غزہ کے طبی عملے پر جنگ کے نفسیاتی زخم اور ذہنی بحران
news

غزہ کے طبی عملے پر جنگ کے نفسیاتی زخم اور ذہنی بحران

Editorial Team•Nov 1, 2026 · 10:12 AM•5 min read
یہ ایک AI سے تیار کردہ علامتی تصویر ہے: غزہ کے اسپتال کے ایک وارڈ میں ایک ڈاکٹر، جو جنگی زخمیوں کے علاج کے دوران طبی عملے پر پڑنے والے نفسیاتی دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔
Editorial Team
Editorial Team
اسرائیلی حملوں میں اپنے پیارے کھونے والے ڈاکٹر اور نرسیں صدمے کے علاج کے ساتھ زخمیوں کی خدمت جاری رکھے ہوئے ہیں

دو سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے باعث غزہ کے طبی عملے کو ایک گہرے نفسیاتی بحران کا سامنا ہے، جہاں بہت سے افراد اسرائیلی حملوں میں مارے جانے والے اپنے پیاروں کے غم میں ڈوبے ہوئے زخمیوں کا علاج کر رہے ہیں۔ غزہ کے گورنمنٹ میڈیا آفس کے مطابق کم از کم ایک ہزار سات سو طبی عملہ شہید ہو چکا ہے اور تراسی صحت کارکن اسرائیلی حراست میں ہیں، تاہم یہ اعداد و شمار ان لوگوں کے پوشیدہ دکھ، سوگ، بے گھری اور تھکن کی اصل تصویر پیش نہیں کرتے جو اب بھی ڈیوٹی پر موجود ہیں۔

دیر البلاح کے الاقصیٰ شہداء ہسپتال میں انتیس سالہ اینستھیزیالوجسٹ منار فیاض نے ستائیس دسمبر دو ہزار تئیس کو آپریشن تھیٹر میں لائے جانے والے شدید زخمیوں میں اپنے بھائی شادی کو پہچانا۔ فیاض ان تک پہنچ پاتے اس سے پہلے ہی وہ دم توڑ چکے تھے۔

ڈاکٹروں اور نرسوں کو پہنچنے والا یہ صدمہ اب غزہ کے پہلے سے تباہ حال نظام صحت کی بقا کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر عملے کی شہادت، گرفتاری یا زخمی ہونے کے باعث جو لوگ بچے ہیں وہ حد سے زیادہ کام کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور انہیں ذہنی صحت کی سہولتیں بھی تقریباً میسر نہیں۔ اس صورتحال نے طبی عملے کے بیرون ملک نقل مکانی کے خدشات کو جنم دیا ہے، جس سے یہ اندیشہ پیدا ہوا ہے کہ زخمیوں کی دیکھ بھال کے لیے تربیت یافتہ عملہ غزہ میں باقی نہیں رہے گا۔

طبی عملے کے ذاتی نقصانات

فیاض اپنے بھائی کی شناخت کے بعد سے کام جاری رکھنے کے قابل نہیں رہے اور ان کا پیشہ ورانہ سفر وقت سے پہلے ہی ختم ہو گیا۔ وہ سماجی زندگی سے کنارہ کش ہو چکے ہیں، بھیڑ اور شور سے گریز کرتے ہیں اور بغیر کسی پیشہ ورانہ مدد کے تنہا اس صدمے سے نبرد آزما ہیں۔ انہیں لکھنے اور سمندر کے کنارے بیٹھنے میں کچھ سکون ملتا ہے، جبکہ وہ غزہ چھوڑنے پر بھی غور کر رہے ہیں۔

اسی ہسپتال کے ایمرجنسی شعبے میں انتیس سالہ نرس خالد رفعت نے اٹھارہ اکتوبر دو ہزار تئیس کو اسرائیلی فضائی حملے میں اپنی بیوی، بچے، والدہ اور کئی بہن بھائی کھو دیے۔ اس وقت وہ ہسپتال میں ڈیوٹی پر تھے۔ رفعت نے طویل عرصے تک کام سے دور رہنے کے بعد اپنی زندگی از سر نو تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا، دوبارہ شادی کی، نیا خاندان بسایا اور بالآخر اپنی ذمہ داریوں پر واپس لوٹ آئے۔

