ٹرمپ-الزیدی ملاقات: وائٹ ہاؤس میں معاہدوں اور تیل پر بات
news

ٹرمپ-الزیدی ملاقات: وائٹ ہاؤس میں معاہدوں اور تیل پر بات

Editorial TeamJul 15, 2026 · 6:17 AM7 min read
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس میں عراقی وزیر اعظم علی الزیدی سے مصافحہ کر رہے ہیں۔
Editorial Team
Editorial Team
واشنگٹن میں عراق، اوپیک اور امریکی افواج کے انخلا کی ڈیڈ لائن پر اہم پیش رفت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس میں عراقی وزیراعظم علی الزیدی سے ملاقات کی، جہاں دونوں رہنماؤں نے معاشی تعاون بڑھانے اور عراق کی تیل پیداوار میں اضافے کی خواہش کا اظہار کیا۔

اوول آفس میں ہونے والی ملاقات کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک وسیع تجارتی معاہدوں کی طرف جائیں گے، جبکہ علی الزیدی نے اس دورے کو “معاشی شراکت داری” کی شروعات قرار دیتے ہوئے کہا کہ دو طرفہ تعلقات کا محور اب بنیادی طور پر فوجی سے معاشی سمت میں منتقل ہو رہا ہے۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عراق کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان متضاد دباؤ کا سامنا ہے، جن میں عراق میں امریکی افواج کی موجودگی اور ایران سے وابستہ مسلح گروہوں کے اثر و رسوخ پر اختلافات نمایاں ہیں۔

یہ پیش رفت خطے کی وسیع تر بے چینی کے پس منظر میں بھی سامنے آئی ہے، جو ۲۸ فروری سے شروع ہونے والی امریکا-اسرائیل جنگِ ایران سے جڑی ہے۔ اس کشیدگی نے عراق کی معیشت کو بھی متاثر کیا ہے، خصوصاً آبنائے ہرمز سے متعلق رکاوٹوں کے ذریعے، جو عراق کی توانائی برآمدات کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔

ٹرمپ اور علی الزیدی دونوں نے کہا کہ عراق میں موجود باقی امریکی افواج—جن کی تعداد کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ۲ ہزار سے کم ہے—۳۰ ستمبر تک مکمل طور پر واپس چلی جائیں گی۔ علی الزیدی کے مطابق اسی تاریخ تک عراق بھر میں سرگرم مسلح دھڑوں کو غیر مسلح بھی کیا جائے گا۔

عراقی حکومت اس سے پہلے کہہ چکی تھی کہ علی الزیدی کے امریکی دورے کے دوران تیل اور گیس سے متعلق کئی معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں۔ ٹرمپ نے ملاقات میں اسی توقع کا اعادہ کرتے ہوئے “بہت سے معاہدوں” کا وعدہ کیا اور کہا کہ اس سے دونوں ممالک میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور تیل کی پیداوار بڑھے گی۔

وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران ٹرمپ نے علی الزیدی کی کھلے عام تعریف کی اور انہیں “ایک شاندار چیمپئن، ایک نئے چیمپئن” قرار دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ عراق اپنے تیل کے وسائل کے باعث “غیر معمولی صلاحیت” رکھتا ہے۔

علی الزیدی نے عراق کی تیل پالیسی کی ترجیحات بھی بیان کیں اور وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ عراق کو تنظیمِ ممالک برائے برآمدِ تیل (اوپیک) میں “منصفانہ حصہ” چاہیے، کیونکہ بغداد تیل پیداوار کے لیے اپنا کوٹہ بڑھانے کا خواہاں ہے۔

وائٹ ہاؤس میں یہ ملاقات عراق میں وزارتِ عظمیٰ کے منصب سے متعلق کئی ماہ تک جاری سیاسی جوڑ توڑ کے بعد ہوئی۔ رواں سال کے آغاز میں ٹرمپ نے سابق عراقی وزیراعظم نوری المالکی کی نامزدگی کی علانیہ مخالفت کی تھی اور علی الزیدی کی حمایت کی تھی، جنہیں ایک ایسے کاروباری شخصیت کے طور پر پیش کیا گیا جن کا سیاست میں کوئی سابقہ نہیں تھا۔

