مذاکراتی کردار اور سکیورٹی دباؤ
گزشتہ دو دہائیوں میں خلیل الحیہ نے تنظیمی سطح پر کئی اہم ذمہ داریاں انجام دیں، جن میں غزہ میں حماس کے نائب سربراہ اور عرب و اسلامی تعلقات کے دفتر کی سربراہی شامل ہے۔ انہوں نے ۲۰۱۲ اور ۲۰۱۴ میں غزہ پر اسرائیلی جنگوں کے بعد جنگ بندی مذاکرات میں حماس کے وفود کی قیادت کی۔
اکتوبر ۲۰۲۳ میں جنگ شروع ہونے کے بعد وہ قطر اور مصر کی ثالثی میں بالواسطہ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے سے متعلق مذاکرات میں حماس کے مرکزی مذاکرات کار بن گئے۔ وہ زیادہ تر قطر سے کام کرتے رہے، جہاں ۲۰۱۲ میں حماس کے سیاسی بیورو کی میزبانی کا آغاز ہوا تھا، جسے قطری حکام نے امریکا کی درخواستوں سے منسلک قرار دیا۔
خلیل الحیہ متعدد حملوں میں بچ نکلے۔ جنوری ۲۰۲۴ میں بیروت میں ڈرون حملے میں حماس کے نائب سیاسی سربراہ صالح العاروری ہلاک ہوئے۔ ستمبر ۲۰۲۵ میں دوحہ کے ایک رہائشی کمپلیکس پر حملے میں ان کے بیٹے ہُمام، ان کے دفتر کے ڈائریکٹر جہاد لبّاد، تین باڈی گارڈز اور ایک قطری سکیورٹی اہلکار مارے گئے، جبکہ خلیل الحیہ زندہ رہے۔
حماس نے ۲۰ جولائی ۲۰۲۶ کو اعلان کیا کہ خلیل الحیہ کو یحییٰ السنوار کے جانشین کے طور پر سیاسی بیورو کا سربراہ منتخب کر لیا گیا ہے، اور السنوار کو “شہید” قرار دیا۔ الجزیرہ کی عربی سروس کے مطابق حتمی رن آف میں فیصلہ ایک ووٹ سے ہوا اور خالد مشعل کے مقابل نتیجہ ۳۵ کے مقابل ۳۴ رہا، جسے اندرونی مقابلے کی شدت کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