یمن میں کشیدگی میں اضافہ: حدیدہ جھڑپیں اور صنعا ہوائی اڈہ تنازع
features

یمن میں کشیدگی میں اضافہ: حدیدہ جھڑپیں اور صنعا ہوائی اڈہ تنازع

Editorial TeamJul 11, 2026 · 6:56 PM7 min read
اے آئی سے تیار کردہ نمائندہ تصویر: یمن کے ساحلِ بحرِ احمر کے قریب کشیدگی، جہاں 2022 کی جنگ بندی دباؤ کا شکار ہے۔
Editorial Team
Editorial Team
بحیرۂ احمر کی سلامتی، الجوف میں قبائلی بے چینی اور قیدی تبادلے میں تاخیر سے ۲۰۲۲ کی جنگ بندی پر دباؤ بڑھ گیا

یمن میں حالیہ ہفتوں کے دوران کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ متعدد محاذوں پر دوبارہ لڑائی بھڑک اٹھی، صنعا ہوائی اڈے پر ایرانی روابط رکھنے والی پروازوں کے حوالے سے تنازع سامنے آیا اور بحیرۂ احمر میں سمندری سلامتی پر نئے خدشات ابھرے ہیں—یہ سب پیش رفتیں ۲۰۲۲ میں اعلان کردہ جنگ بندی پر بڑھتے دباؤ کی نشان دہی کرتی ہیں۔

یہ صورتِ حال ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب امن عمل جمود کا شکار ہے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے طریقۂ کار بنانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ اس سے یہ خطرہ بڑھ گیا ہے کہ محدود جھڑپیں، بحری راستوں سے متعلق دھمکیاں اور سیاسی دباؤ کی مہمات ۲۰۲۲ کے بعد قائم رہنے والے نسبتاً سکون کو کمزور کر سکتی ہیں، اگرچہ تاحال اس بات کا کوئی مصدقہ اشارہ نہیں کہ کسی وسیع عسکری کارروائی کا فیصلہ کر لیا گیا ہو۔

اہم پیش رفت

  • ۵ جولائی کو حوثی فورسز نے صوبہ الحدیدہ کے ضلع حیس میں حکومتی مورچوں پر مارٹر گولوں، ڈرونز اور سنائپر فائر کے ذریعے حملہ کیا۔ طبی اور فوجی ذرائع کے مطابق ۱۶ سرکاری اہلکار ہلاک اور ۲۲ زخمی ہوئے؛ حوثیوں نے اپنی ہلاکتوں کا کوئی اعداد و شمار یا جھڑپوں کے آغاز کی تفصیلی روداد جاری نہیں کی۔

  • اسی روز ۵ جولائی کو برطانوی فوج نے کہا کہ الحدیدہ کے ساحل کے قریب ایک مال بردار جہاز پر حملہ ہوا، تاہم کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی، مگر یہ واقعہ ایسے علاقے کے قریب پیش آیا جو حوثیوں کے کنٹرول میں ہے اور ایسے وقت میں ہوا جب حوثیوں کی جانب سے آمدورفتِ جہازرانی سے متعلق دھمکیاں دوبارہ سنائی دے رہی ہیں۔

  • الجوف میں قبائلی اضطراب، جو صنعا میں ایک مکان کے تنازع سے شروع ہوا تھا، اس وقت بڑھ گیا جب شیخ حمد بن راشد بن فدغم الحزمی نے قبائلی روایت کے تحت مداخلت کی اور حوثیوں نے انہیں حراست میں لے لیا۔ اس کے بعد ایک حوثی مخالف قبائلی تحریک سامنے آئی، جس میں “قبائلی نکف” کے تحت نفری جمع کرنے اور “الریان دھرنوں” کی اپیلیں شامل تھیں۔

