سائیکلوسپوریاسس پھیلاؤ: مشیگن میں لیٹس پر شبہ
science-and-technology

سائیکلوسپوریاسس پھیلاؤ: مشیگن میں لیٹس پر شبہ

Editorial TeamJul 14, 2026 · 4:38 PM7 min read
AI سے تیار کردہ نمائندہ تصویر: سائیکلو سپوریاسس پھیلاؤ کے دوران خوراک سے پھیلنے والی بیماری کے ماخذ کی تفتیش میں لیٹش کی جانچ۔
Editorial Team
Editorial Team
سی ڈی سی کے مطابق 31 ریاستوں میں کیسز، لیٹس و سلاد سبزیوں پر تحقیقات جاری

مشی گن کے صحت حکام کا کہنا ہے کہ سائیکلو سپوریاسس کے ریاستی پھیلاؤ کا ممکنہ ذریعہ لیٹس یا دیگر سلاد والی سبزیاں ہو سکتی ہیں۔ یہ ایک طفیلی (پیرسائٹ) سے پھیلنے والا انفیکشن ہے جو شدید اسہال کا سبب بن سکتا ہے۔ مشی گن ڈیپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز کے مطابق یہ معلومات پیر کو شیئر کی گئیں، جب تفتیش کار یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ رہائشی اس بیماری کے جراثیم کے سامنے کیسے آ رہے ہیں۔

وفاقی صحت حکام نے بھی ۳۱ ریاستوں میں پھیلے ایک بڑے قومی پھیلاؤ کی اطلاع دی ہے، جس میں مجموعی کیسز کی تعداد تین ہزار کے قریب اور کم از کم ۸۶ افراد اسپتال میں داخل ہوئے ہیں، یہ بات امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن (سی ڈی سی) نے بتائی۔ مشی گن میں اب تک ۲,۶۴۰ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جو کسی بھی ریاست کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہیں۔

یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کہ سائیکلو سپوریاسس شدید معدے اور آنتوں کی بیماری اور پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) کا باعث بن سکتی ہے، جبکہ لیٹس اور سلاد والی سبزیاں بڑے پیمانے پر کھائی جاتی ہیں اور عموماً کچی استعمال ہوتی ہیں—ایسی صورت میں اگر یہ آلودہ ہوں تو بیماری لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

حکام نے زور دیا کہ تفتیش ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ مشی گن میں زیرِ جانچ کیسز کے حوالے سے لیٹس کا مشترک پہلو سامنے آیا ہے، تاہم حکام کے مطابق فی الحال اتنے شواہد موجود نہیں کہ کسی مخصوص سبزی کی قسم، کاشتکار یا سپلائر کی نشاندہی کی جا سکے۔

مشی گن کی چیف میڈیکل ایگزیکٹو ڈاکٹر نتاشا بگداساریان نے کہا کہ ابتدائی تفتیشی معلومات بار بار لیٹس کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔ بیان میں انہوں نے کہا:

“ابتدائی معلومات سے یہ سامنے آیا ہے کہ لیٹس ایک ایسی عام چیز ہے جو تفتیش کے دوران باقاعدگی سے سامنے آتی رہی ہے۔”

مشی گن ڈیپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز کے مطابق ابھی یہ ممکن نہیں کہ اس میں شامل کسی مخصوص سبزی، کاشتکار یا سپلائر کی نشان دہی کی جا سکے، اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر دیگر غذائی اشیا کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

قومی سطح پر سی ڈی سی کے مطابق یہ خوراک کے ذریعے پھیلنے والی معدے اور آنتوں کی بیماری ۳۱ ریاستوں میں سامنے آ چکی ہے اور ۸۶ افراد اسپتال میں داخل ہوئے ہیں۔ صحت ماہرین نے توجہ دلائی کہ کیسز کی رپورٹنگ میں تاخیر ہو سکتی ہے، کیونکہ علامات ظاہر ہونے میں تقریباً ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔

اس دوران مشی گن کے صحت حکام نے صارفین کے لیے احتیاطی ہدایات بھی جاری کیں تاکہ ماخذ کی تصدیق تک خطرہ کم کیا جا سکے۔ حکام نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ پہلے سے پیک کیے گئے سلاد سے گریز کریں، لیٹس کی الگ الگ گڈیاں یا پتے منتخب کریں، انہیں اچھی طرح دھوئیں، بیرونی تہیں الگ کر دیں اور جہاں ممکن ہو سبزیوں کو پکا کر استعمال کریں۔

سائیکلو سپوریاسس خوراک کے ذریعے پھیلنے والی معدے اور آنتوں کی بیماری ہے جو ایک طفیلی جرثومے کے باعث ہوتی ہے۔ اس پھیلاؤ میں حکام کے مطابق بیماری کی نمایاں علامت شدید اسہال ہے، جو اتنا سنگین ہو سکتا ہے کہ روزمرہ معمولات متاثر ہو جائیں اور طبی امداد کی ضرورت پیش آ جائے۔

خوراک سے پھیلنے والی بیماریوں کی تفتیش میں عموماً مریضوں کے انٹرویوز اور ممکنہ نمائش کی تاریخ (ایکسپوژر ہسٹری) کے ذریعے ان غذاؤں کی تلاش کی جاتی ہے جو بار بار سامنے آتی ہیں۔ مشی گن حکام کے مطابق ریاست میں جاری تفتیش کے دوران لیٹس کا ذکر کثرت سے آیا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ابھی تک کسی ایک پروڈکٹ کی حتمی شناخت نہیں ہو سکی اور دیگر غذائیں بھی اس میں شامل ہو سکتی ہیں۔

