مچھر کچھ لوگوں کو زیادہ کیوں کاٹتے ہیں؟ سائنسی وجہ
science-and-technology

مچھر کچھ لوگوں کو زیادہ کیوں کاٹتے ہیں؟ سائنسی وجہ

Editorial TeamJul 11, 2026 · 6:32 PM6 min read
اے آئی سے تیار کردہ نمائندہ تصویر: انسانی جلد پر مچھر، جو یہ دکھاتی ہے کہ کچھ لوگوں کو مچھر زیادہ کیوں کاٹتے ہیں۔
Editorial Team
Editorial Team
کاربن ڈائی آکسائیڈ، جسمانی بو، مائیکرو بایوم اور جینیاتی فرق مچھر کے کاٹنے کے امکانات کو متاثر کرتے ہیں

کچھ لوگ مسلسل دوسروں کے مقابلے میں زیادہ مچھروں کا نشانہ بنتے ہیں، اور محققین کے مطابق یہ فرق محض اتفاق نہیں۔ وائس آف اردو کے حوالے سے سامنے آنے والی تحقیقات بتاتی ہیں کہ مچھر میزبان کو ڈھونڈنے کے لیے کیمیائی اشاروں کا مجموعہ استعمال کرتے ہیں خاص طور پر سانس کے ساتھ خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ، جلد سے اٹھنے والی جسمانی بو اور جسم کی حرارت۔ اسی لیے حمل، الکحل کا استعمال، کپڑوں کا رنگ اور کسی شخص کی جلد پر موجود خردنامیوں (مائیکرو بایوم) کی ساخت جیسے عوامل مختلف اقسام کے مچھروں کے لیے کسی فرد کی کشش کو بڑھا یا گھٹا سکتے ہیں۔

یہ جاننا اس لیے اہم ہے کہ مچھر صرف پریشانی کا باعث نہیں ہوتے بلکہ دنیا کے کئی حصوں میں ملیریا، ڈینگی اور زیکا جیسی بیماریوں کی ترسیل بھی کرتے ہیں۔ مچھر انسانوں تک کیسے پہنچتے ہیں اور کن اشاروں پر زیادہ انحصار کرتے ہیں، اس پر ہونے والی تحقیق سائنس دانوں کو بہتر ریپلنٹس، جال اور دیگر کنٹرول طریقے بنانے میں مدد دے رہی ہے، جبکہ افراد بھی اس سمجھ بوجھ کی بنیاد پر اپنے لیے کاٹے جانے کے خطرے کو کم کر سکتے ہیں۔ مزید عالمی صورتحال اور صحتِ عامہ کے تناظر میں اپ ڈیٹس کے لیے اسرائیلی حملوں پر عالمی ردعمل بھی دیکھیے۔

تحقیق سے سامنے آنے والی اہم باتیں

  • مچھر لوگوں کو بے ترتیب طور پر نہیں چنتے؛ وہ میزبان کا سراغ کئی اشاروں سے لگاتے ہیں، جن میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، جلد کی بو اور جسم کی حرارت شامل ہیں۔

  • کاربن ڈائی آکسائیڈ دور سے راستہ دکھانے والا مضبوط اشارہ ہے۔ جو لوگ زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہیں اکثر بڑے جسم والے بالغ افراد اور جسمانی سرگرمی کرنے والے مچھروں کے لیے نسبتاً آسانی سے قابلِ شناخت ہو سکتے ہیں۔

  • قریب فاصلے پر جلد کی بو فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ جلد سے خارج ہونے والے کیمیائی مادّوں کا امتزاج ہر شخص میں مختلف ہوتا ہے اور یہ فرق بعض افراد کو مچھروں کی مخصوص اقسام کے لیے زیادہ پُرکشش بنا سکتا ہے۔

  • انسانی جلد پر رہنے والے خردنامیوں (مائیکروبز) کی برادری جسمانی بو میں تبدیلی لا سکتی ہے اور مچھروں کی کشش پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

  • جینیاتی عوامل بھی کردار ادا کر سکتے ہیں، جس سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ ایک جیسے ماحول میں بھی کچھ لوگ زیادہ بار کیوں کاٹے جاتے ہیں۔

  • کچھ مطالعات میں حمل کو مچھروں کی بڑھتی ہوئی کشش سے جوڑا گیا ہے، جن میں یہ وجہ بھی شامل ہے کہ حاملہ افراد نسبتاً زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کر سکتے ہیں اور جسم کا درجۂ حرارت بھی بلند ہو سکتا ہے۔

  • تحقیقی شواہد کے مطابق بعض حالات میں الکحل کا استعمال بھی مچھروں کے لیے کشش بڑھنے سے منسلک پایا گیا ہے۔

  • کپڑوں کا انتخاب بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ کچھ مچھر گہرے رنگوں کی طرف زیادہ متوجہ ہوتے ہیں، ممکن ہے کہ یہ رنگ انہیں زیادہ واضح دکھائی دیتے ہوں۔