  • صنعا ہوائی اڈے کی پروازوں کے معاملے پر بھی سیاسی تنازع ابھر آیا ہے۔ ۳ جولائی کو ایک ایرانی طیارہ صنعا پہنچا تاکہ ایک حوثی وفد کو ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کے لیے لے جائے۔ بعد ازاں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے ایران کی اس درخواست کو مسترد کر دیا کہ تہران سے صنعا کے لیے ماہان ایئر کی پرواز چلائی جائے تاکہ وفد کو واپس لایا جا سکے، اور اس کے بجائے تجویز دی کہ وہ یمنیہ ایئر ویز کے چارٹرڈ طیارے کے ذریعے سفر کریں۔

  • ۱۰ جولائی کو قیدیوں اور اغوا شدگان کے معاملے پر حکومتی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ ہادی ہیگ نے کہا کہ انہیں بین الاقوامی کمیٹی برائے صلیبِ احمر (آئی سی آر سی) اور اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کے دفتر کی جانب سے اطلاع دی گئی ہے کہ حوثیوں نے طے شدہ تاریخ پر قیدیوں کے تبادلے پر عمل درآمد سے انکار کیا اور اسے غیر معینہ مدت تک مؤخر کر دیا۔ تاہم حوثیوں کی قیدی امور کمیٹی کے سربراہ عبدالقادر المرتضیٰ نے تاخیر کا ذمہ دار حکومتی فریق کو ٹھہرایا اور الزام لگایا کہ وہ معاہدے کی شرائط پوری نہیں کر رہا اور ناموں کے اضافے سے انکار کر رہا ہے۔

پس منظر اور سیاق

حوثی ۲۰۱۴ سے صنعا اور شمالی یمن کے بڑے حصے پر قابض ہیں۔ حالیہ کشیدگی عسکری اور سیاسی دونوں سطحوں پر سامنے آئی ہے، جبکہ امن عمل تعطل کا شکار ہے اور ایسے انتظامات تاحال حل طلب ہیں جن کا مقصد کشیدگی کو قابو میں رکھنا تھا۔ اسی تناظر میں خطے کی حالیہ کارروائیوں اور بیانیے کو سمجھنے کے لیے یمن میں حوثی ٹھکانوں پر اسرائیلی فضائی حملے سے متعلق رپورٹ بھی قابلِ حوالہ ہے۔

بحیرۂ احمر پر واقع بندرگاہی شہر الحدیدہ کے قریب حیس اس لیے بھی توجہ کا مرکز بنا رہا کہ جنگ بندی کے بعد وہاں نسبتاً سکون رہا تھا، اور یہ علاقہ ساحل اور جہازرانی کے راستوں کے قریب واقع ہے۔ الحدیدہ کے علاوہ مأرب، تعز اور الضالع میں بھی نفری کی نقل و حرکت کی اطلاعات ہیں۔

الجوف—جو مأرب کے نزدیک اور عسکری و قبائلی لحاظ سے حساس خطے میں واقع ہے—میں قبائلی بے چینی نے کشیدگی میں ایک سماجی پہلو بھی شامل کر دیا ہے۔ دوسری جانب بحیرۂ احمر اور باب المندب دنیا کی مصروف ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہیں، اس لیے وہاں سے گزرنے والے جہازوں کو درپیش خطرات کے باعث یہ علاقے مسلسل تشویش کا باعث رہے ہیں۔ بحری جہازرانی کے اسی دباؤ کو مزید سمجھنے کے لیے بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں اسرائیل سے منسلک جہازوں پر حملے سے متعلق تفصیل بھی اہم ہے۔

تفصیلات اور شواہد

طبی اور فوجی ذرائع کے مطابق ۵ جولائی کو حیس میں ہونے والے حملے میں مارٹر گولے، ڈرونز اور سنائپر فائر استعمال کیا گیا۔ حوثیوں نے نہ تو ہلاکتوں کے اعداد و شمار جاری کیے اور نہ یہ بتایا کہ جھڑپیں کس طرح شروع ہوئیں۔

بحیرۂ احمر میں برطانوی فوج کی رپورٹ—جس میں کہا گیا کہ الحدیدہ کے قریب ایک مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا، کوئی زخمی نہیں ہوا اور کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی—اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ حوثی کنٹرول والے علاقوں کے نزدیک پانیوں میں، بالخصوص الحدیدہ اور باب المندب کے گرد، تجارتی جہازرانی بدستور کمزور اور خطرات سے دوچار ہے۔

