یمن میں صنعاء ایئرپورٹ پر حملہ، حوثی میزائل وارننگ
news

یمن میں صنعاء ایئرپورٹ پر حملہ، حوثی میزائل وارننگ

Editorial TeamJul 13, 2026 · 7:46 PM8 min read
اے آئی سے تیار کردہ نمائندہ تصویر: یمن میں صنعا ایئرپورٹ سے متعلق کشیدگی کے دوران رن وے کو نقصان اور رپورٹ شدہ میزائل کارروائیوں کی فضا۔
Editorial Team
Editorial Team
سعودی اتحاد کی دفاعی کارروائی، ایران سے پرواز اور اقوام متحدہ کی کشیدگی بڑھنے پر تنبیہ

یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے کہا ہے کہ اس نے پیر کے روز صنعاء ایئرپورٹ کے رن وے کو اس مقصد سے نشانہ بنایا کہ ایک ایرانی طیارہ لینڈ نہ کر سکے، جبکہ اسی روز بعد میں ایران نواز حوثی تحریک کی جانب سے بیلسٹک میزائل داغنے کی اطلاعات کے ساتھ کشیدگی مزید بڑھ گئی۔

یمنی حکومت کی حمایت کرنے والے سعودی قیادت والے اتحاد کے مطابق اس کے فضائی دفاعی نظام نے حوثیوں کی جانب سے مملکت کے جنوبی علاقے کی سمت فائر کیے گئے میزائلوں کو راستے ہی میں روک لیا، جبکہ اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ حالیہ اقدامات تشدد کے نئے سلسلے کو جنم دینے کا خطرہ رکھتے ہیں۔

ان پیش رفتوں نے اس خدشے کو بڑھا دیا ہے کہ یمن کی طویل جنگ—جو اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد کئی علاقوں میں بڑی حد تک جمود کا شکار تھی—دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے، جس کے اثرات شہری آبادی، انسانی امدادی کارروائیوں اور علاقائی سلامتی، بالخصوص سعودی عرب، پر پڑ سکتے ہیں۔

یہ ٹکراؤ ایران اور حوثیوں سے منسلک پروازوں کے معاملے پر بڑھتے ہوئے تنازع کی بھی عکاسی کرتا ہے؛ یمنی حکومت ایسے طیاروں کو یمن کی فضائی حدود کی خلاف ورزی قرار دے رہی ہے، جبکہ حوثی سعودی عرب پر حملوں کا الزام عائد کر رہے ہیں—جس پر ریاض نے اس تازہ واقعے میں سرکاری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔

یمنی حکومت نے کہا کہ اس کی فورسز نے پیر کے روز صنعاء ایئرپورٹ کے رن وے پر بمباری کی تاکہ ایران سے آنے والے حوثی وفد کو لے کر آنے والے طیارے کی لینڈنگ روکی جا سکے۔ بیان میں حکومت نے کہا:

“ایرانی رژیم کی حمایت یافتہ حوثی دہشت گرد ملیشیا نے یمنی قومی طیاروں کو دارالحکومت کے ایئرپورٹ، صنعاء، پر اترنے سے روکا اور اس بات پر اصرار کیا کہ ایرانی طیارہ یمنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرے۔ لہٰذا ایئرپورٹ کے رن وے کو نشانہ بنایا گیا۔”

اس سے پہلے یمن کی وزارتِ دفاع نے انخلا کی وارننگ جاری کی تھی اور شہریوں، کارکنوں، سفارتی مشنز اور انسانی امدادی اداروں سے کہا تھا کہ وہ “اگلے حکم تک” فوری طور پر ایئرپورٹ اور اس کے اطراف کے علاقوں سے نکل جائیں۔

بعد ازاں پیر ہی کو حوثیوں نے کہا کہ تہران سے واپس آنے والے وفد کو لے جانے والا طیارہ بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر الحدیدہ میں اترا ہے، جو گروپ کے کنٹرول میں ہے۔ حوثی نشریاتی ادارے المسیرہ نے گروپ کے وزیرِ ٹرانسپورٹ کے حوالے سے کہا:

“ایرانی طیارہ وطن کی سرزمین پر اتر چکا ہے، جس میں متعدد طبی مریض اور پھنسے ہوئے شہری سوار ہیں، اور ان کے ساتھ جمہوریہ یمن کا سرکاری وفد بھی موجود ہے۔”

