پاک فوج ایران امریکا ثالثی پر محتاط طور پر پرامید
news

پاک فوج ایران امریکا ثالثی پر محتاط طور پر پرامید

Editorial Team•Oct 31, 2026 · 7:26 PM•5 min read
اے آئی سے تیار کردہ علامتی تصویر: ایک رسمی سفارتی اجلاس کا منظر، جو ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کی ثالثی کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔
Editorial Team
Editorial Team
آرمی چیف کے تہران دورے کے بعد جنگ بندی کی بحالی میں مثبت اشارے، سعودی اور ترکی حکام بھی ثالثی کوششوں میں شریک

پاکستان کی فوج ایران اور امریکا کے درمیان جاری ثالثی کوششوں کے حوالے سے ’محتاط طور پر پرامید‘ ہے، جب کہ علاقائی ممالک آٹھ ماہ سے جاری جنگ میں جنگ بندی کی بحالی کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ پاکستانی مسلح افواج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعے کے روز اشارہ دیا کہ تنازعے میں کمی لانے کی کوششوں میں مثبت علامات سامنے آئی ہیں۔

ان کے یہ ریمارکس اس اعلیٰ سطحی وفد کے دورے کے بعد پہلے عوامی بیانات ہیں جو پاکستان کے آرمی چیف اور چیف ثالث فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں سعودی اور ترک حکام کے ہمراہ اس ہفتے تہران گیا تھا۔

یہ بیانات علاقائی سفارت کاری میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے مرکزی کردار کی عکاسی کرتے ہیں، کیوں کہ ایران اور امریکا کا تصادم مشرق وسطیٰ میں اتحادوں کو نئی شکل دے رہا ہے اور وسیع تر جنگ کے خدشات پیدا کر رہا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ مل کر خود کو ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے اور ساتھ ہی مشترکہ دفاعی معاہدے کے ذریعے اپنے سکیورٹی تعلقات کو بھی مضبوط کر رہا ہے۔

تاہم یہ محتاط امید ایک واضح انتباہ کے ساتھ سامنے آئی ہے کہ کچھ ایسے فریق تاحال موجود ہیں جنہیں مسلسل تنازعے سے فائدہ پہنچتا ہے اور وہ کسی تصفیے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے میں مصروف ہیں۔

ثالثی کے اشارے اور سرکاری بیانات

فیلڈ مارشل عاصم منیر اس ماہ دو مرتبہ تہران کا دورہ کر چکے ہیں، جن میں تازہ ترین دورہ پیر کو ہوا جس میں سعودی اور ترک حکام بھی شریک تھے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا بار بار کے دورے پیش رفت کی علامت ہیں تو چوہدری نے جواب دیا کہ اگر کوئی مثبت پہلو نہ ہوتا تو آرمی چیف کے دو دورے کرنے کی کوئی وجہ نہ ہوتی۔

بین الخدماتی تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے چوہدری نے یہ بھی خبردار کیا کہ اس عمل میں ’طاقتور تخریب کار اور مخالف عناصر‘ متحرک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ فریق سمجھتے ہیں کہ تنازعہ ان کے مفادات کے لیے فائدہ مند ہے، تاہم انہوں نے ان کا نام لینے سے گریز کیا۔

راولپنڈی سے گفتگو کرتے ہوئے، جہاں پاکستانی مسلح افواج کا صدر دفتر واقع ہے، انہوں نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ تہران میں کیا بات چیت ہوئی یا امریکا نے اس دورے کی حمایت کی تھی یا نہیں۔

مکہ دفاعی معاہدہ اور علاقائی تبدیلی

سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکی کے انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم کالن پیر کو منیر کے ہمراہ تہران میں شریک ہوئے۔ تینوں ممالک نے سات اگست کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی بھی رکن ملک پر حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

یہ معاہدہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے جب ایران جنگ نے علاقائی اتحادوں کو نئی شکل دی ہے۔ دستخط کنندگان اس معاہدے کو اجتماعی ڈیٹرنس اور علاقائی سلامتی کے لیے قرار دیتے ہیں، تاہم تجزیہ کار اس کے ارتقا کو ایران اور امریکا کے تصادم کے اثرات کو سنبھالنے کی علاقائی طاقتوں کی کوششوں سے گہرا تعلق رکھنے والا عمل سمجھتے ہیں۔

پیر کی بات چیت کے بعد ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے کہا کہ علاقائی سلامتی کو غیر ملکی مداخلت کے بغیر علاقائی ممالک ہی یقینی بنائیں۔

رکنیت، فوجی تعیناتی اور یمن

چوہدری نے کہا کہ دفاعی معاہدے کے الفاظ نئے ارکان کی شمولیت پر پابندی نہیں لگاتے اور تصدیق کی کہ ایران ممکنہ طور پر اس میں شامل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’جو بھی اجتماعی ڈیٹرنس اور علاقائی امن کے مشترکہ نقطہ نظر کا حامل ہو، کیوں نہیں؟ سب کا خیر مقدم ہے،‘ تاہم واضح کیا کہ کوئی بھی فیصلہ تینوں بنیادی فریقوں کی سیاسی قیادت کے ہاتھ میں ہوگا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا معاہدے کے تحت اضافی پاکستانی فوجی سعودی عرب بھیجے جائیں گے تو چوہدری نے کہا کہ یہ صورتحال اور دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کے فیصلوں پر منحصر ہوگا۔ انہوں نے سعودی عرب اور مکہ و مدینہ کے مقدس مقامات کے دفاع کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا، جب کہ واضح کیا کہ پاکستان یمنی تنازعے کا حصہ نہیں ہے، جسے انہوں نے یمن کا اندرونی معاملہ قرار دیا۔

سعودی عرب اور ایران کے حامی یمنی حوثی گروپ کے درمیان لڑائی ایران تنازعے کے باعث پھر سے بھڑک اٹھی ہے، جس سے وسیع تر علاقائی جنگ کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

آگے کیا ہے

چوہدری کے بیانات ایسے موقع پر سامنے آئے جب قطری ثالث تہران پہنچے، جو جون کی جنگ بندی کی بحالی کے لیے مذاکرات کی ایک اور بظاہر کوشش ہے۔ یہ جنگ بندی کچھ ماہ بعد ختم ہو گئی تھی۔ پاکستان نے وفد کے دورے کے دوران زیر بحث آنے والے مخصوص موضوعات کی تصدیق نہیں کی ہے اور مزید مذاکرات کے لیے کوئی ٹائم لائن بھی اعلان نہیں کی گئی۔

مکہ دفاعی معاہدے کی کوئی بھی توسیع، بشمول ایران کی ممکنہ رکنیت، پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کی سیاسی قیادت کا فیصلہ ہے۔ ثالثی کوششوں کی موجودہ صورتحال کے بارے میں مزید سرکاری تصدیق کا انتظار ہے۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!