امریکا ایران کارروائی: دسویں رات بمباری، ہرمز میں دعوے
features

امریکا ایران کارروائی: دسویں رات بمباری، ہرمز میں دعوے

Editorial TeamJul 21, 2026 · 10:40 AM7 min read
آئی آر جی سی نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں دو ٹینکروں میں "بڑے پیمانے پر آگ" لگی اور امدادی ٹیمیں کشتیوں کے عملے کو نکال رہی تھیں۔
Editorial Team
Editorial Team
سینٹکام کے مطابق اہداف نشانہ بنے، پاسدارانِ انقلاب کی آبنائے ہرمز میں ٹینکروں پر آگ اور بحرین، کویت کو وارننگ

امریکا نے منگل کو ایک بجے عالمی وقت کے مطابق ایران پر ایک اور مرحلے کی کارروائی کی، جسے امریکی سینٹرل کمانڈ نے مسلسل دسویں رات کی بمباری قرار دیا۔ اسی دوران ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (پاسدارانِ انقلاب) نے کہا کہ اس نے خلیج میں امریکی فوجی اثاثوں کو نشانہ بنا کر جواب دیا ہے، اور ایک دھماکے کے بعد آبنائے ہرمز میں دو تیل بردار جہازوں پر "شدید آگ" لگنے کی اطلاع دی۔

تازہ کشیدگی کے دوران قشم جزیرہ اور بندرگاہی شہروں بندر عباس اور بوشہر سمیت ایران کے مختلف مقامات پر دھماکوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

ان پیش رفتوں نے خطے کی سکیورٹی اور آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کے بارے میں فوری خدشات بڑھا دیے ہیں، کیونکہ یہ راستہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ صورتحال اس امکان کو بھی نمایاں کرتی ہے کہ امریکا اور ایران کے براہِ راست حملوں کا دائرہ خلیجی ریاستوں تک پھیل سکتا ہے جہاں امریکی فوجی تنصیبات موجود ہیں۔

واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس نے اشارہ دیا کہ یہ مہم جاری رہ سکتی ہے، تاہم اس کے ساتھ یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے برقرار ہیں۔

تازہ حملے اور مبینہ جوابی کارروائی

  • امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق منگل کو 01:00 جی ایم ٹی پر کارروائی مکمل کی گئی، جس میں ایرانی فوجی کمانڈ مراکز، بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف، میزائل اور ڈرون لانچ مقامات اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
  • تہران سے رپورٹنگ کے مطابق ایران میں قشم جزیرہ، بندر عباس اور بندر لنگہ میں دھماکوں کی اطلاعات ملیں۔
  • ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق شیراز میں مقامی وقت کے مطابق رات ایک بجے کے قریب (21:30 جی ایم ٹی) دھماکے ہوئے، اور بتایا گیا کہ شہر کے مشرق اور مغرب میں مقامات پر "دشمن" نے حملہ کیا۔
  • پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ اس نے بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اثاثوں کو نشانہ بنایا، جن میں فضائی دفاع اور ریڈار سے متعلق مقامات شامل تھے، اور اس کارروائی کو آئندہ اقدامات کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش قرار دیا۔
  • پاسدارانِ انقلاب کے مطابق آبنائے ہرمز میں دو ٹینکروں پر "شدید آگ" بھڑک اٹھی اور ریسکیو ٹیمیں عملے کو بحفاظت نکال رہی تھیں۔

کشیدگی کے محاذ بڑھتے جا رہے ہیں

تازہ کارروائی ایک ہفتے سے زائد عرصے سے جاری رات بہ رات امریکی حملوں کے بعد سامنے آئی ہے، اور سینٹکام کے مطابق منگل کی بمباری مسلسل دسویں رات تھی۔ ایران نے پاسدارانِ انقلاب سے منسوب بیانات میں اپنے ردعمل کو خلیجی خطے میں امریکی فوجی ڈھانچے کو ہدف بنانے کی کوشش کے طور پر پیش کیا ہے۔

ایرانی سرکاری اور نیم سرکاری میڈیا میں فضائی دفاعی سرگرمیوں کے بیانات اور مختلف صوبوں میں حملوں سے متعلق متضاد دعوے سامنے آئے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ واقعات کے دوران فوری تصدیق کرنا مشکل ہے۔ آئی آر آئی بی کے مطابق اصفہان میں صوبائی حکام نے "دشمن کی جارحیت یا دھماکوں" کی اطلاعات کی تردید کی، جبکہ دیگر مقامات پر دھماکوں کی رپورٹس بھی نشر کی گئیں۔

آبنائے ہرمز اس کشمکش میں مرکزی دباؤ کا نقطہ بنی ہوئی ہے کیونکہ یہ ایران کے ساحل کے ساتھ واقع ہے اور علاقائی برآمدات کے لیے اہم بحری راہداری ہے، اس لیے جہازوں سے متعلق کوئی بھی واقعہ سکیورٹی اور معیشت دونوں پر اثر ڈال سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز ایک تنگ گزرگاہ ہے جو خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ خلیجی ممالک کے تیل اور گیس کی برآمدات کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، اس لیے تجارتی جہازوں سے جڑا محدود واقعہ بھی بیمہ لاگت میں اضافے اور عالمی توانائی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز کے گرد امریکا اور ایران کی کشیدگی ماضی میں بھی سمندری واقعات کے باعث بار بار بھڑک چکی ہے، جن میں 1980 کی دہائی کے اواخر کی "ٹینکر وار" اور 1988 کی امریکی کارروائی "پرےئنگ مینٹس" شامل ہیں، جو ایک امریکی جنگی جہاز کے بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد کی گئی تھی۔ حالیہ برسوں میں 2019 میں برطانیہ کے پرچم بردار جہاز اسٹینا ایمپیرو کی تحویل اور خلیج عمان میں ٹینکروں پر حملوں کی رپورٹس بھی کشیدگی کے اہم موڑ رہے ہیں۔

