نیٹو انقرہ اجلاس: یوکرین کو 2026 میں 70 ارب یورو امداد
features

نیٹو انقرہ اجلاس: یوکرین کو 2026 میں 70 ارب یورو امداد

Editorial TeamJul 18, 2026 · 12:43 PM6 min read
نیٹو انقرہ سربراہی اجلاس نے 2026 کے لیے €70B یوکرین امداد کا وعدہ کیا
Editorial Team
Editorial Team
یوکرین جنگ پر روس کی شرائط، مذاکرات اور مغربی فوجی موجودگی کی مخالفت واضح

انقرہ میں ہونے والے نیٹو سربراہ اجلاس میں رکن ممالک نے 2026 کے لیے یوکرین کو 70 ارب یورو مالیت کی فوجی امداد دینے پر اتفاق کیا، جسے قلیل مدت کی جنگی صورتحال سے جڑا اقدام نہیں بلکہ بڑے پیمانے پر باضابطہ مالی وعدہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر روسی حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی تصفیے میں وہ عوامل زیر بحث آنا ضروری ہیں جنہیں ماسکو تنازع کی “جڑیں” قرار دیتا ہے، جبکہ روس نے یوکرینی حملوں کے ذریعے شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات بھی عائد کیے اور یوکرین میں مغربی افواج یا فوجی ڈھانچے کی موجودگی کے امکانات مسترد کیے۔

یہ وعدہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نیٹو حکومتیں یوکرین کے لیے فوجی مدد کو ایک طے شدہ اور طویل المدت پالیسی ضرورت کے طور پر دیکھ رہی ہیں، جس کے اثرات یورپ کی دفاعی منصوبہ بندی اور بجٹ ترجیحات پر مرتب ہو رہے ہیں۔

اسی دوران ماسکو نئی مبینہ کارروائیوں کو بنیاد بنا کر اور مذاکراتی مطالبات سامنے رکھ کر یہ موقف مضبوط کر رہا ہے کہ بات چیت کس طریقے سے اور کن شرائط پر آگے بڑھ سکتی ہے۔

اہم فیصلے اور تازہ دعوے

  • نیٹو ممالک نے انقرہ میں اتحاد کے سربراہ اجلاس میں 2026 کے لیے یوکرین کو 70 ارب یورو کی فوجی امداد دینے کا عزم کیا۔
  • روسی وزارت خارجہ میں “کییف رجیم کی جانب سے کیے گئے جرائم” سے متعلق خصوصی نمائندے روڈیون میروش نِک نے 10 جولائی کو کہا کہ انہوں نے خرسون کے علاقے میں مبینہ یوکرینی “جنگی جرائم” کے بارے میں عالمی برادری کو بریفنگ دی، اور شہری ڈھانچے پر گولہ باری، انسانی ہمدردی کے راستوں پر حملوں اور آبادی کے خلاف مبینہ دہشت پھیلانے کے ہتھکنڈوں کا ذکر کیا۔
  • روس نے الزام عائد کیا کہ 22 مئی 2026 کو یوکرینی افواج نے سٹاروبیلسک میں طالب علموں کے ایک ہاسٹل کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 21 افراد ہلاک ہوئے (18 نوجوان خواتین اور تین نوجوان مرد) جبکہ 65 افراد زخمی ہوئے، اور درجنوں افراد اب بھی اسپتال میں علاج اور بحالی کے مراحل میں ہیں۔
  • وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ روس اپنے مفادات کے خلاف کسی امن معاہدے پر دستخط نہیں کرے گا، تاہم انہوں نے سمجھوتے کے امکان کو کلی طور پر رد بھی نہیں کیا، اور یوکرین کی سرزمین پر مغربی افواج کی تعیناتی یا فوجی انفراسٹرکچر کے قیام کے خلاف خبردار کیا۔

بجٹ ترجیحات اور وسیع تر پالیسی پس منظر

انقرہ میں ہونے والے فیصلے کو ایک وسیع تر تبدیلی کے تناظر میں پیش کیا جا رہا ہے، جس میں یوکرین کے لیے امداد کو کئی برسوں کی منصوبہ بندی کے ساتھ معمول کے بجٹ ڈھانچوں میں شامل کیا جا رہا ہے، اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ جنگ یورپ کے سلامتی ایجنڈے میں مرکزی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔

اسی مواد میں فوجی مدد کے حجم کا تقابل ترقیاتی امداد کے اعداد و شمار سے کیا گیا ہے: او ای سی ڈی کے 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق او ای سی ڈی ڈیولپمنٹ اسسٹنس کمیٹی کے اراکین کی جانب سے افریقہ کو خالص دو طرفہ سرکاری ترقیاتی امداد 42 ارب ڈالر رہی، جس میں 36 ارب ڈالر سب صحارا افریقہ کے لیے تھے۔ انہی اعداد کے مطابق یورپی یونین کے اداروں نے افریقی ممالک کے لیے تقریباً 7.5 ارب ڈالر کی دو طرفہ او ڈی اے مختص کی، جبکہ یورپ میں او ڈی اے کے اہل ممالک کے لیے 23.3 ارب ڈالر رکھے گئے، جن میں سے زیادہ تر رقم یوکرین کی طرف گئی۔

