حماس نے خلیل الحیہ کو سیاسی بیورو کا نیا سربراہ منتخب کیا
features

حماس نے خلیل الحیہ کو سیاسی بیورو کا نیا سربراہ منتخب کیا

Editorial TeamJul 20, 2026 · 4:30 PM5 min read
خلیل الحیا، فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے سیاسی بیورو کے نئے سربراہ
Editorial Team
Editorial Team
غزہ جنگ کے تناظر میں شوریٰ کونسل کے رن آف ووٹ کے بعد تجربہ کار مذاکرات کار کی قیادت 2027 تک برقرار

حماس نے اعلان کیا ہے کہ خلیل الحیہ کو تنظیم کے سیاسی بیورو کا نیا سربراہ منتخب کر لیا گیا ہے۔ یہ انتخاب جنگی حالات میں ہونے والے اندرونی انتخابی عمل کے تحت جنرل شوریٰ کونسل میں رن آف ووٹ کے ذریعے طے پایا، کیونکہ ابتدائی ووٹنگ میں کوئی امیدوار مطلوبہ اکثریت، یعنی ۵۰ فیصد جمع ایک ووٹ، حاصل نہ کر سکا۔

خلیل الحیہ نے یحییٰ السنوار کی جگہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں ۲۰۲۴ میں غزہ پٹی میں اسرائیلی فوج نے ہلاک کر دیا تھا۔ السنوار نے اسی برس کے آغاز میں قتل کیے جانے والے سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ کی جگہ قیادت سنبھالی تھی۔

یہ تقرری ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب حماس کی اعلیٰ قیادت کو ہدف بنا کر کیے گئے حملوں اور جاری فوجی کارروائیوں کے باعث بار بار تشکیلِ نو کا سامنا رہا۔ خلیل الحیہ کی نامزدگی سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ تنظیم تنازع کے دوران بھی اپنے اندرونی ضابطوں اور رسمی طریقہ کار پر قائم رہنے کو اہمیت دیتی ہے، اور جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے سے متعلق بیرونی رابطوں میں تسلسل کا اشارہ دیتی ہے۔

قیادت کی تبدیلی اور داخلی ووٹنگ

  • خلیل الحیہ کو سابق سیاسی سربراہ خالد مشعل کے مقابل رن آف ووٹ کے بعد حماس کے سیاسی بیورو کا سربراہ منتخب کیا گیا، کیونکہ ابتدائی مرحلے میں کوئی امیدوار ۵۰ فیصد جمع ایک ووٹ کی شرط پوری نہ کر سکا۔
  • ووٹنگ حماس کی جنرل شوریٰ کونسل نے کرائی، جسے تنظیم کے قواعد کے تحت سیاسی بیورو کے سربراہ کے انتخاب کا حتمی اختیار حاصل ہے، اور اس کے لیے براہ راست عوامی یا نچلی سطح کا بیلٹ استعمال نہیں کیا جاتا۔
  • یہ انتخاب حماس کے ۲۰۲۱ کے داخلی فریم ورک سے ہم آہنگ قرار دیا گیا، جس کے تحت اعلیٰ قیادت میں غزہ، مقبوضہ مغربی کنارے اور بیرونِ ملک موجود ڈائسپورا کی نمائندگی کا پہلو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔
  • خلیل الحیہ ۲۰۲۷ تک جاری موجودہ انتخابی مدت کی باقی مدت پوری کریں گے، اور اس سے قبل وہ ۲۰۲۴ کے اواخر میں جنگی حالات میں نظم و نسق کے لیے قائم کی گئی پانچ رکنی عبوری حکمراں کونسل کا حصہ بھی رہ چکے ہیں۔

خلیل الحیہ کا پس منظر اور حماس میں عروج

خلیل الحیہ ۵ نومبر ۱۹۶۰ کو غزہ شہر میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک قدامت پسند خاندان میں پرورش پائے جس کی فضا ۱۹۶۷ کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد کے حالات اور اسرائیلی قبضے سے متاثر رہی۔ ان کے بقول بچپن کے تجربات، جن میں گھر پر چھاپے اور رشتہ داروں کی گرفتاریاں شامل تھیں، ان کی ابتدائی سیاسی آگاہی میں اثرانداز ہوئیں۔

وہ مارچ ۱۹۸۰ میں حماس کے بانی شیخ احمد یاسین سے ملاقات کے بعد منظم سرگرمیوں کی طرف آئے۔ بعد ازاں انہوں نے اسلامیات میں تعلیم جاری رکھی: ۱۹۸۳ میں اسلامی یونیورسٹی غزہ سے بیچلر، ۱۹۸۶ میں یونیورسٹی آف اردن سے ماسٹرز، اور ۱۹۹۷ میں سوڈان سے علومِ حدیث میں ڈاکٹریٹ حاصل کی۔ وہ اسلامی یونیورسٹی غزہ میں ڈین برائے طلبہ امور کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں اور فلسطینی علما تنظیم سے وابستہ رہے۔

