یورپ کی گرمی کی لہر: جون میں 10 ہزار اضافی اموات
news

یورپ کی گرمی کی لہر: جون میں 10 ہزار اضافی اموات

Editorial TeamJul 13, 2026 · 7:31 AM5 min read
اے آئی سے تیار کردہ نمائندہ تصویر: یورپی شہر میں شدید گرمی کی لہر کے دوران ایک بزرگ شخص گرمی سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔
Editorial Team
Editorial Team
یورو مومو کے مطابق بزرگوں میں شرحِ اموات زیادہ، عالمی ادارۂ صحت کی نئی وارننگ

یورپ کی گرمی کی لہر کے باعث جون میں 10 ہزار سے زائد اضافی اموات ریکارڈ ہوئیں، سرکاری اموات کے اعداد و شمار کے حوالے سے وائس آف اردو نے رپورٹ کیا ہے۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب مغربی یورپ نے ریکارڈ شدہ تاریخ کا گرم ترین جون دیکھا، اور جرمنی، فرانس اور اسپین کے بعض حصوں میں درجۂ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر گیا۔

یہ اعداد و شمار اس حقیقت کو نمایاں کرتے ہیں کہ شدید گرمی اب یورپ میں موسم سے متعلق خطرات میں سب سے زیادہ جان لیوا ثابت ہو رہی ہے، جبکہ اس کے اثرات اکثر سرکاری ریکارڈ میں پوری طرح ظاہر نہیں ہوتے۔ ماہرینِ صحت گرمی کی لہروں کے حقیقی نقصانات جانچنے کے لیے “اضافی اموات” کا پیمانہ استعمال کرتے ہیں—یعنی وہ اموات جو موسم کے معمول کے مطابق متوقع سطح سے بڑھ جائیں—بالخصوص بزرگ اور طبی طور پر کمزور افراد میں۔ یورپی یونین سے متعلق دیگر پیش رفت کے لیے یورپی یونین کی جانب سے ایران پر پابندیاں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔

اہم پیش رفت

  • یورو مومو، یورپ میں اموات کی نگرانی کا نیٹ ورک، کے مطابق 22 سے 28 جون کے ہفتے میں—جب مغربی یورپ کے بڑے حصے میں گرمی کی لہر عروج پر تھی—اضافی اموات کی تعداد بڑھ کر 10,650 تک پہنچ گئی۔

  • یورو مومو کے اعداد و شمار کے مطابق 9,000 سے زیادہ اضافی اموات 65 برس اور اس سے زائد عمر کے افراد میں ہوئیں۔

  • جرمنی نے تین مسلسل دن درجۂ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹنے کے بعد نیا قومی درجۂ حرارت ریکارڈ قائم کیا، جہاں پارہ 41.7 ڈگری سینٹی گریڈ تک گیا۔

  • فرانس میں اب تک کا گرم ترین دن ریکارڈ کیا گیا، جہاں درجۂ حرارت 43.8 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچا۔

  • طویل گرمی کی لہر نے جنگلاتی آگ کو ہوا دی، آمدورفت اور بنیادی ڈھانچے میں خلل پیدا کیا، اور خطے بھر میں گرمی سے متعلق بیماریوں اور ڈوبنے سے ہونے والی اموات میں اضافے سے بھی جوڑی گئی۔

  • عالمی ادارۂ صحت کے یورپ کے لیے علاقائی ڈائریکٹر ہینری کلوگے نے خبردار کیا کہ ممالک کو “زیادہ جان لیوا ہفتوں” کے لیے تیاری کرنی چاہیے، ان کے مطابق بحرِ اوقیانوس کے اوپر ایک اور گرمی کی لہر تشکیل پا رہی تھی۔

پس منظر اور سیاق

مغربی یورپ نے ریکارڈ کے مطابق گرم ترین جون کا سامنا کیا، جس میں جرمنی، فرانس اور اسپین سمیت متعدد ممالک میں غیر معمولی درجۂ حرارت رپورٹ ہوا۔ سائنس دان اور عوامی صحت کے ادارے گرمی کے واقعات کے دوران اضافی اموات پر خاص نظر رکھتے ہیں، کیونکہ گرمی سے جڑی بہت سی اموات کو سرکاری طور پر باقاعدہ طور پر “زیادہ درجۂ حرارت” کی وجہ سے ہونے والی موت کے طور پر درج نہیں کیا جاتا۔

یورو مومو کو یورپی مرکز برائے امراض کی روک تھام و کنٹرول اور عالمی ادارۂ صحت کی معاونت حاصل ہے، اور یہ یورپ بھر میں غیر معمولی رجحانات کی نگرانی کے لیے قومی شماریاتی اداروں کے اموات سے متعلق اشاروں کو یکجا کرتا ہے۔

تفصیلات اور شواہد

ڈنمارک کے ادارے اسٹیٹنز سیرم انسٹی ٹیوٹ کے چیف فزیشن لاسے ویسٹرگارڈ—جو یورو مومو کی میزبانی بھی کرتا ہے—نے کہا کہ سال کے اس حصے میں اموات کی یہ سطح غیر معمولی ہے۔

ویسٹرگارڈ نے کہا، “سال کے اس وقت میں اس نوعیت کی اضافی اموات غیر معمولی ہیں۔ یہ واقعی بہت زیادہ ہے۔ اتنی بلند اضافی اموات کی وضاحت شدید گرمی کے سوا کسی اور وجہ سے کرنا مشکل ہے۔”

وائس آف اردو کے حوالے سے ماہرین نے کہا کہ یورو مومو کے اندازے میں ظاہر ہونے والے اس اضافے کی وضاحت کرنے کے لیے کوئی اور بڑا معروف عامل—مثلاً کووڈ-19 کی وبائیں—سامنے نہیں آئیں۔ اس موضوع پر مزید تناظر کے لیے بھارت میں پوشیدہ COVID اموات سے متعلق رپورٹ بھی پڑھی جا سکتی ہے۔

اسکائی نیوز کے حوالے سے علیحدہ اندازوں کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں مئی اور جون کے دوران اضافی اموات کی تعداد تقریباً 2,700 رہی، جو امپیریل کالج لندن، میٹ آفس اور لندن اسکول آف ہائجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کے جائزوں پر مبنی ہے۔

وائس آف اردو کے مطابق فرانس، بیلجیم اور نیدرلینڈز میں گزشتہ ماہ 3,700 اضافی اموات ریکارڈ ہوئیں۔

ماہرینِ صحت خبردار کرتے ہیں کہ شدید گرمی ہیٹ اسٹروک کے ذریعے جان لیوا بن سکتی ہے یا دل اور سانس کی بیماریوں کو بگاڑ کر خطرہ بڑھا دیتی ہے، جبکہ بزرگ افراد سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں شامل ہیں۔

موجودہ صورتحال اور آئندہ لائحہ عمل

یورو مومو کے تازہ ترین اعداد و شمار 22 سے 28 جون کے ہفتے کے اموات کے رجحانات کی عکاسی کرتے ہیں، جب گرمی کی لہر عروج پر تھی، اور ان سے یورپ بھر میں بزرگ افراد پر بھاری اثرات کی نشاندہی ہوتی ہے۔ متعلقہ حکام اور صحت کے ادارے صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ پیش گوئی کرنے والے ادارے اور بین الاقوامی صحت کے عہدیدار خبردار کر رہے ہیں کہ ایک اور گرمی کی لہر بن سکتی ہے، جس سے آنے والے ہفتوں میں صحت سے متعلق مزید اثرات کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!