حوثیوں نے کہا کہ وہ حملے کا جواب دیں گے اور انہوں نے کسی ثبوت کے بغیر سعودی عرب کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے خبردار کیا:

“یہ جارحیت بلا جواب یا بلا سزا نہیں رہے گی۔”

پیر کی شام یمن کے لیے سعودی قیادت والے اتحاد نے رپورٹ کیا کہ اس نے مملکت کے جنوبی حصے کو نشانہ بنانے والے حوثی بیلسٹک میزائل روک لیے ہیں۔ اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے کہا:

“فضائی دفاع نے دہشت گرد حوثی ملیشیا کی جانب سے جنوبی علاقے کی سمت داغے گئے بیلسٹک میزائل کے خطرے کو ناکام بنایا۔”

ایئرپورٹ پر حملے یا حوثیوں کے الزام پر سعودی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

ایران نے رن وے پر حملے کی مذمت کی۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اسے:

“بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی واضح خلاف ورزی، نیز یمن کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی توہین”

قرار دیا، ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق۔

یمن برسوں سے دو حصوں میں منقسم ہے: ایک طرف بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت ہے جو جنوبی ساحلی شہر عدن میں قائم ہے اور سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کی حمایت یافتہ ہے؛ دوسری طرف حوثی تحریک ہے جو دارالحکومت صنعاء اور شمالی یمن کے بڑے حصے کے علاوہ مغربی بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع الحدیدہ پر بھی قابض ہے۔ ایئرپورٹ پر تازہ حملہ اور میزائل روکنے کی کارروائیاں اسی متنازع اختیار اور بدلتی ہوئی محاذی صورتحال کے پس منظر میں سامنے آئی ہیں۔

سعودی قیادت والے اتحاد نے ۲۰۱۵ میں یمن میں فوجی مداخلت اس وقت کی تھی جب حوثیوں نے صنعاء پر قبضہ کر کے حکومت کو بے دخل کر دیا تھا۔ اس جنگ نے بڑے پیمانے پر نقل مکانی، شدید معاشی تباہی اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا، جبکہ اقوام متحدہ بارہا یمن کی صورتحال کو دنیا کے سنگین ترین انسانی بحرانوں میں سے ایک قرار دیتا رہا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں فضائی آمدورفت اور طیاروں پر مبینہ حملوں سے متعلق تناؤ میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اسی ماہ کے آغاز میں حوثیوں نے الزام لگایا تھا کہ سعودی عرب نے ایک ایرانی طیارے پر حملہ کیا جو صنعاء میں اترا تھا اور بعد میں حوثی وفد کو لے کر روانہ ہوا۔ اس الزام کے بعد حوثیوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر ریاض نے ان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی یا دوبارہ حملے کی کوشش کی تو وہ سعودی ایئرپورٹس اور “اہم اثاثوں” کو نشانہ بنائیں گے۔

اسی پس منظر میں یمنی حکومت نے تازہ حملے کو اس کوشش کا حصہ قرار دیا ہے جس کے ذریعے وہ ایرانی طیاروں کی، اس کے بقول، یمن کی فضائی حدود کی خلاف ورزی روکنا چاہتی ہے۔ پیر کو وزیرِ دفاع نے کہا کہ حکومت نے ایران اور حوثیوں کو ایسی پروازیں روکنے پر آمادہ کرنے کے لیے سفارتی کوششیں مکمل کر لی ہیں، اور خبردار کیا کہ یمنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے کسی بھی “معاند طیارے” کا “تمام دستیاب ذرائع” سے جواب دیا جائے گا، جبکہ اس کی ذمہ داری ایران پر عائد کی جائے گی۔

موجودہ کشیدگی نے سعودی عرب پر سرحد پار حملوں کے خدشات بھی پھر سے زندہ کر دیے ہیں، جیسا کہ جنگ کے پہلے مراحل میں دیکھا گیا تھا۔ فراہم کردہ مواد کے مطابق تازہ ٹکراؤ اس امکان کو بڑھاتا ہے کہ اقوام متحدہ کی سرپرستی میں جنگ بندی کے باوجود حوثی مملکت پر دوبارہ حملے کر سکتے ہیں، جس جنگ بندی نے بڑی حد تک لڑائی کو منجمد کر رکھا تھا۔

