مشی گن کی چیف میڈیکل ایگزیکٹو ڈاکٹر نتاشا بگداساریان نے کہا کہ ابتدائی تفتیشی معلومات بار بار لیٹس کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔ بیان میں انہوں نے کہا:
“ابتدائی معلومات سے یہ سامنے آیا ہے کہ لیٹس ایک ایسی عام چیز ہے جو تفتیش کے دوران باقاعدگی سے سامنے آتی رہی ہے۔”
مشی گن ڈیپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز کے مطابق ابھی یہ ممکن نہیں کہ اس میں شامل کسی مخصوص سبزی، کاشتکار یا سپلائر کی نشان دہی کی جا سکے، اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر دیگر غذائی اشیا کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔
قومی سطح پر سی ڈی سی کے مطابق یہ خوراک کے ذریعے پھیلنے والی معدے اور آنتوں کی بیماری ۳۱ ریاستوں میں سامنے آ چکی ہے اور ۸۶ افراد اسپتال میں داخل ہوئے ہیں۔ صحت ماہرین نے توجہ دلائی کہ کیسز کی رپورٹنگ میں تاخیر ہو سکتی ہے، کیونکہ علامات ظاہر ہونے میں تقریباً ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔
اس دوران مشی گن کے صحت حکام نے صارفین کے لیے احتیاطی ہدایات بھی جاری کیں تاکہ ماخذ کی تصدیق تک خطرہ کم کیا جا سکے۔ حکام نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ پہلے سے پیک کیے گئے سلاد سے گریز کریں، لیٹس کی الگ الگ گڈیاں یا پتے منتخب کریں، انہیں اچھی طرح دھوئیں، بیرونی تہیں الگ کر دیں اور جہاں ممکن ہو سبزیوں کو پکا کر استعمال کریں۔