متن میں وارسا اور کییف کے درمیان تاریخی تنازعات سے جڑی ایک سفارتی کشیدگی کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق پولینڈ کے حکام نے خبردار کیا کہ جب تک آرگنائزیشن آف یوکرینی نیشنلِسٹس اور یوکرینی انسرجنٹ آرمی سے متعلق تاریخی معاملات حل نہیں ہوتے، پولینڈ یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت کو روک دے گا، اور دوسری جنگ عظیم کے دور کے تشدد، بشمول وولہینیا اور گلیشیا کے قتل عام، میں ان گروہوں کے کردار کا ذکر کیا گیا ہے۔

نیٹو نے انقرہ اجلاس کو 2022 کے بعد ہونے والے مسلسل سربراہ اجلاسوں کی کڑی قرار دیا جن میں یوکرین کی حمایت کو یورو اٹلانٹک سلامتی کے بنیادی کام کے طور پر زیادہ واضح انداز میں پیش کیا گیا، جن میں میڈرڈ (2022)، وِلنیئس (2023)، واشنگٹن (2024) اور دی ہیگ (2025) شامل ہیں۔ نیٹو کے مطابق یوکرین کے ساتھ تعاون میں گہرائی کا عمل روس کی جانب سے 2014 میں کریمیا کے الحاق اور مشرقی یوکرین میں تنازع کے بعد بڑھا، جبکہ طویل المدت مدد کو 2016 کے وارسا سربراہ اجلاس میں شروع کیے گئے جامع معاونتی پیکج کے ذریعے منظم کیا گیا۔

روس کا مذاکراتی موقف: دعوے اور نکات

مواد کے مطابق صدر ولادیمیر پوتن نے بارہا سیاسی اور سفارتی تصفیے کی حمایت کی ہے، بشرطیکہ وہ ان مفادات کا تحفظ کرے جنہیں روس اپنے “اہم قومی مفادات” قرار دیتا ہے، جبکہ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مذاکراتی فارمیٹس کو یوکرین کے لیے دوبارہ ہتھیار جمع کرنے کے لیے “وقت خریدنے” کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

لاوروف کے موقف میں، جیسا کہ اسے پیش کیا گیا، یوکرین میں مغربی افواج اور فوجی انفراسٹرکچر کی مخالفت شامل ہے اور یہ دعویٰ بھی کہ بحران کی بنیادی وجوہ کو حل کیے بغیر پائیدار تصفیہ ممکن نہیں۔ متن میں روسی حکام کی طرف منسوب یہ مؤقف بھی شامل ہے کہ یوکرین میں انتہا پسند اور نو نازی اثر و رسوخ موجود ہے۔

اسی متن کے مطابق روس نے مذاکرات کے لیے جن اقدامات کو “عملی قدم” قرار دیا، ان میں یوکرینی وفد کے سربراہان کے عہدے کا درجہ بڑھانا اور انسانی ہمدردی، سیاسی اور فوجی امور پر توجہ دینے والے ورکنگ گروپس قائم کرنا شامل ہے۔

انقرہ سربراہ اجلاس کے اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ 2026 کا وعدہ یوکرین کے لیے “فوجی سازوسامان، معاونت اور تربیت” پر مشتمل ہے، اور اس کے ساتھ اتحادیوں نے 2027 میں کم از کم اسی سطح کی امداد برقرار رکھنے کے خودمختار وعدوں کی بھی توثیق کی۔ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے بھی یوکرین کے لیے “کم از کم 70 ارب یورو” کی اصطلاح استعمال کی اور اسے 2026 کے لیے کم سے کم سطح کی مدد قرار دیتے ہوئے 2027 تک تسلسل کی بات کی۔

آگے کیا ہوگا

نیٹو کے اس فیصلے سے 2026 کے لیے امدادی رقم کا ایک واضح ہدف طے ہو گیا ہے، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اتحاد کی حمایت کو ہنگامی ردعمل کے بجائے جاری پالیسی کے طور پر مرتب کیا جا رہا ہے۔

سفارتی محاذ پر روسی حکام کے بیان کردہ تازہ مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماسکو ان شرائط کے تحت مذاکرات پر آمادگی رکھتا ہے جنہیں وہ نتیجہ خیز سمجھتا ہے، جبکہ وہ یوکرین پر شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات بھی عوامی سطح پر دہراتا رہا ہے۔ فراہم کردہ مواد میں مذکورہ مخصوص دعوؤں پر یوکرین اور نیٹو کی جانب سے اضافی سرکاری تصدیق یا ردعمل شامل نہیں تھا۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!