بڑھتی ہوئی کشیدگی کا وقتی خاکہ
سات جولائی کو فوجی جھڑپوں کا نیا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب واشنگٹن نے ایران کے خلاف نئی کارروائیوں کا اعلان کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں تین تیل بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ تہران نے سرکاری طور پر ان بحری جہازوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، تاہم ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ایک بحری جہاز بار بار وارننگ کو نظر انداز کرنے کے بعد نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا کہ امریکی افواج نے ایران میں اسّی سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا۔ جواب میں ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) اور فوج نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپریل کی جنگ بندی کو ختم قرار دیتے ہوئے ایرانی قیادت کو شدید الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا اور تیرہ جولائی کو کانگریس کو آگاہ کیا کہ انہوں نے محدود دفاعی حملے دوبارہ شروع کر دیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وائٹ ہاؤس کا موقف ہے کہ اس اقدام سے ٹرمپ کو کانگریس کی منظوری کے بغیر کارروائی کے لیے ساٹھ دنوں کی نئی مہلت مل گئی ہے۔