۱۹۸۷ میں حماس کے بانی اراکین میں شامل خلیل الحیہ کو ۱۹۸۰ کی دہائی کے اواخر میں پہلی انتفاضہ کے دوران اسرائیلی فورسز نے متعدد بار قید کیا۔ بعد میں وہ ۲۰۰۶ میں انتخابی سیاست میں داخل ہوئے، فلسطینی قانون ساز کونسل کی نشست جیتی اور حماس کے پارلیمانی بلاک کی قیادت کی۔ سیاسی بیورو کے سربراہ کے منصب کو تنظیم کا اعلیٰ ترین سیاسی اور اسٹریٹجک عہدہ سمجھا جاتا ہے، جس کا تقرر کسی عوامی ووٹ کے بجائے شوریٰ کے داخلی ڈھانچے کے ذریعے ہوتا ہے، اور فیصلہ کن نتیجہ نہ نکلنے کی صورت میں رن آف کا طریقہ اپنایا جاتا ہے۔

مذاکراتی کردار اور سکیورٹی دباؤ

گزشتہ دو دہائیوں میں خلیل الحیہ نے تنظیمی سطح پر کئی اہم ذمہ داریاں انجام دیں، جن میں غزہ میں حماس کے نائب سربراہ اور عرب و اسلامی تعلقات کے دفتر کی سربراہی شامل ہے۔ انہوں نے ۲۰۱۲ اور ۲۰۱۴ میں غزہ پر اسرائیلی جنگوں کے بعد جنگ بندی مذاکرات میں حماس کے وفود کی قیادت کی۔

اکتوبر ۲۰۲۳ میں جنگ شروع ہونے کے بعد وہ قطر اور مصر کی ثالثی میں بالواسطہ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے سے متعلق مذاکرات میں حماس کے مرکزی مذاکرات کار بن گئے۔ وہ زیادہ تر قطر سے کام کرتے رہے، جہاں ۲۰۱۲ میں حماس کے سیاسی بیورو کی میزبانی کا آغاز ہوا تھا، جسے قطری حکام نے امریکا کی درخواستوں سے منسلک قرار دیا۔

خلیل الحیہ متعدد حملوں میں بچ نکلے۔ جنوری ۲۰۲۴ میں بیروت میں ڈرون حملے میں حماس کے نائب سیاسی سربراہ صالح العاروری ہلاک ہوئے۔ ستمبر ۲۰۲۵ میں دوحہ کے ایک رہائشی کمپلیکس پر حملے میں ان کے بیٹے ہُمام، ان کے دفتر کے ڈائریکٹر جہاد لبّاد، تین باڈی گارڈز اور ایک قطری سکیورٹی اہلکار مارے گئے، جبکہ خلیل الحیہ زندہ رہے۔

حماس نے ۲۰ جولائی ۲۰۲۶ کو اعلان کیا کہ خلیل الحیہ کو یحییٰ السنوار کے جانشین کے طور پر سیاسی بیورو کا سربراہ منتخب کر لیا گیا ہے، اور السنوار کو “شہید” قرار دیا۔ الجزیرہ کی عربی سروس کے مطابق حتمی رن آف میں فیصلہ ایک ووٹ سے ہوا اور خالد مشعل کے مقابل نتیجہ ۳۵ کے مقابل ۳۴ رہا، جسے اندرونی مقابلے کی شدت کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔

موجودہ صورتحال اور آگے کیا ہوگا

خلیل الحیہ کے سیاسی بیورو کے سربراہ کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالنے کے بعد حماس میں قیادت کی منتقلی جاری تنازع کے باوجود تنظیم کے قائم شدہ داخلی قواعد کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے۔ فلسطینی سیاسی تجزیہ کار عبداللہ اقراباوی نے جنگی حالات میں مقابلہ جاتی ووٹ کو حماس کی “گہری ادارہ جاتی ساخت” کی علامت قرار دیا، جبکہ تجزیہ کار وسام عفیفہ کے مطابق پہلے سے موجود ہنگامی طریقہ کار بحران کے وقت ثانوی قیادتی سطحوں کو فعال کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔

حماس کی مذاکراتی ٹیم میں کسی تبدیلی یا وسیع تر سیاسی حکمتِ عملی سے متعلق مزید پیش رفت کا اعلان تاحال نہیں کیا گیا۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!