تل ابیب میں ہزاروں کا احتجاج، نیتن یاہو کے خلاف عرب جماعتوں سے اتحاد کا مطالبہ
news

تل ابیب میں ہزاروں کا احتجاج، نیتن یاہو کے خلاف عرب جماعتوں سے اتحاد کا مطالبہ

Editorial Team•Nov 1, 2026 · 10:12 AM•4 min read
اے آئی سے تیار کردہ نمائندہ تصویر: تل ابیب میں ایک بڑا سیاسی احتجاجی مظاہرہ، جس میں مظاہرین انتخابی تعطل کے بعد مخلوط حکومت کے مذاکرات کے دوران پلے کارڈز اور اسرائیلی پرچم اٹھائے ہ
Editorial Team
Editorial Team
اسرائیلی انتخابات میں تعطل کے بعد مظاہرین نے یہودی عرب اتحاد کی تشکیل اور آئزن کوٹ پر نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے دباؤ بڑھا دیا

ہفتے کے روز تل ابیب میں ہزاروں افراد نے ریلی نکالی اور اسرائیلی اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ پر زور دیا کہ وہ وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے عرب قیادت والی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کا معاہدہ کریں۔ یہ مظاہرہ منگل کے روز ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں نہ تو نیتن یاہو کے دھڑے اور نہ ہی آئزن کوٹ کے دھڑے نے اسرائیل کی 120 نشستوں والی پارلیمنٹ میں اکیلے حکومت بنانے کے لیے درکار نشستیں حاصل کیں۔

یہ ریلی گہری تقسیم پیدا کرنے والے انتخابات کے بعد سیاسی پیش رفت کے لیے بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کی عکاسی کرتی ہے، جن میں کوئی واضح فاتح سامنے نہیں آیا۔ عرب قیادت والی جماعتوں کے پاس طاقت کا توازن موجود ہے، اور اس کا نتیجہ طے کر سکتا ہے کہ آیا اسرائیل کے طویل ترین مدت تک خدمات انجام دینے والے وزیر اعظم اپنا عہدہ برقرار رکھتے ہیں یا ایک وسیع تر اتحاد ان کی جگہ لے لیتا ہے۔

انتخابی تعطل اور احتجاجی مطالبات

منگل کے انتخابات میں نیتن یاہو کے دھڑے نے 53 نشستیں حاصل کیں جبکہ آئزن کوٹ کے دھڑے کو 48 نشستیں ملیں، جس کے بعد دونوں ہی اکیلے حکومت چلانے کے لیے درکار اکثریت سے محروم رہے۔ اسرائیل کی تین عرب قیادت والی جماعتوں نے 19 نشستیں حاصل کیں، جو ایک نمایاں اضافہ ہے، یعنی آئزن کوٹ اور ان جماعتوں کے درمیان اتحاد 67 نشستوں کی آرام دہ اکثریت فراہم کر سکتا ہے۔

مظاہرین نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ "حقیقی تبدیلی کا آخری موقع" ہو سکتا ہے اور انہوں نے نیتن یاہو کو "عظیم جوڑ توڑ کرنے والا" قرار دیا۔ ہفتے کے روز کے مظاہروں میں مخالف مظاہرین بھی شریک ہوئے، جنہوں نے نیتن یاہو کے حامیوں کی حیثیت سے مطالبہ کیا کہ "اسرائیل کو نام نہاد دہشت گردوں کے ساتھ حکومت نہیں بنانی چاہیے۔"

پس منظر اور سیاسی داؤ

آئزن کوٹ پہلے اسرائیل کی عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنانے کے امکان کو مسترد کر چکے ہیں، لیکن انتخابی تعطل نے ان پر اپنے موقف پر نظر ثانی کے لیے دباؤ بڑھا دیا ہے۔ تاہم اسرائیل میں بہت سے لوگوں کے لیے عرب جماعتوں کے ساتھ شراکت کا خیال سیاسی طور پر ناقابل قبول ہے، جو قومی سیاست میں فلسطینی اسرائیلی شہریوں کے کردار پر دیرینہ تقسیم کی عکاسی کرتا ہے۔

اسرائیل کے طویل ترین مدت تک خدمات انجام دینے والے وزیر اعظم نیتن یاہو نے فلسطینی اسرائیلی جماعتوں پر انتخابات "چرانے" اور اس مقصد کے لیے قطر سے فنڈنگ قبول کرنے کا الزام لگایا ہے۔ قطر نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط معلومات کی مہم قرار دیا ہے۔ اسرائیلی دائیں بازو کے حلقوں نے فلسطینی اسرائیلیوں کی تاریخی شرکت کو "انتخابی دہشت گردی" قرار دیا ہے اور اسے سات اکتوبر کے حملے سے تشبیہ دی ہے، جب حماس کی قیادت میں جنگجوؤں نے جنوبی اسرائیل پر دھاوا بول کر 1,200 سے زائد افراد کو ہلاک اور سینکڑوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔

ووٹرز کی شرکت اور سرکاری اعداد و شمار

مرکزی انتخابی کمیٹی کے مطابق تقریباً 840,000 افراد نے رعم اور مشترکہ فہرست کو ووٹ دیے، جو تین عرب قیادت والی جماعتوں کا اتحاد ہے، اور یہ تعداد 2022 کے گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں 64 فیصد اضافے کی نمائندگی کرتی ہے۔

الجزیرہ کی نامہ نگار نور عودہ نے رام اللہ سے رپورٹ دیتے ہوئے کہا کہ "فلسطینی اسرائیلی ووٹ اور آوازیں" حملے کی زد میں ہیں کیونکہ یہ طے کرنے میں ان کی "نمایاں حیثیت" ہے کہ آیا آئزن کوٹ حکومت بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگ "واقعی چاہتے ہیں کہ تبدیلی کا یہ ووٹ کامیاب ہو" اور ان کا ماننا ہے کہ آئزن کوٹ اور دیگر یہودی اسرائیلی جماعتی رہنماؤں کو "ان کی آواز سننے کی ضرورت ہے۔"

آگے کیا ہوگا

ابھی تک کسی بھی دھڑے نے حکومتی اکثریت حاصل نہیں کی ہے، اور یہ واضح نہیں ہے کہ آیا آئزن کوٹ اپنا سابقہ موقف تبدیل کر کے عرب قیادت والی جماعتوں کے ساتھ اتحادی مذاکرات میں داخل ہوں گے۔ ابھی تک کسی باضابطہ معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا ہے، اور انتخابی تعطل کے بعد سیاسی رہنماؤں کے اپنے اختیارات پر غور کرنے کے ساتھ مزید مذاکرات متوقع ہیں۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!