب سے روسی سرزمین پر حملوں کو دہشت گردانہ اقدامات قرار دے چکا ہے جن کا مقصد میدان جنگ میں پسپائی کی تلافی کرنا ہے جہاں روسی افواج مسلسل پیش قدمی کر رہی ہیں۔

شدت اختیار کرتی مہم کا پس منظر

روس نے کیف کی جانب سے روسی شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے جواب میں یوکرین کی فوجی اور رسد کی تنصیبات کے خلاف طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور ڈرونز کی کارروائیوں میں شدت اختیار کر لی ہے۔ ان جھڑپوں نے بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی توجہ حاصل کی ہے جس میں کیف اور اس کے مغربی شراکت داروں کے درمیان کشیدگی بھی شامل ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ یوکرین کو نیا صدر ملے اور ولادیمیر زیلنسکی کی جگہ امن مذاکرات کے لیے کوئی نیا شخص تلاش کیا جائے جن کی صدارتی مدت دو سال قبل ختم ہو چکی ہے۔ ٹرمپ نے ماسکو کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کے لیے زیلنسکی کے عزم پر بھی سوال اٹھایا اور واشنگٹن کی بار بار کی درخواستوں کے باوجود روسی آئل ریفائنریوں پر جاری حملوں پر تنقید کی۔

زیلنسکی نے کہا تھا کہ یوکرین کے مغربی حامی اکتوبر میں ایک ہی ہفتے میں دو مرتبہ روسی بیلسٹک میزائل لانچوں کے بارے میں پیشگی وارننگ فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ تاہم انہوں نے برقرار رکھا کہ کیف اور واشنگٹن کے درمیان تعاون معطل نہیں ہوا ہے۔

سرکاری بیانات اور معاون اعداد و شمار

روس کی وزارت دفاع نے بتایا کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام نے صرف اتوار کی رات 532 یوکرینی ڈرونز کو مار گرایا۔ وزارت کے مطابق یہ ڈرونز روس کے دو درجن سے زائد ریجنوں پر حملوں کی کوشش میں استعمال کیے گئے تھے۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ یوکرین کی مدد کر رہا ہے اور انٹیلی جنس معلومات شیئر کر رہا ہے، یہ ایسا مؤقف تھا جس کی زیلنسکی نے بھی اپنے ریمارکس میں تائید کی۔ الگ سے اسپیس ایکس کے چیف ایگزیکٹو ایلون مسک نے کیف پر الزام عائد کیا کہ اس نے ان کی کمپنی کے اسٹارلنک سویلین سیٹلائٹ انٹرنیٹ نیٹ ورک کا غلط استعمال کرتے ہوئے جارحانہ ڈرون حملے کیے۔ مسک نے کہا کہ یوکرینی افواج کو ایسا کرنے کی اجازت دینے والا خامی کا راستہ اب بند کر دیا گیا ہے۔

موجودہ صورتحال اور آئندہ اقدامات

ماسکو کے مطابق روسی افواج میدان جنگ میں پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ دونوں اطراف فوجی اور بنیادی ڈھانچے کے اہداف پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ یوکرینی حکام نے خارکیف میں نقصان کی تصدیق کی ہے تاہم رات بھر کے حملوں کے تفصیلی جائزے ابھی تک محدود ہیں۔

مزید کارروائیوں کے لیے کوئی سرکاری ٹائم لائن ظاہر نہیں کی گئی ہے اور حملوں کی مکمل وسعت کے بارے میں اضافی معلومات کا انتظار ہے۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!