یہ پھیلاؤ صرف مشی گن تک محدود نہیں۔ سی ڈی سی نے ۳۱ ریاستوں پر مشتمل ایک کثیرریاستی پھیلاؤ بیان کیا ہے، جس میں مجموعی کیسز کی تعداد تین ہزار کے قریب ہے۔ رپورٹ شدہ کیسز میں مشی گن کے ۲,۶۴۰ کیسز اکثریت کی نمائندگی کرتے ہیں، جس کے باعث جاری تفتیش میں ریاست مرکزی توجہ بن گئی ہے۔

صحت حکام کے مطابق کیس رپورٹنگ اکثر حقیقی وقت میں پھیلاؤ کے پیچھے رہ جاتی ہے۔ ماہرین نے انکیوبیشن پیریڈ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ علامات ظاہر ہونے میں ایک ہفتہ لگ سکتا ہے، جس سے بیماریوں کی شناخت، تشخیص اور سرکاری شمار میں شمولیت میں تاخیر ہو جاتی ہے۔

چونکہ لیٹس اور سلاد والی سبزیاں عام طور پر کچی کھائی جاتی ہیں اور گھریلو کھانوں کے ساتھ ساتھ تیار شدہ غذاؤں میں بھی شامل ہوتی ہیں، اس لیے اگر ان کا کسی پھیلاؤ سے تعلق ثابت ہو جائے تو اس کے صارفین اور خوراک کی سپلائی چین دونوں پر نمایاں اثرات پڑ سکتے ہیں۔ مشی گن حکام نے تاحال بیماریوں کو کسی خاص کاشتکار یا سپلائر سے نہیں جوڑا۔

مشی گن کی تازہ اپ ڈیٹ ان معلومات پر مبنی ہے جنہیں حکام نے ریاستی تفتیش کے دوران اکٹھی ہونے والی ابتدائی معلومات قرار دیا۔ ریاست کی چیف میڈیکل ایگزیکٹو ڈاکٹر نتاشا بگداساریان نے بیان میں کہا:

“ابتدائی معلومات سے یہ سامنے آیا ہے کہ لیٹس ایک ایسی عام چیز ہے جو تفتیش کے دوران باقاعدگی سے سامنے آتی رہی ہے۔”

مشی گن ڈیپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز کے مطابق شواہد ابھی اتنے نہیں کہ اس میں شامل درست پروڈکٹ کی نشاندہی کی جا سکے۔ محکمے نے اہم نامعلوم پہلوؤں کی نشان دہی کی، جن میں مخصوص سبزی کی قسم کے ساتھ ساتھ کاشتکار اور سپلائر شامل ہیں۔ محکمے نے مزید کہا کہ اس مرحلے پر دیگر غذائی اشیا کو بھی ممکنہ ذریعہ قرار دے کر خارج نہیں کیا جا سکتا۔

قومی سطح پر صحت اداروں کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار مسئلے کی وسعت واضح کرتے ہیں۔ سی ڈی سی کے مطابق ۳۱ ریاستوں میں مجموعی کیسز کی تعداد تین ہزار کے قریب ہے اور ۸۶ افراد اسپتال میں داخل ہوئے ہیں۔ ماہرین نے کہا کہ رپورٹ شدہ کیسز میں اضافہ ممکن ہے، کیونکہ عام طور پر علامات ظاہر ہونے میں لگ بھگ ایک ہفتہ لگتا ہے اور اس کے بعد مزید مریض شناخت ہو کر سرکاری شمار میں شامل ہوتے ہیں۔

حکام کے مطابق بیماری کی ابتدا بعض اوقات فلو جیسی علامات سے ہو سکتی ہے، جیسے شدید تھکن اور جسم میں درد، جس کے بعد پانی جیسے دست شروع ہو سکتے ہیں جو کبھی کبھار قابو سے باہر بھی ہو جاتے ہیں۔ دیگر علامات میں غیر معمولی طور پر زیادہ گیس، پیٹ میں مروڑ اور متلی شامل ہو سکتی ہیں۔

حکام نے خبردار کیا کہ پانی کی کمی اس بیماری کی سنگین پیچیدگیوں میں سے ایک ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق علاج میں سیال مادّوں (فلوئیڈز) کی فراہمی اور ایک اینٹی بایوٹک شامل ہو سکتی ہے۔

احتیاطی اقدام کے طور پر مشی گن حکام نے صارفین کو مشورہ دیا کہ پہلے سے پیک کیے گئے سلاد سے پرہیز کریں، لیٹس کی الگ الگ گڈیاں یا پتے منتخب کریں، انہیں اچھی طرح دھوئیں، بیرونی تہیں ضائع کر دیں اور جہاں ممکن ہو سبزیوں کو پکا کر استعمال کریں۔

مشی گن حکام کے مطابق ریاست میں بیمار ہونے والے افراد کے درمیان لیٹس ایک ایسی چیز کے طور پر بار بار رپورٹ ہوئی ہے، تاہم وہ اب تک کسی مخصوص سبزی کی قسم، کاشتکار یا سپلائر کی تصدیق نہیں کر سکے۔ ریاست نے یہ بھی کہا کہ دیگر غذائیں بھی ممکنہ ذرائع میں شامل ہیں اور انہیں خارج نہیں کیا گیا۔

قومی سطح پر سی ڈی سی ۳۱ ریاستوں میں پھیلاؤ کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے، جس میں اسپتال میں داخلے بھی شامل ہیں۔ صحت ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ رپورٹنگ میں تاخیر ہو سکتی ہے کیونکہ علامات ظاہر ہونے میں تقریباً ایک ہفتہ لگتا ہے، اس لیے تفتیش اور رپورٹنگ کے ساتھ مزید تصدیق شدہ کیسز کی اپ ڈیٹس متوقع ہیں۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!