انتالیس سالہ نرس ہبہ الطویل نے خان یونس کے ناصر میڈیکل کمپلیکس کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں اپنے بھائی کی موت اپنی آنکھوں سے دیکھی، جہاں وہ خود کام کرتی تھیں۔ بعد ازاں انہوں نے اس جگہ سے دوری اختیار کرنے کے لیے دوسرے شعبے میں منتقلی کر لی۔

نظام صحت پر جنگ کے اثرات

اسرائیل کی غزہ پر جنگ اکتوبر دو ہزار تئیس میں شروع ہوئی۔ اس کے بعد سے طبی عملہ طویل بے گھری، مسلسل کام کے بوجھ اور روزانہ خوفناک زخموں اور اموات کے مناظر سے گزر رہا ہے، اکثر اوقات اپنے ساتھیوں، دوستوں اور رشتہ داروں کے سوگ میں بھی مبتلا رہتے ہوئے۔

پبلک لائبریری آف سائنس میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق اکتالیس فیصد صحت کارکنوں نے اپنے خاندان کے افراد کھونے کی اطلاع دی، جبکہ چھیالیس فیصد نے ذاتی سوگ اور اپنے کام کی جگہوں سے بے گھری دونوں کا سامنا کیا۔ کم از کم اٹھتر فیصد کو ذہنی صحت کی سہولتوں تک رسائی حاصل نہیں تھی، یہ ایسا خلا ہے جس نے نظام صحت کے لیے اپنے باقی ماندہ عملے کو برقرار رکھنا مشکل بنا دیا ہے۔

سرکاری رپورٹوں میں "انسانی وسائل کے نقصان" اور "نظام صحت کی کمزور ہوتی صلاحیت" کا اعتراف کیا گیا ہے، تاہم غزہ چھوڑنے یا ملازمت ترک کرنے والے ڈاکٹروں اور نرسوں کی صحیح تعداد کا اندازہ لگانا اب بھی مشکل ہے۔ متبادل عملے کی قلت، زخمی مریضوں کی مسلسل آمد اور طبی ساز و سامان کی کمی نے کام کرنے والوں پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔

سرکاری ردعمل اور علاج کی کوششیں

غزہ کی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل منیر البرش نے کہا کہ طبی عملہ "جان بچانے کے پیشہ ورانہ فرض اور اپنے قریبی لوگوں کو کھونے کے درد کے درمیان گھرا ہوا ہے۔" انہوں نے زور دیا کہ عملے کے تحفظ کے لیے صرف ادویات اور آلات کی فراہمی کافی نہیں۔

انہوں نے کہا، "اس کا مطلب ان کی ذہنی صحت کا تحفظ اور انہیں آرام اور صحت یابی کا وقت دینا بھی ہے۔ جو لوگ دوسروں کو بچاتے ہیں، انہیں بھی کسی ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جو آگے بڑھ کر ان کی مدد کرے۔"

ناصر میڈیکل کمپلیکس میں ایک نفسیاتی کلینک صدمے سے نبرد آزما ڈاکٹروں اور نرسوں کا علاج کرتا ہے۔ وہاں کی ماہر نفسیات ریحام ابو رکبہ نے بتایا کہ علاج کا آغاز مریض کی حالت کے جائزے اور علامات کی تشخیص سے ہوتا ہے۔ پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر کے لیے عموماً تقریباً بارہ انفرادی نشستوں پر محیط علمی سلوکی تھراپی استعمال کی جاتی ہے، ضرورت پڑنے پر ادویات بھی شامل کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت یابی کے لیے وقت اور معاون نشستوں میں مسلسل شرکت درکار ہوتی ہے۔

آگے کا راستہ

صحت حکام کے مطابق طبی عملے کی شدید قلت کے باعث باقی ماندہ افرادی قوت کو صحت یابی کے لیے مناسب وقت دینا مشکل ہے۔ ذہنی اور سماجی مدد کا تسلسل طبی عملے کی نقل مکانی روکنے اور صدمے سے گزرنے والوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔ ذہنی صحت کی سہولتوں کی توسیع کے لیے کوئی مصدقہ ٹائم لائن یا جامع حکومتی پروگرام ابھی تک اعلان نہیں کیا گیا، اور عملے کے نقصانات اور بحالی کی کوششوں سے متعلق مزید معلومات کا انتظار ہے۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!