یروشلم میں برطانوی قونصل خانے کے بورڈ اتارے گئے، اسرائیل حکم
news

یروشلم میں برطانوی قونصل خانے کے بورڈ اتارے گئے، اسرائیل حکم

Editorial Team•Oct 8, 2026 · 6:19 AM•4 min read
یہ ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ نمائشی تصویر ہے: مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانے کی عمارت سے تختی اتارتے ہوئے کارکن۔
Editorial Team
Editorial Team
مقبوضہ مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانے کے بورڈ ہٹانے سے برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان سفارتی کشیدگی مزید گہری ہو گئی

مقبوضہ مشرقی یروشلم میں برطانیہ کے قونصل خانے کے عملے نے جمعرات کے روز اس کے بورڈ اتار دیے، اسی دن اسرائیل کا مشن بند کرنے کا حکم نافذ ہوا۔ صحافیوں نے عملے کو "برٹش قونصلیٹ جنرل" کا تختی اور قونصلر سیکشن کا ایک اور بورڈ اتارتے دیکھا، جب کہ عمارت پر برطانیہ کا پرچم بدستور لہرا رہا تھا۔

بورڈ ہٹانے کا یہ عمل اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون سار کے جاری کردہ تیس روزہ بندش کے حکم کے بعد سامنے آیا ہے، ایک ایسا اقدام جس نے دونوں اتحادی ممالک کے تعلقات کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔

یہ بندش اس لیے اہم ہے کہ یہ قونصل خانہ یروشلم، مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ برطانیہ کے تعلقات کا بنیادی ذریعہ رہا ہے اور کئی دہائیوں سے فلسطینیوں کو قونصلر خدمات فراہم کرتا آیا ہے۔ اس کے مؤثر طور پر بند ہونے سے علاقائی کشیدگی کے اس دور میں سفارتی روابط اور خدمات میں خلل پڑنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

یہ تنازع برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان اسرائیلی بستیوں کی حیثیت پر بڑھتی ہوئی دراڑ کو بھی نمایاں کرتا ہے، جنہیں بیشتر ممالک اور اقوام متحدہ بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیتے ہیں۔

بندش کے حکم کی ترتیب وار تفصیل

  • اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون سار نے جمعرات کی میعاد سے تیس روز قبل قونصل خانے کی بندش کا حکم جاری کیا تھا۔
  • یہ حکم اسرائیلی بستیوں پر برطانیہ کی پابندیوں کی لہر کے جواب میں دیا گیا، جس میں وہاں پیدا ہونے والی اشیا کی درآمد پر پابندی بھی شامل تھی۔
  • اسرائیل اس بات پر قائم رہا کہ قونصل خانہ بند ہو گا، یہاں تک کہ برطانیہ نے اسے کھلا رکھنے کی کوشش کی اور گزشتہ ہفتے اپنے اعلیٰ قومی سلامتی مشیر کو مذاکرات کے لیے اسرائیل روانہ کیا۔
  • غیر مصدقہ اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ نے مبینہ طور پر دھمکی دی تھی کہ اگر اسرائیل بندش پر عمل درآمد کرتا ہے تو وہ 27 اسرائیلی سفارت کاروں کو ملک بدر کر دے گا۔

تاریخی پس منظر

یروشلم میں برطانیہ کی موجودگی تقریباً دو سو سال پرانی ہے، جو 1948 میں ریاست اسرائیل کے قیام سے بھی قبل کی ہے۔ مقبوضہ مشرقی یروشلم کے شیخ جراح محلے میں واقع یہ قونصل خانہ طویل عرصے سے تل ابیب میں برطانیہ کے سفارت خانے سے الگ کام کرتا رہا ہے، جو اسرائیلی حکومت کے ساتھ سفارتی تعلقات سنبھالتا ہے اور بندش کے حکم سے متاثر نہیں ہوا۔

بندش کا حکم اسرائیلی آباد کاری کی سرگرمیوں پر وسیع تر تنازع سے جڑا ہے۔ برطانیہ نے بستیوں پر پابندیاں عائد کیں، جن میں وہاں تیار ہونے والی اشیا کی درآمد پر پابندی بھی شامل تھی۔ اسرائیل اس بین الاقوامی اتفاق رائے سے اختلاف کرتا ہے کہ بستیاں غیر قانونی ہیں، جس نے موجودہ تعطل کی صورتحال پیدا کی ہے۔

سرکاری ردعمل اور جواب طلب سوالات

قونصل خانے نے بورڈ اتارے جانے پر تبصرے کی فوری درخواست کا جواب نہیں دیا۔ برطانیہ کے دفتر خارجہ نے بدھ کے روز اس سوال پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا کہ آیا قونصل خانہ اب بھی کام کر رہا ہے یا وہاں تعینات سفارت کار برطانیہ واپس جا چکے ہیں۔

27 اسرائیلی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کی مبینہ دھمکی اب بھی غیر مصدقہ اسرائیلی میڈیا رپورٹس پر مبنی ہے اور کسی بھی حکومت نے اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی۔ موجودہ سفارتی کشیدگی کے باوجود برطانیہ اور اسرائیل قریبی اقتصادی، سلامتی اور انٹیلی جنس شراکت دار ہیں۔

آگے کیا ہو گا

جمعرات تک قونصل خانے کے بورڈ اتار دیے گئے ہیں لیکن عمارت پر برطانیہ کا پرچم بدستور لہرا رہا ہے اور مشن کی مکمل آپریشنل حیثیت غیر واضح ہے۔ نہ برطانیہ کے دفتر خارجہ اور نہ ہی قونصل خانے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سفارت کاروں کو واپس بلایا گیا ہے یا فلسطینیوں کو فراہم کی جانے والی خدمات معطل کر دی گئی ہیں۔

سفارتی تعطل جاری رہنے کے دوران دونوں حکومتوں کی جانب سے مزید سرکاری وضاحت کا انتظار ہے۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!