کشیدگی کے محاذ بڑھتے جا رہے ہیں
تازہ کارروائی ایک ہفتے سے زائد عرصے سے جاری رات بہ رات امریکی حملوں کے بعد سامنے آئی ہے، اور سینٹکام کے مطابق منگل کی بمباری مسلسل دسویں رات تھی۔ ایران نے پاسدارانِ انقلاب سے منسوب بیانات میں اپنے ردعمل کو خلیجی خطے میں امریکی فوجی ڈھانچے کو ہدف بنانے کی کوشش کے طور پر پیش کیا ہے۔
ایرانی سرکاری اور نیم سرکاری میڈیا میں فضائی دفاعی سرگرمیوں کے بیانات اور مختلف صوبوں میں حملوں سے متعلق متضاد دعوے سامنے آئے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ واقعات کے دوران فوری تصدیق کرنا مشکل ہے۔ آئی آر آئی بی کے مطابق اصفہان میں صوبائی حکام نے "دشمن کی جارحیت یا دھماکوں" کی اطلاعات کی تردید کی، جبکہ دیگر مقامات پر دھماکوں کی رپورٹس بھی نشر کی گئیں۔
آبنائے ہرمز اس کشمکش میں مرکزی دباؤ کا نقطہ بنی ہوئی ہے کیونکہ یہ ایران کے ساحل کے ساتھ واقع ہے اور علاقائی برآمدات کے لیے اہم بحری راہداری ہے، اس لیے جہازوں سے متعلق کوئی بھی واقعہ سکیورٹی اور معیشت دونوں پر اثر ڈال سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز ایک تنگ گزرگاہ ہے جو خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ خلیجی ممالک کے تیل اور گیس کی برآمدات کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، اس لیے تجارتی جہازوں سے جڑا محدود واقعہ بھی بیمہ لاگت میں اضافے اور عالمی توانائی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز کے گرد امریکا اور ایران کی کشیدگی ماضی میں بھی سمندری واقعات کے باعث بار بار بھڑک چکی ہے، جن میں 1980 کی دہائی کے اواخر کی "ٹینکر وار" اور 1988 کی امریکی کارروائی "پرےئنگ مینٹس" شامل ہیں، جو ایک امریکی جنگی جہاز کے بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد کی گئی تھی۔ حالیہ برسوں میں 2019 میں برطانیہ کے پرچم بردار جہاز اسٹینا ایمپیرو کی تحویل اور خلیج عمان میں ٹینکروں پر حملوں کی رپورٹس بھی کشیدگی کے اہم موڑ رہے ہیں۔