ایئرپورٹ کے تنازع سے الگ، بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے وزیرِ اطلاعات معمر بن مطہر الاریانی نے کہا کہ حوثیوں نے صنعاء ایئرپورٹ پر بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس کے ایک طیارے کو روک رکھا ہے اور اس کے پائلٹ اور معاون پائلٹ کو بھی تحویل میں لیا ہوا ہے۔ اس دعوے نے بین الاقوامی امدادی اداروں کو درپیش عملی رکاوٹوں اور خطرات سے متعلق تشویش میں اضافہ کیا ہے۔

یمنی حکومت نے رن وے پر حملے کا جواز پیر کے روز جاری اپنے بیان میں پیش کیا، جس میں کہا گیا کہ حوثیوں نے صنعاء ایئرپورٹ پر “یمنی قومی طیاروں” کی لینڈنگ روک دی اور اس بات پر زور دیا کہ ایک ایرانی طیارہ یمن کی فضائی حدود میں داخل ہو۔ حکومت کے مطابق اسی وجہ سے “ایئرپورٹ کے رن وے کو نشانہ بنایا گیا”۔ فراہم کردہ مواد میں حکومت کے بیان کی آزادانہ تصدیق شامل نہیں ہے۔

وزارتِ دفاع کی انخلا وارننگ میں واضح طور پر شہریوں، کارکنوں، سفارتی مشنز اور انسانی امدادی تنظیموں کا نام لے کر ہدایت کی گئی کہ وہ فوری طور پر ایئرپورٹ اور اس کے اطراف سے نکل جائیں اور “اگلے حکم تک” دور رہیں۔ مواد میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس وارننگ پر عمل ہوا یا نہیں، اور نہ ہی حملے سے ہونے والے نقصان یا جانی نقصان کی تفصیل دی گئی ہے۔

حوثیوں کا مؤقف مختلف تھا۔ ان کے مطابق طیارہ الحدیدہ میں اترنے میں کامیاب رہا اور انہوں نے مسافروں میں “طبی مریض” اور “پھنسے ہوئے شہری” شامل ہونے کا ذکر کیا، جبکہ ساتھ ایک “سرکاری وفد” بھی تھا۔ گروپ نے رن وے پر حملے کی ذمہ داری بھی کسی ثبوت کے بغیر سعودی عرب پر ڈالی۔ دوسری جانب سعودی قیادت والے اتحاد نے رپورٹ کیا کہ اس نے جنوبی سعودی عرب کی سمت داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کو روکا، اور ان پروجیکٹائلز کو “بیلسٹک میزائل خطرہ” قرار دیتے ہوئے انہیں، اس کے بقول، “دہشت گرد حوثی ملیشیا” کی کارروائی بتایا۔

ارنا کے مطابق ایران کی مذمت میں بین الاقوامی قانونی اصولوں کا حوالہ دیا گیا اور حملے کو “بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی واضح خلاف ورزی” اور “یمن کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی توہین” کہا گیا۔ فراہم کردہ مواد میں واقعے پر سعودی عرب کی جانب سے فوری ردِعمل شامل نہیں ہے۔

پیر کے اختتام تک فراہم کردہ مواد میں جن بنیادی دعوؤں کی تصدیق کی گئی، وہ یہ تھے: یمنی حکومت کا اعلان کہ اس نے صنعاء ایئرپورٹ کے رن وے کو نشانہ بنایا؛ حوثیوں کا بیان کہ ایران سے منسلک ایک طیارہ الحدیدہ میں اترا؛ اور سعودی قیادت والے اتحاد کی رپورٹ کہ اس نے جنوبی سعودی عرب کی سمت فائر کیے گئے بیلسٹک میزائل روک لیے۔

مزید کشیدگی روکنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری تھیں۔ یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈبرگ نے کہا کہ ان کا دفتر تمام فریقوں سے رابطے میں ہے اور تحمل کی اپیل کر رہا ہے، جبکہ انہوں نے کشیدگی بڑھنے کے خطرے سے خبردار کیا۔ بیان میں انہوں نے کہا:

“ہم انہیں کشیدگی کم کرنے اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کی تلقین کر رہے ہیں جس سے یمن میں تشدد کا نیا سلسلہ شروع ہونے کا خطرہ ہو۔”

مزید کسی فوجی کارروائی، تحقیقات یا سعودی حکام کی جانب سے کسی اضافی ردِعمل سے متعلق معلومات فراہم کردہ مواد میں موجود نہیں تھیں۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!