مچھر انسانوں تک کیسے پہنچتے ہیں

محققین کے مطابق مچھروں کا میزبان تک پہنچنے کا عمل مرحلہ وار ہوتا ہے۔ دور سے وہ انسان کے سانس کے ذریعے بننے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی لہر (پلوم) کو محسوس کر سکتے ہیں۔ جیسے جیسے وہ قریب آتے ہیں، جلد اور پسینے کی بو پر انحصار بڑھ جاتا ہے، پھر حرارت اور نمی کے اشاروں کی مدد سے وہ یہ طے کرتے ہیں کہ کہاں بیٹھنا ہے اور کہاں کاٹنا ہے۔

تاہم تمام مچھر ایک جیسے نہیں ہوتے۔ مختلف اقسام کی ترجیحات بھی مختلف ہوتی ہیں میزبان کے انتخاب میں بھی اور ان کیمیائی اشاروں میں بھی جن پر وہ زیادہ بھروسا کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک جگہ ایک شخص مچھروں کے لیے مقناطیس بن سکتا ہے، جبکہ دوسری جگہ کسی اور کو نسبتاً زیادہ کاٹے لگ سکتے ہیں۔

کن عوامل سے آپ کے کاٹے جانے کا خطرہ بڑھتا ہے

جسمانی ساخت، سرگرمی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ

وائس آف اردو کے مطابق کاربن ڈائی آکسائیڈ اُن مضبوط ترین اشاروں میں شامل ہے جو مچھروں کو انسان کی طرف کھینچتے ہیں۔ جو لوگ جسمانی ساخت یا جسمانی مشقت کے باعث زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہیں، وہ مچھروں کو زیادہ نمایاں محسوس ہو سکتے ہیں خاص طور پر پرسکون اور ٹھہری ہوئی ہوا میں، جہاں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی لہر کا سراغ نسبتاً آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔

جلد کی کیمسٹری اور خردنامیے

جب مچھر نزدیک پہنچ جاتے ہیں تو جلد کی بو کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ سائنس دانوں نے انسان کی جلد اور پسینے سے بننے والے کیمیائی امتزاج اور جلد پر رہنے والے خردنامیوں میں فرق کو مچھروں کی کشش میں فرق سے جوڑا ہے۔ یہ خردنامیے پسینے کو توڑ کر ایسے اُڑنے والے مرکبات (وولیٹائل کمپاؤنڈز) بنا سکتے ہیں جنہیں مچھر سونگھ سکتے ہیں، اور یوں بو کی نوعیت بدل جاتی ہے۔

درجۂ حرارت، حمل اور دیگر عوامل

قریب فاصلے پر حرارت بھی ایک اشارہ ہے جسے مچھر استعمال کرتے ہیں۔ وائس آف اردو کے حوالے سے بیان کردہ تحقیق کے مطابق کچھ مطالعات میں حاملہ افراد کی طرف مچھروں کی کشش بڑھتی ہوئی دیکھی گئی ہے، جس کی ممکنہ وجہ جسم کا زیادہ درجۂ حرارت اور سانس کے ذریعے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج ہو سکتی ہے۔

تحقیق میں دیگر عوامل کے طور پر الکحل کے استعمال اور کپڑوں کے رنگ کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جہاں بعض مواقع پر گہرے رنگوں کو مچھروں کی بڑھتی ہوئی کشش سے منسلک پایا گیا۔

جینیات

سائنس دان جینیاتی اثرات کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں، جو جلد کی کیمسٹری، جسم کے دفاعی ردِعمل اور مائیکرو بایوم کو متاثر کر سکتے ہیں—اور یہی عوامل مل کر کسی فرد کو کاٹنے والے حشرات کے لیے کم یا زیادہ پُرکشش بنا سکتے ہیں۔

اب آپ کیا کر سکتے ہیں

محققین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کوئی ایک ہی عنصر یہ طے نہیں کرتا کہ کون زیادہ کاٹا جائے گا، اور کاٹوں میں کمی کے لیے عموماً تہہ در تہہ حفاظتی اقدامات ضروری ہوتے ہیں خاص طور پر اُن علاقوں میں جہاں مچھر بیماری پھیلاتے ہیں۔ صحتِ عامہ کے اداروں کی عام سفارشات میں حشرات کُش ریپلنٹ کا استعمال، لمبی آستین اور پاجامہ/پتلون پہننا، ضرورت کے مطابق مچھر دانی کا استعمال، اور مچھروں کی افزائش گاہوں کو کم کرنے کے لیے ٹھہرے ہوئے پانی کا خاتمہ شامل ہے۔

سائنس دان یہ جاننے پر تحقیق جاری رکھے ہوئے ہیں کہ جلد کے کون سے مخصوص کیمیائی مادّے اور خردنامیوں کے کون سے امتزاج مچھروں کو سب سے زیادہ متوجہ کرتے ہیں، تاکہ بہتر ریپلنٹس بنائے جا سکیں اور جالوں کے لیے مؤثر تر لُبھانے والے عناصر تیار ہوں۔ مزید تحقیق میں یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ مچھروں کی اقسام کے باہمی فرق اس بات پر کیسے اثر ڈالتے ہیں کہ وہ کن لوگوں کو زیادہ نشانہ بناتے ہیں۔ عالمی تنازعات اور علاقوں کی تازہ صورتِ حال سے متعلق مزید پڑھنے کے لیے یوکرین پر روس کی وارننگ ملاحظہ کریں۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!