حکام اور سرکاری میڈیا نے کیا بتایا

سینٹکام کے مطابق تازہ آپریشن کا ہدف ایرانی کمانڈ ڈھانچہ اور وہ صلاحیتیں تھیں جو بحری کارروائیوں، میزائل اور ڈرون لانچنگ سے وابستہ ہیں، جبکہ فضائی دفاعی نظام بھی نشانے پر تھے۔

ایران میں آئی آر آئی بی نے بوشہر کے گورنر کے حوالے سے بتایا کہ صوبے میں دھماکوں کی آوازیں "دفاعی نظام کی سرگرمی" سے متعلق تھیں۔ اسی نشریاتی ادارے کے مطابق اصفہان کے ڈپٹی گورنر نے نیم سرکاری مہر خبر رساں ایجنسی کی اس پہلے کی رپورٹ کو مسترد کیا جس میں علاقے میں حملوں یا دھماکوں کا تاثر دیا گیا تھا۔

مہر نے مغربی صوبہ ایلام کے شہر ابدانان میں کئی دھماکوں کی اطلاع دیتے ہوئے ابدانان کے گورنر بہزاد نورمحمدی کا حوالہ دیا۔ خلیج سے متعلق دعوؤں میں پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ اس نے بحرین کے محرق علاقے میں امریکی فضائی دفاعی نظام اور ریڈار تباہ کیا، اور کہا کہ الرفاع میں مربوط میزائل اور ڈرون حملے کے ذریعے امریکی پیٹریاٹ نظام کو تباہ کیا گیا۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق کویت میں حملوں سے طویل فاصلے کے ریڈار مقام، ٹیلی مواصلاتی مرکز، سیٹلائٹ وصولی کے نظام اور میزائل دفاعی ریڈار کو نقصان پہنچا، جبکہ علی السالم ایئر بیس پر ایم کیو-9 ڈرون کے ہینگر کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں بغیر پائلٹ طیاروں کو نقصان پہنچا۔ تسنیم کی ایک الگ رپورٹ میں پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے کروز میزائلوں سے ایمیزون کے مرکزی ڈیٹا ڈھانچے کو تباہ کیا۔

امریکی میری ٹائم ایڈمنسٹریشن (ایم اے آر اے ڈی) نے ایک مشاورتی نوٹ جاری کیا جس میں خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں تجارتی جہازوں کے خلاف ایرانی حملوں اور دھمکیوں سے خبردار کیا گیا، اور امریکی پرچم بردار آپریٹرز کے لیے راستہ بندی اور رپورٹنگ سے متعلق رہنمائی فراہم کی گئی۔ سینٹکام نے حالیہ حملوں کو عوامی طور پر دفاعِ ذات کی کارروائیاں قرار دیا ہے، جن کا مقصد ریڈار، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، فضائی دفاع اور ڈرون سے متعلق نیٹ ورکس کو ناکارہ بنانا بتایا گیا ہے، جنہیں بحری آمدورفت کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔

ٹینکروں سے متعلق ایرانی بیانات میں نفاذِ قانون سے جڑی توجیہات بھی شامل رہیں۔ تسنیم نے پاسدارانِ انقلاب کے بیان کے حوالے سے بتایا کہ دو سپر ٹینکروں کو آبنائے ہرمز میں "غیر قانونی گزر" پر ناکارہ بنایا گیا۔ ایران وائر کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے ایک بیان میں ٹینکروں پر حملوں کا اعتراف کیا گیا اور کہا گیا کہ جہازوں نے غیر محفوظ راستہ اختیار کیا تھا، جس میں بارودی سرنگوں والے راستے سے متعلق دعوے بھی شامل تھے۔

موجودہ صورتحال اور آئندہ کیا دیکھنا ہے

وائٹ ہاؤس نے وائس آف اردو کو بتایا کہ امریکی حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس کے برعکس فیصلہ نہ کریں، جبکہ اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ سفارتی مذاکرات جاری ہیں۔ ادھر پاسدارانِ انقلاب نے جہازرانی کمپنیوں سے کہا کہ وہ عملے کی حفاظت کو یقینی بنائیں، امریکی فوج کی جانب سے دی جانے والی "غلط معلومات" پر اعتماد نہ کریں، اور ان راستوں سے گریز کریں جنہیں اس نے خطرناک قرار دیا۔

پاسدارانِ انقلاب نے مزید کہا کہ اگر "امریکا کی برائیاں خطے میں جاری رہیں" تو آبنائے ہرمز بند کر دی جائے گی اور برآمدات رک جائیں گی۔ دستیاب بیانات میں ٹینکر واقعے اور بحرین و کویت میں نقصان سے متعلق پاسدارانِ انقلاب کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق پیش نہیں کی گئی۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!