ہوائی اڈے کا تنازع ایک پرواز سے آگے بڑھ کر بین الاقوامی ہوائی اڈے اور سرکاری اداروں سے باہر فضائی حدود کے کنٹرول کے بارے میں بڑے اختلاف کی شکل اختیار کر گیا ہے، جس سے خودمختاری اور صنعا میں حوثی اختیار کو عملاً تسلیم کیے جانے سے متعلق سوالات اٹھتے ہیں۔ سعودی عرب بھی براہِ راست اس سے متاثر ہے: دستیاب مواد کے مطابق صنعا–تہران کی براہِ راست پرواز کا راستہ ہوائی اڈے کی جنگ بندی کے دوران بحالی سے جڑے سکیورٹی اور سیاسی انتظامات سے ٹکرا سکتا ہے۔ ریاض کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ پروازوں کو طے شدہ انتظامات کے دائرے میں رکھنا چاہتا ہے جبکہ قومی فضائی کمپنی کے آپریشن جاری رکھنے کا خواہاں بھی ہے۔

قیدیوں اور زیرِحراست افراد کے تبادلے میں تاخیر—جس میں ۱,۶۰۰ سے زائد افراد شامل ہیں—کے لیے زمینی سطح کے انتظامات اور آئی سی آر سی کی نگرانی میں فضائی پل درکار ہے۔ دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرایا، مگر اس مؤخر ہونے سے مذاکراتی عمل پر دباؤ بڑھ گیا ہے اور یہ بات مزید نمایاں ہوئی ہے کہ انسانی ہمدردی سے متعلق فائلیں بھی سیاسی اور عسکری تنازعات میں دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال ہو سکتی ہیں۔

علاقائی سطح پر دستیاب مواد کے مطابق ایران کے خلاف امریکا-اسرائیل جنگ اور حوثیوں و سعودی عرب کے درمیان تناؤ نے یمن میں بیرونی عوامل کی اہمیت بڑھا دی ہے، جس سے حوثیوں کے لیے گنجائش میں اضافہ ہوا، جبکہ حکومت کو خودمختار اختیار منوانے میں مشکلات کا سامنا رہا۔

موجودہ صورتحال اور آئندہ کے مراحل

یمن میں اس وقت محدود جھڑپیں، سیاسی تنازعات اور انسانی ہمدردی سے متعلق مذاکراتی عمل کی رکاوٹیں بیک وقت جاری ہیں۔ متعدد صوبوں میں نقل و حرکت کی اطلاعات ہیں، جبکہ الجوف میں قبائلی اشتعال نے دباؤ کی ایک اضافی سمت کھول دی ہے، جو اگر برقرار رہی تو ملک کے شمال مشرق میں فریقین کے اندازوں کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔

صنعا ہوائی اڈے کے معاملے میں اختلاف بدستور حل طلب ہے۔ دستیاب مواد کے مطابق بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے تہران سے صنعا کے لیے ماہان ایئر کی پرواز کی ایرانی درخواست مسترد کر دی، جبکہ بعض حوثی رہنما ایسی پروازیں جاری رکھنے پر زور دیتے ہیں۔ قیدیوں کے تبادلے کو حکومتی مذاکراتی ٹیم کے مطابق غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا گیا ہے، تاہم حوثی تاخیر کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے۔

دستیاب معلومات کی بنیاد پر کسی بھرپور اور ہمہ گیر محاذ آرائی کے آغاز کا کوئی مصدقہ ثبوت سامنے نہیں آیا۔ تاہم بار بار کے حملے اور کمزور پڑتے مذاکرات ۲۰۲۲ سے قائم نسبتاً سکون کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ آئندہ پیش رفت اس بات پر منحصر رہے گی کہ کشیدگی کم کرنے کے انتظامات دوبارہ زندہ ہو پاتے ہیں یا نہیں، اور آیا فریقین عسکری اور انسانی ہمدردی سے متعلق معاملات کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے سے پیچھے ہٹتے ہیں یا نہیں۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!