اہم پیش رفت
ڈیٹا ریپورٹل کے مطابق دنیا بھر میں سوشل میڈیا صارفین کی تعداد ۵ ارب ۶۶ کروڑ ہے، جو عالمی آبادی کے ۶۸ فیصد سے زیادہ بنتی ہے۔
ڈیٹا ریپورٹل کا اندازہ ہے کہ اوسط فعال صارف ہفتے میں ۱۸ گھنٹے ۳۶ منٹ سوشل میڈیا پر گزارتا ہے، یعنی روزانہ تقریباً ۲ گھنٹے ۳۹ منٹ—جو سال بھر میں ۴۰ سے زیادہ مکمل دن بنتے ہیں۔
یورپی پارلیمان نے سوشل میڈیا تک رسائی کے لیے کم از کم عمر ۱۶ سال مقرر کرنے اور کم عمر صارفین کے لیے لت لگانے والے ڈیزائن فیچرز پر پابندی کی تجاویز کی حمایت کی ہے، تاہم یورپی یونین کی سطح پر ابھی تک کوئی قانون نافذ نہیں ہوا۔
آسٹریلیا دسمبر میں سولہ سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی نافذ کرنے والا پہلا ملک بن گیا۔
انڈونیشیا نے مارچ میں سولہ سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کی، جبکہ برازیل میں اسی ماہ نافذ ہونے والے "ڈیجیٹل اسٹیٹیوٹ آف چلڈرن اینڈ ایڈولیسنٹس" کے تحت ۱۶ سال سے کم عمر صارفین کے لیے اکاؤنٹ کو قانونی سرپرست سے منسلک کرنا لازم قرار دیا گیا اور لامتناہی اسکرول سمیت لت پیدا کرنے والے فیچرز پر پابندی لگائی گئی۔
ترکی نے اپریل میں ایک قانون منظور کیا جس کے تحت ۱۵ سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی محدود کر دی گئی۔
برطانیہ نے جون میں سولہ سال سے کم عمر افراد کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے دور رکھنے کے منصوبے کا اعلان کیا، اور توقع ہے کہ یہ پابندیاں بہار ۲۰۲۷ میں نافذ العمل ہوں گی۔