نوری المالکی، جنہیں بڑے پیمانے پر ایک متنازع شخصیت اور ایران سے قریبی تعلقات رکھنے والا سمجھا جاتا ہے، اپریل میں اس دوڑ سے دستبردار ہو گئے، جس کے بعد علی الزیدی کی راہ ہموار ہوئی۔

عراق کی جدید سلامتی اور سیاسی صورتِ حال ۲۰۰۳ کی امریکا کی قیادت میں ہونے والی جنگ سے گہرا اثر لیتی ہے، جس کے بعد مختلف نیم فوجی گروہوں نے اپنا اثر بڑھایا اور وہ آج تک طاقت کے مراکز میں شمار ہوتے ہیں۔ وزیراعظم کے طور پر پارلیمان میں اپنی پہلی تقریر میں علی الزیدی نے ملک کے مختلف نیم فوجی دھڑوں کو غیر مسلح کرنے کا عہد کیا، تاہم انہوں نے عوامی سطح پر یہ واضح نہیں کیا کہ وہ اس ہدف کو کیسے حاصل کریں گے۔

مسلح گروہوں اور امریکی افواج کے حوالے سے کشیدگی اس وقت سے جاری ہے جب داعش (آئی ایس آئی ایل) کے ساتھ تنازع کے دوران امریکی فورسز تعینات کی گئیں۔ عراق نے ۲۰۱۷ میں داعش کے خلاف فتح کا باضابطہ اعلان کیا تھا، لیکن اس کے بعد کے حالات نے ریاستی صلاحیت اور تعمیرِ نو کی کوششوں کو مسلسل دباؤ میں رکھا ہے۔

علی الزیدی کے واشنگٹن روانہ ہونے سے کچھ پہلے “اسلامی مزاحمتِ عراق” نے—جو خطے میں، بشمول عراق، ایران نواز مسلح گروہوں کا ایک چھتری تلے اتحاد بتایا جاتا ہے—اعلان کیا کہ وہ علی الزیدی کے دورۂ امریکا کے کسی بھی نتیجے کو مسترد کرے گا، جس سے سلامتی وعدوں اور خارجہ پالیسی فیصلوں کے ساتھ جڑے داخلی خطرات نمایاں ہوئے۔

یہ سفارتی سرگرمی ایک وسیع تر علاقائی جنگ کے دوران آگے بڑھ رہی ہے۔ عراق کو ان متعدد محاذوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے جو ۲۸ فروری سے شروع ہونے والی امریکا-اسرائیل جنگِ ایران میں نمایاں ہوئے، اور اس کشیدگی کے مزید بڑھنے کا سایہ علی الزیدی کے دورے اور عراق کی معاشی استحکام کی کوششوں پر بھی پڑ رہا ہے۔

عراق کی معاشی کمزوری کو اس صورتحال نے مزید بڑھایا ہے کہ ایران نے عملاً آبنائے ہرمز کو بند کر دیا، جہاں سے عراق کی یومیہ ۳.۴ ملین بیرل کے لگ بھگ فوسل فیول کی برآمدات کا تقریباً ۹۰ فیصد گزرتا ہے۔ اس رکاوٹ نے برآمدات کے تسلسل اور آمدنی کے استحکام کے بارے میں عراقی خدشات میں اضافہ کیا ہے۔

حالیہ لڑائی نے جون میں طے پانے والی ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے بارے میں بھی غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، جس میں لڑائی کے عارضی خاتمے، آبنائے ہرمز کے کھلنے اور ایران پر امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔

