ٹوخل کا اپنے فیصلوں کا دفاع اور ٹاپ ٹیموں کا تجزیہ
ٹوخل نے کہا کہ ارجنٹینا کے خلاف انہوں نے کئی فیصلے “اپنی جبلّت، اپنے وجدان اور اپنے تجربے” پر بھروسا کرتے ہوئے کیے تاکہ ٹیم نتیجہ اپنے حق میں محفوظ کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ انگلینڈ مطلوبہ نتیجہ حاصل نہ کر سکا، اس لیے وہ “یقیناً” ذمہ داری قبول کریں گے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ میچ کے دوران ایسے فیصلے “دباؤ” میں کرنا پڑتے ہیں۔
جمعہ کو میچ سے قبل پریس کانفرنس میں ٹوخل نے سیمی فائنل کی شکست کے جذباتی بوجھ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس تکلیف کی شدت سب سے زیادہ ٹیم کے اندر موجود لوگوں نے محسوس کی۔ مدافع جان اسٹونز کے ساتھ پریس کانفرنس میں انہوں نے اسے “نہایت تکلیف دہ شکست” قرار دیا اور کہا کہ یہ ایک “زخم” ہے جو اب کھلاڑیوں کے ساتھ رہے گا۔
ٹوخل کے مطابق اعلیٰ ترین ٹیموں کو برسوں میں بننے والا ایک فائدہ حاصل ہوتا ہے، اور انہوں نے ارجنٹینا، اسپین اور فرانس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ٹائٹلز کا ریکارڈ اور فائنل تک پہنچنے کی توقعات اس “معمولی خلا” کی نشان دہی کرتی ہیں جسے انگلینڈ کو کم کرنا ہے۔
ٹوخل نے تیسری پوزیشن کے پلے آف کو “وہ میچ جسے کوئی کھیلنا نہیں چاہتا” کہا، مگر ساتھ ہی انگلینڈ پر زور دیا کہ ارجنٹینا کے خلاف شکست کو فوری ردعمل کے لیے ایندھن بنایا جائے۔ انہوں نے سیمی فائنل کو دو مختلف حصوں میں بٹا ہوا محسوس ہونے کی بات بھی کی، “گول سے پہلے اور گول کے بعد”، اور دباؤ میں میچ کی کیفیت کو قابو میں رکھنے کی اہمیت اجاگر کی۔