حمل میں ایسیٹامینوفین اور ADHD خطرہ: بہن بھائیوں کا مطالعہ
science-and-technology

حمل میں ایسیٹامینوفین اور ADHD خطرہ: بہن بھائیوں کا مطالعہ

Editorial TeamJul 2, 2026 · 7:40 AM4 min read
Editorial Team
Editorial Team
نئی تحقیق میں سبلنگ کمپیریزن کے ذریعے حمل کے دوران دردکش کے استعمال اور بچوں میں اعصابی نشوونما کے ممکنہ اثرات کا جائزہ

Voice of Urdu کی رپورٹ کے مطابق نئی تحقیق میں یہ سامنے آیا ہے کہ حمل کے دوران ماؤں کی جانب سے ایسیٹامینوفین (acetaminophen) کے استعمال کا تعلق بچوں میں توجہ کی کمی/حد سے زیادہ سرگرمی کی خرابی (ADHD) کے بڑھتے ہوئے خطرے سے پایا گیا۔ مطالعے میں ایک ہی خاندان کے بہن بھائیوں کا تقابلی جائزہ لیا گیا اور یہ تعلق خاص طور پر اُن بعد میں پیدا ہونے والے بہن بھائیوں میں دیکھا گیا جن کی ماؤں نے حمل کے دوران ایسیٹامینوفین استعمال کیا تھا۔

یہ نتائج ایسیٹامینوفین—جو Tylenol جیسے برانڈ ناموں سے عام طور پر فروخت ہوتی ہے—کے حوالے سے جاری جانچ پڑتال میں مزید اضافہ کرتے ہیں، کیونکہ اسے درد اور بخار کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے، بشمول حمل کے دوران بھی۔ بہن بھائیوں کا آپس میں موازنہ (sibling-comparison) کرکے تحقیق کا مقصد مشترکہ خاندانی اور جینیاتی عوامل کے اثرات کو کم کرنا تھا، جو بچوں کی اعصابی نشوونما (neurodevelopment) سے متعلق مطالعات میں اکثر پیچیدگی پیدا کرتے ہیں۔

اہم پیش رفت

  • محققین کے مطابق رحمِ مادر میں ایسیٹامینوفین کے زیرِ اثر آنا بچوں میں ADHD کے زیادہ خطرے سے منسلک پایا گیا۔

  • تجزیے میں سبلنگ کمپیریزن (sibling-comparison) طریقۂ کار اپنایا گیا، جس میں ایک ہی خاندان کے اندر بعد میں پیدا ہونے والے بہن بھائیوں کا اُن کے پہلے پیدا ہونے والے بہن بھائیوں کے تناظر میں موازنہ کیا گیا۔

  • یہ تعلق خاص طور پر اُن بعد میں پیدا ہونے والے بہن بھائیوں میں رپورٹ ہوا جن کی ماؤں نے حمل کے دوران ایسیٹامینوفین استعمال کیا، اُن بہن بھائیوں کے مقابلے میں جو رحمِ مادر میں اس کے زیرِ اثر نہیں آئے تھے۔

پس منظر اور تناظر

ایسیٹامینوفین درد اور بخار میں آرام کے لیے استعمال ہونے والی سب سے عام ادویات میں سے ایک ہے، اور حاملہ خواتین میں بھی اس کا استعمال پایا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں رحمِ مادر میں ایسیٹامینوفین کے زیرِ اثر آنے اور اعصابی/دماغی نشوونما (neurodevelopmental) کے نتائج کے درمیان ممکنہ تعلق پر بحث جاری رہی ہے، جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ متعدد مطالعات میں مخدوش کرنے والے عوامل (confounding factors) اثرانداز ہو سکتے ہیں، جیسے والدین کی صحت کی کیفیتیں، جینیات اور مشترکہ ماحولیاتی اثرات۔

سائنسی مباحث اور پالیسی فیصلوں میں شواہد پر مبنی طرزِ عمل کی اہمیت—چاہے موضوع صحت عامہ ہو یا دیگر شعبے—حالیہ خبروں میں بھی نمایاں رہی ہے، جیسے بھارت کی پارلیمنٹ کی آن لائن جواری کھیلوں پر پابندی سے متعلق رپورٹ میں۔

تفصیلات اور شواہد

Voice of Urdu کے مطابق محققین نے بہن بھائیوں کے درمیان exposure کے فرق پر توجہ دی تاکہ خاندانوں کے اندر مشترکہ خصوصیات کا بہتر طور پر حساب رکھا جا سکے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ جب ماؤں نے حمل کے دوران ایسیٹامینوفین استعمال کیا تو بعد میں پیدا ہونے والے بہن بھائیوں میں ADHD کا خطرہ اُن کے اُن بہن بھائیوں کے مقابلے میں زیادہ تھا جو اس کے زیرِ اثر نہیں آئے تھے۔

موجودہ صورتحال / آگے کیا ہوگا

Voice of Urdu کے مطابق یہ مطالعہ مشاہداتی تجزیہ (observational analysis) کے طور پر رپورٹ کیا گیا، یعنی اس میں ایک تعلق (association) کی نشاندہی کی گئی ہے؛ یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ ایسیٹامینوفین ہی ADHD کی وجہ بنتی ہے۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ حمل کے دوران ادویات کے استعمال اور بچوں کی اعصابی نشوونما کے حوالے سے مزید تحقیق ضروری ہے، خصوصاً ایسے تحقیقی ڈیزائنز کے ساتھ جو ادویات کے ممکنہ اثرات کو خاندانی عوامل سے بہتر طور پر الگ کر سکیں۔

مزید پس منظر کے لیے، عالمی پالیسی اور فیصلوں میں شواہد و اثرات کے تناظر پر ہماری دیگر رپورٹ ٹرمپ کا اعلان: امریکہ حکومت کا انٹیل میں 10 فیصد حصص کا حصول بھی ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!