اسی پس منظر میں علی الزیدی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اوپیک میں عراق کے بلند تر کوٹے کی کوشش داعش کے خلاف جنگ کے بعد تعمیرِ نو کی ضروریات، جبری نقل مکانی کے جاری بوجھ اور تباہ شدہ رہائش گاہوں سے جڑی ہوئی ہے۔

وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ نے کہا کہ عراق کی معاشی امیدیں بڑی حد تک اس کے توانائی وسائل سے وابستہ ہیں اور انہوں نے تجارتی سرگرمی میں اضافے کی اپنی توقعات بیان کیں۔ انہوں نے کہا: “عراق میں غیر معمولی صلاحیت ہے، ان کے تیل کی وجہ سے اور دیگر چیزوں کی وجہ سے بھی، لیکن ان کے تیل کی وجہ سے، اور ہم بہت سے معاہدے کرنے جا رہے ہیں۔”

ٹرمپ نے مجوزہ معاہدوں کو روزگار اور پیداوار میں اضافے سے بھی جوڑا۔ انہوں نے کہا: “ہم دونوں ممالک کے لیے بہت سی نوکریاں پیدا کریں گے، اور ہم بہت سا تیل نکالیں گے۔ بہت سا تیل نکل رہا ہے۔”

علی الزیدی نے اس دورے کو دو طرفہ تعلقات میں ایک فیصلہ کن موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ “یہ دورہ کسی دوسرے دورے جیسا نہیں” اور اسے “معاشی شراکت داری” کی ابتداء بتایا۔ ان کے مطابق امریکا اور عراق کے تعلقات “فوجی سے معاشی” سمت میں منتقل ہو رہے ہیں۔

توانائی پالیسی کے حوالے سے علی الزیدی نے کہا کہ عراق کو اوپیک میں “منصفانہ حصہ” درکار ہے اور انہوں نے اس مطالبے کو جنگ کے اخراجات اور جاری نقل مکانی سے جوڑا۔ انہوں نے کہا: “عراق کو ہونے والا نقصان ۴۰۰ ارب ڈالر سے زیادہ ہے، اور آج تک کچھ عراقیوں کے گھر تباہ ہیں اور وہ کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ میرے پاس انہیں ان کے گھروں میں واپس بھیجنے کا منصوبہ ہے، اور اسی لیے میں اوپیک میں عراق کے لیے منصفانہ حصہ چاہتا ہوں۔”

اگرچہ علی الزیدی نے مسلح دھڑوں کو غیر مسلح کرنے کے اپنے ارادے کا اعادہ کیا، تاہم فراہم کردہ مواد کے مطابق انہوں نے عوامی طور پر یہ واضح نہیں کیا کہ وہ اس مقصد کو کیسے پورا کریں گے، اور کم از کم ایک بڑے چھتری گروہ “اسلامی مزاحمتِ عراق” نے کہا ہے کہ وہ واشنگٹن دورے کے کسی بھی نتیجے کو مسترد کرے گا۔

دونوں رہنماؤں کے بیانات میں ۳۰ ستمبر کے لیے دو متوازی اہداف طے کیے گئے: عراق میں موجود باقی امریکی افواج کا مکمل انخلا—جن کی تعداد کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ۲ ہزار سے کم ہے—اور علی الزیدی کے اعلان کے مطابق ملک بھر میں سرگرم مسلح دھڑوں کا غیر مسلح ہونا۔

عراق نے دورے سے قبل کہا تھا کہ علی الزیدی کے امریکی دورے کے دوران تیل اور گیس کے کئی معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں۔ تاہم فراہم کردہ مواد میں نہ تو کسی دستخط شدہ معاہدے کی مزید تفصیلات دی گئی ہیں، نہ ۳۰ ستمبر کے سلامتی سے متعلق وعدوں پر عملدرآمد کے طریقہ کار کی وضاحت موجود ہے، اور نہ ہی جاری علاقائی تنازع کے دوران جون کی ایم او یو کی موجودہ حیثیت بیان کی گئی ہے۔ مزید سرکاری معلومات کا انتظار ہے۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!