یورپی تیل کمپنیوں کے ریکارڈ منافع توانائی قیمتوں میں اضافے کے دوران
business

یورپی تیل کمپنیوں کے ریکارڈ منافع توانائی قیمتوں میں اضافے کے دوران

Editorial Team•Oct 30, 2026 · 7:29 AM•4 min read
یہ ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ علامتی تصویر ہے: یورپی آئل ریفائنری اور پیٹرول اسٹیشن کا نشان توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور تیل کمپنیوں کے ریکارڈ منافع کی عکاسی کرتا ہے۔
Editorial Team
Editorial Team
ایران پر جنگ کے تناظر میں شیل اور ٹوٹل انرجیز کے سہ ماہی منافع میں زبردست اضافہ جبکہ برسلز میں ونڈ فال ٹیکس کا مطالبہ

یورپ کی سب سے بڑی تیل کمپنیوں نے جولائی سے ستمبر کی سہ ماہی میں اپنے منافع کو دوگنا سے بھی زیادہ کر لیا۔ ایران پر امریکی اسرائیلی جنگ کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے سے ان کمپنیوں کو غیر معمولی فائدہ پہنچا ہے۔ یہ بات جرمنی کے اخبار ڈیر اشپیگل کی جانب سے جمعرات کو مرتب کیے گئے سہ ماہی منافع کے گوشواروں سے سامنے آئی ہے۔

جمعرات کو برینٹ خام تیل 115 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا جو جنگ سے قبل 72 ڈالر تھا جبکہ شمالی سمندر کے کارگو کی فوری قیمت ڈیٹڈ برینٹ 120 ڈالر تک جا پہنچی۔ اس اضافے نے پورے براعظم میں پیٹرول، ڈیزل اور حرارتی تیل کی قیمتوں کو ریکارڈ سطح پر پہنچا دیا ہے جبکہ گھرانے بڑھتے ہوئے توانائی کے بلوں سے پریشان ہیں۔

منافع میں اس غیر معمولی اضافے نے برسلز میں سیاسی کشیدگی کو مزید گہرا کر دیا ہے جہاں کئی حکومتیں توانائی کمپنیوں پر یورپی یونین بھر میں ونڈ فال ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں جبکہ عام صارفین ایندھن اور حرارت کی ریکارڈ قیمتیں برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔ کارپوریٹ آمدنی اور گھریلو مشکلات کے درمیان یہ واضح تضاد یورپی اقتصادی پالیسی کے مباحث میں ایک اہم نکتہ بن چکا ہے۔

ریکارڈ سہ ماہی آمدنی

برطانوی تیل و گیس کمپنی شیل نے جولائی سے ستمبر کے دوران 12.1 ارب ڈالر کا منافع ریکارڈ کیا جو گزشتہ سہ ماہی اور گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں دوگنا سے بھی زیادہ ہے جب اس نے 5.43 ارب ڈالر کمائے تھے۔

  • فرانس کی ٹوٹل انرجیز نے اپنا منافع 127 فیصد بڑھا کر 9.1 ارب ڈالر کر لیا۔
  • اسپین کی ریپسول نے تقریباً پانچ گنا اضافہ ریکارڈ کیا جو 640.7 ملین ڈالر سے بڑھ کر 3.1 ارب ڈالر ہو گیا۔
  • آسٹریا کی او ایم وی نے اپنا منافع 68 فیصد بڑھا کر 2.36 ارب ڈالر کر لیا۔

یہ اضافہ اس دن سے ٹھیک آٹھ ماہ بعد سامنے آیا ہے جب امریکی اور اسرائیلی افواج نے ایران پر بمباری شروع کی تھی، ایک ایسا تنازع جس نے عالمی توانائی کی منڈیوں کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے۔

ونڈ فال ٹیکس کے مطالبات

جرمن وزیر خزانہ لارس کلنگ بائل اور آسٹریا، اٹلی، پولینڈ، پرتگال اور اسپین کے ان کے ہم منصبوں نے تیل کمپنیوں پر یورپی یونین بھر میں ونڈ فال ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو 2022 میں روس یوکرین تنازع کے بڑھنے کے بعد برسلز کی جانب سے عائد کردہ یکجہتی لیوی کی مانند ہوگا۔

گزشتہ ماہ آئرلینڈ میں یورپی وزرائے خزانہ کے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کلنگ بائل نے کہا کہ کمیشن اس معاملے پر بہت محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے حالانکہ کئی رکن ممالک طویل عرصے سے ماڈل پیش کیے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے اصرار کیا کہ اس سلسلے میں کارروائی زیادہ سے زیادہ اکتوبر میں وزرائے خزانہ کے اگلے اجلاس تک ضرور ہونی چاہیے۔

برسلز کا رکن ممالک پر انحصار

یورپی کمیشن نے کلنگ بائل کی تجویز مسترد کر دی اور اکتوبر برسلز کی جانب سے کسی کارروائی کے بغیر گزر گیا۔ یورپی اقتصادی کمشنر والڈس ڈومبروسکس نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ معاملہ رکن ممالک کے ہاتھ میں ہے اور انہوں نے مزید کہا کہ انفرادی حکومتیں ونڈ فال منافع پر ٹیکس کے حوالے سے خود فیصلے کر سکتی ہیں۔

کمیشن کا یہ موقف چھ وزرائے خزانہ کے مربوط دباؤ کے باوجود کسی بھی لیوی کا سوال مربوط یورپی میکانزم کے بجائے قومی حکومتوں پر چھوڑ دیتا ہے۔

آگے کیا ہوگا

کلنگ بائل کی جانب سے تجویز کردہ اکتوبر کی میعاد بغیر کسی کارروائی کے گزر جانے کے بعد یورپی یونین بھر میں کوئی ونڈ فال ٹیکس طے نہیں ہو سکا ہے۔ کمیشن نے واضح کیا ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات انفرادی رکن ممالک کو خود اپنانے ہوں گے جس کا مطلب ہے کہ آگے کا راستہ مربوط یورپی اقدام کے بجائے قومی پالیسی فیصلوں پر منحصر ہوگا۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!